لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

ان چیزوں کے احکام جو روزے کو باطل کرتی هیں

1662۔ اگر انسان جان بوجھ کر اور اختیار کے ساتھ کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا هو تو اس کا روزه باطل هو جاتا هے اور اگر کوئی ایسا کام جان بوجھ کر نه کرے تو پھر اشکال نهیں لیکن اگر جنب سوجائے اور اس تفصیل کے مطابق جو مسئله 1639 میں بیان کی گئی هے صبح کی اذان تک غسل نه کرے تو اس کا روزه باطل هے۔ چنانچه اگر انسان نه جانتا هو که جو باتیں بتائی گئی هیں ان میں سے بعض روزے کو باطل کرتی هیں یعنی جاهل قاصر هو اور انکار بھی نه کرتا هو (بالفاظ دیگر مقصر نه هو) یا یه که شرعی حجت پر اعتماد رکھنا هو اور کھانے پینے اور جماع کے علاوه ان افعال میں سے کسی فعل کو انجام دے تو اس کا روزه باطل نهیں هوگا۔

1623۔ اگر روزه دار سهواً کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا هو اور اس کے گمان سے که اس کا روزه باطل هوگیا هے دوباره عمداً کوئی اور ایسا هی کام کرے تو اس کا روزه باطل هوجاتا هے۔

1664۔ اگر کوئی چیز زبردستی روزه دار کے حلق میں انڈیل دی جائے تو اس کا روزه باطل نهیں هوتا لیکن اگر اسے مجبور کیا جائے مثلاً اسے کها جائے که اگر تم غذا نهیں کھاو گے تو هم تمهیں مالی یا جانی نقصان پهنچائیں گے اور وه نقصان سے بچنے کے لئے اپنے آپ کچھ کھالے تو اس کا روزه باطل هو جائے گا۔

1665۔ روزه دار کو ایسی جگه نهیں جانا چاهئے جس کے بارے میں وه جانتا هو که لوگ کوئی چیز اس کے حلق میں ڈال دیں گے یا اسے روزه توڑنے پر مجبور کریں گے اور اگر ایسی جگه جائے یا به امر مجبوری وه خود کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو

ص:311

باطل کرتا هو تو اس کا روزه باطل هوجاتا هے۔ اور اگر کوئی چیز اس کے حلق میں انڈیل دیں تو احتیاط لازم کی بنا پر یهی حکم هے۔