جناب حجۃ الاسلام و المسلمین سید مرتضی الکشمیری دام عزہ نےمشرقی لندن میں نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا:
حضرت فاطمۃ الزھرا ؑء نبوت اور امامت میں ایک لنک اور رابطہ ہیں اور آپ ؑ ہی قیامت تک کے لئے نسل رسول ؐ کوباقی رکھنے اور اسے توسیع دینے کا ذریعہ ہیں۔
بعض جائزوں کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت سادات کی تعداد تیس لاکھ سے زائد بیان کی گئی ہے۔
عراق میں مجاہدین کی ہمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دشمنان خدا و رسولؐ و انسانیت کے خلاف یکجا اور ہم اہنگ ہونے کا مطالبہ کیا اور نمازگزاروں سےعر اق میں فوجی رضا کاروں کی کامیابی کے لئے دعا کی اپیل کی۔
6 جمادى الاخرة 1436هـ

قبلہ کشمیری صاحب نے سورہ کوثر کی تلاوت سے آغاز کرتے ہوئے کہا: اگرچہ مفسرین نے کوثر کے معانی میں اختلاف کیا ہے، لیکن اکثر تفاسیر نے اس بات کی طرف اشارہ کیاہے کہ کوثر سے مراد حضرت زہرا ؑ ء ہیں اور اس کی وجہ آیۃ مبارکہ کے سیاق کی دلالت اور اس کا سبب نزول ہے جو اس معنی کی طرف اشارہ کررہاہے۔ عاص بن وائل السھمی، رسول خدا ؐ کو ابتر کہہ کر پکارتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب رسول خدا ؐ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو ان کی کوئی نسل اور سلسلہ باقی نہیں رہے گا۔ اس لئے کہ حضرت خدیجہ ؑ وغیرہ میں سے سب بچےآپ ؐ کی حیات میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے حبیب ؐ کو صدیقہ طاہرہ ؑ عطا فرمائیں کہ جو قیامت تک نسل رسول ؐ کی بقا کا سبب ہیں۔بعض جائزوں میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت حضرت علی ؑ و فاطمہ ؑ کی نسل میں سے تیس لاکھ سے زائد لوگ موجودہیں۔

کان نسل النبی بنتا فاضحی مثل نبت الربیع عم البسیطا

حالانکہ عاص بن وائل وغیرہ کی نسل منقطع ہو گئی اور نسل رسول خدا ؐ پو ری دنیا کو منور کئے ہوئے ہے اور ان کے صالحین انسانیت کی ہدایت کر رہے ہیں۔یہ ایک طرف تو دوسری جانب حضرت زہرا ؑ ء نبوت اور امامت کے درمیان ایک رابطہ اور لنک ہیں ۔ آپ ؑ اُم الآئمہ علیھم السلام ہیں کہ جو زمین پر انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کرتے ہیں اور الہی رسالت کو ہر قسم کے شبھے اور تحریف سے محفوظ رکھتے ہیں۔

اس کے بعد قبلہ کشمیری صاحب نے ان مجاہدین کو جو اللہ اور انسانیت کے دشمنوں سے بر سر پیکار ہیں، مخاطب فرماتے ہوئے کہاکہ آپ صبر، ثابت قدمی، حوصلے اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے قدم بڑھائیں تو ہر جگہ کے مؤمنین کی دعا کے ساتھ کامیابی آپ کے قدم چومے گی اور یہ بات بھی جان لیں کہ ان مجاہدین کا یہ موقف کہ جس کے ذریعہ وہ غیبت کے زمانے میں امام ؑ کے حقیقی نائب کے فرامین کی روشنی میں عراق اوروہاں کے مقامات مقدسہ کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، یہ اللہ تعالی کی ان پرعظیم نعمات میں سے ہے آخر میں مؤمنین سے عراق میں انتہا پسندوں کے خلاف مجاہدین کی مزید کامیابیوں کے لئے دعاکرنے کی اپیل کی ۔

‘‘انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیاۃ الدنیا و یوم یقوم الاشھاد’’ (غافر آیۃ ۵۱)