لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

استحالہ

ص:49

196۔ اگر کسی نجس چیز کی جنس یوں بدل جائے کہ ایک پاک چیز کی شکل اختیار کرلے تو وہ پاک ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر نجس لکڑی جل کر راکھ ہو جائے یا کتا نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے۔ لیکن اگر اس چیز کی جنس نہ بدلے مثلاً نجس گیہوں کا آٹا پیس لیا جائے یا (نجس آٹے کی) روٹی پکالی جائے تو وہ پاک نہیں ہوگی۔

197۔ مٹی کا لوٹا اور دوسری ایسی چیزیں جو نجس مٹی سے بنائی جائیں نجس ہیں لیکن وہ کوئلہ جو نجس لکڑی سے تیار کیا جائے اگر اس میں لکڑی کی کوئی خاصیت باقی نہ رہے تو وہ کوئلہ پاک ہے۔

198۔ ایسی نجس چیز جس کے متعلق علم نہ ہو کہ آیا اس کا استحالہ ہوا یا نہیں (یعنی جنس بدلی سے یا نہیں) نجس ہے۔