لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
99 اگر شراب خود بخود یا کوئی چیز ملانے سے مثلا سر کہ اور نمک ملانے سے سرکہ بن جائے تو پاک ہو جاتی ہے۔
200۔ وہ شراب جو نجس انگور یا اس جیسی کسی دوسری چیز سے تیار کی گئی ہو یا کوئی نجس چیز شراب میں گر جائے تو سرکہ بن جانے سے پاک نہیں ہوتی۔
201۔نجس انگور، نجس کشمش اور نجس کھجور سے جو سرکہ تیار کیا جائے وہ نجس ہے۔
202۔ اگر انگور یا کھجور کے ڈنٹھل بھی ان کے ساتھ ہوں اور ان سے سرکہ تیار کیا جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اسی برتن میں کھیرے اور بینگن وغیرہ ڈالنے میں بھی کوئی خرابی نہیں خواہ انگور یا کھجور کے سرکہ بننے سے پہلے ہی ڈالے جائیں بشرطیکہ سرکہ بننے سے پہلے ان میں مشہ نہ پیدا ہوا ہو۔
203۔ اگر انگور کے رس میں آنچ پر رکھنے سے یا خود بخود جوش آجائے تو وہ حرام ہوجاتا ہے اور اگر وہ اتنا ابل جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ کم ہوجائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے تو حلال ہو جاتا اور مسئلہ (114) میں بتایا جا چکا ہے کہ انگور کا رس جوش دینے سے نجس نہیں ہوتا۔
204۔ اگر انگور کے رس کا دو تہائی بغیر جوش میں آئے کم ہوجائے اور جو باقی بچے اس میں جوش آجائے تو اگر لوگ اس انگور کارس کہیں، شیرہ نہ کہیں تو احتیاط لازم کی بنا پر وہ حرام ہے۔
ص:50
205۔اگر انگور کے رس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ جوش میں آیا ہے یا نہیں تو وہ حلال ہے لیکن اگر جوش میں آجائے اور یہ یقین نہ ہو کہ اس کا دو تہائی کم ہوا ہے یا نہیں تو وہ حلال نہیں ہوتا۔
206۔ اگر کچے انگور کے خوشے میں کچھ پکے انگور بھی ہوں اور جو رس اس خوشے سے لیا جائے اسے لوگ انگور کا رس نہ کہیں اور اس میں جوش آجائے تو اس کا پینا حلال ہے۔
207۔ اگر انگور کا ایک دانہ کسی ایسی چیز میں گر جائے جو آگ پر جوش کھارہی ہو اور وہ بھی جوش کھانے لگے لیکن وہ اس چیز میں حل نہ ہو تو فقط اس دانے کا کھانا حرام ہے۔
208۔ اگر چند دیگوں میں شیرہ پکایا جائے تو جو چمچہ جوش میں آئی ہوئی دیگ میں ڈالا جا چکا ہو اس کا ایسی دیگ میں ڈالنا بھی جائز ہے جس میں جوش نہ آیا ہو۔
209۔ جس چیز کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کچے انگوروں کا رس ہے یا پکے انگوروں کا اگر اس میں جوش آجائے تو حلال ہے۔