جناب حجۃ الاسلام و المسلمین سید مرتضی الکشمیری دام عزہ :
حضرت زھراء علیھا السلام ، اپنی ازدواجی زندگی میں امت اسلامیہ کے لئے اعلی ترین مثال اور صالح اسوہ حسنہ ہیں۔
انتہا پسندوں اور تکفیریوں کی جانب سے عالم اسلام کو درپیش خطرات اور چیلنجز۔
عراقی فوج ، عوامی گروہوں، سیکورٹی فورسز اور قبائلیوں کی طرف سے دہشتگردوں کو ان کے قبضہ کئے ہوئے علاقوں سے نکالنے پر کامیابیوں کی طرف اشارہ۔
نمازگزاروں سے عر اق کے فوجی رضا کاروں کی مدد کرنے کے لئے دعا کی اپیل، چاہے وہ ہر نماز کے بعدہی ان کے دشمنوں پر کامیابی کی دعا کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
28 جمادى الاولى 1436هـ

قبلہ مولانا کشمیری صاحب نے یہ بات مانچسٹر میں نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران حضرت فاطمہ ؑ کی شھادت کے ایام کی مناسبت سے بیان فرمائی۔آپ نے کہا:جس طرح رسول کریم ؐ نے حضرت زھرا ؑء کو سیدۃ نساء العالمین کا لقب دیا ہے،اسی طرح آپ ؑ اپنی حیات کی تمام صفات اور خصوصیات میں سب سے اعلی مقام رکھتی تھیں او رمسلمان خواتین کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی سب شریف اور آزاد خواتین کے لئے اسوہ حسنہ ہیں، چاہے ان کا کوئی بھی دین اور عقیدہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ بعض مصلح لوگوں نے حضرت زھرا ؑ کی ولادت کے دن کو عورتوں کا عالمی دن قرار دیا ہے۔

ہمیں حضرت زھرا ؑ ءکی زندگانی سے درس حاصل کرنا چاہئے۔ حضرت زھراؑ ءکی شادی آپ ؑ ہی کے چچا کے بیٹے سے ہوئی کہ اگر مولا امیر المؤمنین ؑ نہ ہوتے تو حضرت زھراؑ ءکا کوئی کفو نہ ہوتا۔ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ دنیا بھرمیں نہ پہلے کبھی اور نہ مستقبل میں روحانی ، نفسانی ، ایمانی اور جسمانی صفات کے اعتبار سےکوئی خاتون اس درجے تک نہیں پہنچے گی کہ جس عظیم درجے پر حضرت زھرا ؑء فائز ہیں۔بس ہمارے لئے آپؑ کی زندگانی سے ، آپ ؑ کے صفات اور کمالات میں پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔پس ایک شادی شدہ عورت پر لازم ہے کہ اس کی شادی کا مقصد اپنے آپ کو حرام میں واقع ہونے سے بچانا

اوردین حنیف کے فرامین کی پیروی کرنے پر اپنے خاندان کو پابند کرنا ہے۔ اس عظیم مقصد کو اگر حاصل کرلیا گیا تو دیگر مقاصد کا حصول آسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ مومنہ خاتون سے شادی کرتے وقت اس طور طریقہ کا خیال کیا جائے۔رسول کریم ؐ کا فرمان ہے:‘‘ان خیر نسائکم الولود والودود، الستیرہ العفیفہ، العزیزۃ فی اھلھا، الذلیلۃ مع بعلھا۔۔۔۔’’ (الکافی، ج۵، حدیث۹۴۵۵،)آپ کی عورتوں میں سے بہترین وہ ہیں کہ جو مائیں بن سکیں اور محبت کرنے والی ہوں، اپنے آپ کو ڈھانپتی ہوں اور عفت وحیا کی مالک ہوں۔اپنے رشتہ داروں میں عزیزاور اپنے شوہر تابع فرمان ہو۔

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ؐ ہے:‘‘ ما استفاد امرؤ فائدۃ بعد الاسلام افضل من زوجۃ مسلمۃ، تسرہ اذا نظر الیھا، و تطیعہ اذا امرھا و تحفظہ اذاغاب عنھا فی نفسھا و مالہ’’۔ مسلمان بیوی سے بڑھ کر کسی بھی شخص نے اسلام لانے کے بعد اتنا کا فائدہ نہیں اٹھایا کہ وہ ب اپنی بیوی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کردےاور جب کوئی کام کہے تو اس کی اطاعت کرےاور جب وہ سفر پر جائے تو اپنی اور اس کے شوہر کے مال کی حفاظت کرے۔(جامع احادیث الشیعۃ، ج۲۰، ص۳۸، حدیث ۱۳۰، ۱۳۱، ۱۳۲)

اس کے بعد قبلہ کشمیری صاحب نے حضرت زھرا ؑ ءکی شادی کے سلسلہ میں بات کرتے ہوئےکہا:آپ ؑ کا حق مہر پانج سو درھم تھا(اس کو مہر السُنہ کہا جاتا ہے)۔ علاوہ ازیں عام گھریلو سامان بھی شامل تھا کہ جسے رسول خدا ؐ ، آپ کی ازواج اور مہاجرین اور انصار کی خواتین نے دیا تھا۔ رسول اکرم ؐ نے مسجد نبوی شریف کے بالکل پہلو میں ان کے لئے ایک گھر کا بھی بندوبست فرمایا۔

قبلہ کشمیری صاحب نے کہا: دوسری جانب امام علی ؑ اپنے اھل خانہ کے ساتھ گھریلو امور میں روحانی اور نفسانی طور پر مدد فرماتے تھے ۔اس تعاون پر آسمان پر رہنے والے ملائکہ کو بھی تعجب ہوتاتھا۔ یہ تعاون پوری قوم کی خواتین کے لئے نمونہ علم اور بہترین مثال ہونی چاہئے۔حضرت زھرا ؑ ءکے گھر کا ماحول خصوصا آپ کی اولاد امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کی ولادت اور اسی طرح حضرت زینب ؑ اورحضرت ام کلثوم ؑ کی ولادت کے بعدعطوفت اور مہربانی والا ماحول تھا۔ اے کاش !مسلمان خواتین بھی حضرت فاطمہؑ اور حضرت علی ؑ کی زندگانی کے اس دور سےآگاہی حاصل کرتے اور دارین کی سعادت حاصل کرنے کے لئے ان سے بہترین درس حاصل کرتے۔

قبلہ کشمیری صاحب نے دوسرے خطبے میں دنیا بھر کے عام حالات اور خاص طور پر عراق کی موجودہ صورت حال کے بارے میں انتہا پسندوں اور تکفیریوں کی جانب سے عالم اسلام کو در پیش خطرات کو بیان کیا اور اس بارے میں تاکید کرتے ہوئے کہا: آج ان دہشت گردوں کے خلاف عراقی فوج، پولیس، عوامی گروہوں ، سیکورٹی فورسز اور قبائل کی جانب سے کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں۔ ان لوگوں نے عراق میں فساد مچا رکھا ہے اور شیعہ سنی اور عیسائی وغیرہ کی تفریق کے بغیر سب کے سب عراق کی سر زمین اور اس کے مقدسات کا دفاع کررہےہیں۔آخر میں قبلہ صاحب نے نماز جمعہ میں حاضر مؤمنین سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ سبحانہ وتعالی کی بارگاہ میں عراق میں انتہا پسندوں کے خلاف کامیابیوں کے لئے دعا کریں ۔ انہ سمیع مجیب

‘‘انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیاۃ الدنیا و یوم یقوم الاشھاد’’ (غافر آیۃ ۵۱)