جناب حجۃ الاسلام و المسلمین سید مرتضی الکشمیری دام عزہ نے کہا:
چہاردہ معصومین ؑ میں حضرت فاطمۃ الزھرا ؑء کی ایک خاص منزلت ہے۔
حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی سیستانی مدظلہ کے فتوی نے عراقیوں کو متحد کردیا، ان کی سر زمین اور مسلمانوں کے مقدسات کی حفاظت کی ۔
29 جمادى الاولى 1436هـ

یہ بات قبلہ کشمیری صاحب نے مانچسٹر کے جعفریہ سنٹر میں مسلمانوں سے اپنے خطاب میں کہی۔

سب سے پہلے قبلہ صاحب نے حضرت فاطمۃ الزھرا ؑ ءکی شان میں قرآن کریم میں نازل ہونے والی آیات کو بیان کیا۔ جیسے آیۃ تطہیر، مباھلہ، رسالۃ، کوثر، ابرار وغیرہ کہ جن میں آپ کی منزلت بنیادی رہی ہے۔ اس کے بعد آپ نے بی بی ؑ کی شان میں ان احادیث نبوی شریف کو بیان کیا کہ جن سے فریقین کی صحاح اور مسانید بھری پڑی ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے آئمۃ طاہرین ؑ کی طرف سے ان اقوال کو پیش کیا کہ جن میں چہاردہ معصومین ؑ کے درمیان اپنی جدہ طاہرہ ؑ کے عظیم مقام و منزلت کے متعلق اشارہ ہوا ہے کہ:حضرت فاطمہ ؑ ، آئمہ ؑ پر حجت ہیں جیسا کہ آئمہ علیھم السلام پوری مخلوق پر حجت خدا ہیں۔

اسی بات کی طرف امام حسن عسکری ؑ کا یہ قول اشارہ کر رہا ہے:نحن حجج اللہ علی خلقہ و جدتنا حجۃ علینا۔ (أطيب البيان ج 13 ص 225 ، تفسير فارسي)
یہ حدیث اور حضرت زھرا ؑ ءکی اولاد آئمہ طاہرین ؑ کے بارے نقل ہونے والی دیگر احادیث سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ائمہ طاہرین ؑ زمین پر مخلوق کے لئے امان کے ستارے ہیں کہ جو ان کو امان کے راستے کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا ہے: مثل اھل بیتی، کمثل نجوم السما، فھم امان لاھل الارض، کما ان النجوم امان لاھل السما، فاذا ذھبت النجوم طویت السما، واذا ذھب اھل بیتی خربت الارض۔ (المعتبر، المحقق الحليّ، ج1، ص24)

اور آج کے دور میں بھی ہم آئمہ علیہم السلام کے نور ہدایت کو دیکھ رہے ہیں کہ جو ان کے نائبین نے اپنے الہی فتاویٰ کے ذریعے ہمارے لئے شمع ہدایت و حکمت و مصلحت روشن کی ہے۔ ان فتاویٰ کی وجہ سے کئی خون محفوظ ہوئے، مقدسات دینی کی حفاظت ہوئی اوریہ مسلمانوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی ایجاد کرنے کا سبب بنے۔ان فتاویٰ کی وجہ سے دہشت گردوں اور تکفیریوں کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پرعراق کے مختلف صوبوں میں دشمنوں پرمجاہدین کی استقامت کی وجہ سے حالیہ کامیابیاں بھی مرجعیت اعلیٰ کی ان تاریخی ہدایات کی روشنی میں ہوئی ہیں کہ جنہیں مرجعیت اعلیٰ نے حال ہی میں بیان فرمایا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالی اپنی قدرت کے ذریعہ ان مجاہدین کو ان کے مقاصد میں کامیابی اور کامرانی عطا کرے۔ انہ علی نصرھم لقدیر
قبلہ مولانا کشمیری صاحب نےآخر میں حاضرین کےمختلف فقہ، عقائد، تاریخ اور سیاست کے متعلق سوالات کا جواب دیا ۔