لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1916۔ اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری کی زکوٰۃ کے لئے ان شرائط کے علاوه جن کا ذکر آچکا هے ایک شرط اور بھی هے اور وه یه که حیوان سارا سال صرف (خودرو) جنگلی گھاس چرتا رها هو۔ لهذا اگر سارا سال یا اس کا کچھ حصه کاٹی هوئی گھاس کھائے یا ایسی چراگاه میں چرے جو خود اس شخص کی (یعنی حیوان کے مالک کی) یا کسی دوسرے شخص کی ملکیت هو تو اس حیوان پر زکوٰۃ نهیں هے لیکن اگر وه حیوان سال بھر میں ایک یا دودن مالک کی مملوکه گھاس (یاچارا)کھائے تو اس کی زکوٰۃ واجب هے۔ لیکن اونٹ، گائے اور بھیڑ کی زکوٰۃ واجب هونے میں احتیاط کی بنا پر شرط یه نهیں هے که سارا سال حیوان بے کار رهے بلکه اگر آبیاری یاهل چلانے یا ان جسے امور میں ان حیوانوں سے استفاده کیا جائے تو احتیاط کی بنا پر ضروری هے که ان کی زکوٰۃ دے۔