لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
750۔ انسان نماز میں اس وقت مشغول هو سکتا هے جب اسے یقین هو جائے که وقت داخل هوگیا هے یا دو عادل مرد وقت داخل هوگیا هے یا دو عادل مرد وقت داخل هونے کی خبر دیں بلکه کسی وقت شناس شخص کی جو قابل اطمینان هو اذان پر یا وقت داخل هونے کے بارے میں گواهی پر بھی اکتفا کیا جاسکتا هے۔
ص:156
751۔ اگر کوئی شخص کسی ذاتی عذر مثلاً بینائی نه هونے یا قید خانے میں هونے کی وجه نماز کا اول وقت داخل هونے کا یقین نه کرسکے تو ضروری هے که نماز پڑھنے میں تاخیر کرے حتی که اسے یقین یا اطمینان هو جائے که وقت داخل هوگیا هے۔ اسی طرح اگر وقت داخل هونے کا یقین هونے میں ایسی چیز مانع هو جو مثلاً بادل، غبار یا ان جیسی دوسری چیزوں (مثلاً دھند) کی طرح عموماً پیش آتی هو تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کے لئے بھی یهی حکم هے۔
752۔ اگر مذکوره بالا طریقے سے کسی شخص کو اطمینان هو جائے که نماز کا وقت هو گیا هے اور وه نماز میں مشغول هو جائے لیکن نماز کے دوران اسے پته چلے که ابھی وقت داخل نهیں هوا تو اس کی نماز باطل هے اور اگر نماز کے بعد پته چلے که اس نے ساری نماز وقت سے پهلے پڑھی هے تو اس کے لئے بھی یهی حکم هے لیکن اگر نماز کے دوران اسے پته چلے که وقت داخل هوگیا هے یا نماز کے بعد پته چلے که نماز پڑھتے هوئے وقت داخل هوگیا تھا تو اس کی نماز صحیح هے۔
753۔ اگر کوئی شخص اس امر کی جانب متوجه نه هو که وقت کے داخل هونے کا یقین کرکے نماز میں مشغول هونا چاهئے لیکن نماز کے بعد اسے معلوم هو که اس نے ساری نماز وقت میں پڑھی هے تو اس کی نماز صحیح هے اور اگر اسے یه پته چل جائے که اس نے وقت سے پهلے نماز پڑھی هے یا اسے یه پته نه چلے که وقت میں پڑھی هے یا وقت سے پهلے پڑھی هے تو اس کی نماز باطل هے بلکه اگر نماز کے بعد اسے پته چلے که نماز کے دوران وقت داخل هوگیا تھا تب بھی اسے چاهئے که اس نماز کو دوباره پڑھے۔
754۔ اگر کسی شخص کو یقین هو که وقت داخل هوگیا هے اور نماز پڑھنے لگے لیکن نماز کے دوران شک کرے که وقت داخل هوا هے یا نهیں تو اس کی نماز باطل هے لیکن اگر نماز کے دوران اسے یقین هو که وقت داخل هوگیا هے اور شک کرے که جتنی نماز پڑھی هے وه وقت میں پڑھی هے یا نهیں تو اس کی نماز صحیح هے۔
755۔ اگرنماز کا وقت اتنا تنگ هو که نماز کے بعد مستحب افعال ادا کرنے سے نماز کی کچھ مقدار وقت کے بعد پڑھنی پڑتی هو تو ضروری هے که وه مستحب امور کو چھوڑ دے مثلاً اگر قنوت پڑھنے کی وجه سے نماز کا کچھ حصه وقت کے بعد پڑھنا پڑتا هو تو اسے چاهئے که قنوت نه پڑھے۔
756۔ جس شخص کے پاس نماز کی فقط ایک رکعت ادا کرنے کا وقت هو اسے چاهئے که نماز ادا کی نیت سے پڑھے البته اسے جان بوجھ کر نماز میں اتنی تاخیر نهیں کرنی چاهئے۔
ص:157
757۔ جو شخص سفر میں نه هو اگر اس کے پاس غروب آفتاب تک پانچ رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت هو تو اسے چاهئے که ظهر اور عصر کی دونوں نمازیں پڑھے لیکن اگر اس کے پاس اس سے کم وقت هو تو اسے چاهئے که ظهر اور عصر کی دونوں نمازیں پڑھے لیکن اگر اس کے پاس اس سے کم وقت هو تو اسے چاهئے که صرف عصر کی نماز پڑھے اور بعد میں ظهر کی نماز قضا کرے اور اسی طرح اگر آدھی رات تک اس کے پاس پانچ رکعت پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت هو تو اسے چاهئے که مغرب اور عشا کی نماز پڑھے اور اگر وقت اس کم هو تو اسے چاهئے که صرف عشا کی نماز پڑھے اور بعد میں ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر نماز مغرب پڑھے۔
758۔ جو شخص سفر میں هو اگر غروب آفتاب تک اس کے پاس تین رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت هو تو اسے چاهئے که ظهر اور عصر کی نماز پڑھے اور اگر اس سے کم وقت هو تو چاهئے که صرف عصر پڑھے اور بعد میں نماز ظهر کی قضا کرے اور اگر آدھی رات تک اس کے پاس چار رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت هو تو اسے چاهئے که مغرب اور عشا کی نماز پڑھے اور اگر نماز کے تین رکعت کے برابر وقت باقی هو تو اسے چاهئے که پهلے عشا کی نماز پڑھے اور بعد میں مغرب کی نماز بجا لائے تاکه نماز مغرب کی ایک رکعت وقت میں انجام دی جائے، اور اگر نماز کی تین رکعت سے کم وقت باقی هو تو ضروری هے که پهلے عشا کی نماز پڑھے اور بعد میں مغرب کی نماز ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے اور اگر عشا کی نماز پڑھنے کے بعد معلوم هو جائے که آدھی رات هونے میں ایک رکعت یا اس سے زیاده رکعتیں پڑھنے کے لئے وقت باقی هے تو اسے چاهئے که مغرب کی نماز فوراً ادا کی نیت سے بجالائے۔
759۔ انسان کے لئے مستحب هے که نماز اول وقت میں پڑھے اور اس کے متعلق بهت زیاده تاکید کی گئی هے اور جتنا اول وقت کے قریب هو بهتر هے ماسوا اس کے که اس میں تاخیر کسی وجه سے بهتر هو مثلاً اس لئے انتظار کرے که نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔
760۔ جب انسان کے پاس کوئی ایسا عذر هو که اگر اول وقت میں نماز پڑھنا چاهے تو تیمم کر کے نماز پڑھنے پر مجبور هو اور اسے علم هو که اس کا عذر آخر وقت تک باقی رهے گا یا آخر وقت تک عذر کے دور هونے سے مایوس هو تو وه اول وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا هے لیکن اگر مایوس نه هو تو ضروری هے که عذر دور هونے تک انتظار کرے اور اگر اس کا عذر دور نه هو تو آخر وقت میں ماز پڑھے اور یه ضروری نهیں که اس قدر انتظار کرے که نماز کے صرف واجب افعال انجام دے سکے بلکه اگر اس کے پاس مستحبات نماز مثلاً اذان، اقامت اور قنوت کے لئے بھی وقت هو تو وه تیمم کرکے ان مستحبات کے
ص:158
ساتھ نماز ادا کر سکتا هے اور تیمم کے علاوه دوسری مجبوریوں کی صورت میں اگرچه عذر دور هونے سے مایوس نه هوا هو اس کے لئے جائز هے که اول وقت میں نماز پڑھے۔ لیکن اگر وقت کے دوران اس کا عذر دور هو جائے تو ضروری هے که دوباره نماز پڑھے۔
761۔ اگر ایک شخص نماز کے مسائل اور شکیات اور سهویات کا علم نه رکھتا هو اور اسے اس بات کا احتمال هو که اسے نماز کے دوران ان مسائل میں سے کوئی نه کوئی مسئله پیش آئے گا اور اس کے یاد نه کرنے کی وجه سے کسی لازمی حکم کی مخالفت هوتی هو تو ضروری هے که انهیں سیکھنے کے لئے نماز کو اول وقت سے موخر کر دے لیکن اگر اسے امید هو که صحیح طریقے سے نماز انجام دے سکتا هے۔ اور اول وقت میں نماز پڑھنے میں مشغول هو جائے پس اگر نماز میں کوئی ایسا مسئله پیش نه آئے جس کا حکم نه جانتا هو تو اس کی نماز صحیح هے۔ اور اگر کوئی ایسا مسئله پیش آجائے جس کا حکم نه جانتا هو تو اس کے لئے جائز هے که جن دو باتوں کا احتمال هو ان میں سے ایک عمل کرے اور نماز ختم کرے تاهم ضروری هے که نماز کے بعد مسئله پوچھے اور اگر اس کی نماز باطل ثابت هو تو دوباره پڑھے اور اگر صحیح هو تو دوباره پڑھنا لازم نهیں هے۔
762۔ اگر نماز کو وقت وسیع هو اور قرض خواه بھی اپنے قرض کا مطالبه کرے تو اگر ممکن هو تو ضروری هے که پهلے قرضه ادا کرے اور بعد میں نماز پڑھے اور اگر کوئی ایسا دوسرا واجب کام پیش آجائے جسے فوراً بجا لانا ضروری هو تو اس کے لئے بھی یهی حکم هے مثلاً اگر دیکھے که مسجد نجس هوگئی هے تو ضروری هے که پهلے مسجد کو پاک کرے اور بعد میں نماز پڑھے اور اگر مذکوروه بالا دونوں صورتوں میں پهلے نماز پڑھے تو گناه کا مرتکب هوگا لیکن اس کی نماز صحیح هوگی۔