لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2605۔اگر اونٹ کو نحر کرنا مقصود هوتا که جان نکلنے کے بعد وه پاک اور حلال هوجائے تو ضروری هے که ان شرائط کے ساتھ جو حیوان کو ذبح کرنے کے لئے بتائی گئی هیں چھری یا کوئی اور چیز جو لوهے (یا اسٹیل) کی بنی هوئی اور کاٹنے والی هو اونٹ کی گردن اور سینے کے درمیان جوف میں گھونپ دیں۔ اور بهتر یه هے که اونٹ اس وقت کھڑا هو لیکن اگر وه گھٹنے زمین پر ٹیک دے یا کسی پهلو لیٹ جائے اور قبله رخ هو اس وقت چھری اس کی گردن کی گهرائی میں گھونپ دی جائے تو اشکال نهیں هے۔
2606۔ اگر ونٹ کی گردن کی گهرائی میں چھری گھونپنے کی بجائے اسے ذبح کیا جائے (یعنی اس کی گردن کی چار رگیں کاٹی جائیں) یا بھیڑ اور گائے اور ان جیسے دوسرے حیوانات کی گردن کی گهرائی میں اونٹ کی طرح چھری گھونپی جائے تو ان کا گوشت حرام اور بدن نجس هے لیکن اگر اونٹ کی چار رگیں کاٹی جائیں اور ابھی وه زنده هو تو مذکوره طریقے کے مطابق اس کی گردن کی گهرائی میں چھری گھونپی جائے تو اس گوشت حلال اور بدن پاک هے۔ نیز اگر گائے یا بھیڑ اور ان جیسے حیوانات کی گردن کی گهرائی میں چھری گھونپی جائے اور ابھی وه زنده هوں که انھیں ذبح کر دیا جائے تو وه پاک اور حلال هیں۔
2607۔ اگرکوئی حیوان سرکش هوجائے اور اس طریقے کے مطابق جو شرع نے مقرر کیا هے ذبح (یانحر) کرنا ممکن نه هو مثلاً کنویں میں گرجائے اور اس بات کا احتمال هو که وهیں مرجائے گا اور اس کا مذکوره طریقے کے مطابق ذبح (یانحر) کرنا ممکن نه هو تو اس کے بدن پر جهاں کهیں بھی زخم لگایا جائے اور اس زخم کے نتیجے میں اس کی جان نکل جائے وه حیوان
ص:494
حلال هے اور اس کا روبه قبله هونا لازم نهیں لیکن ضروری هے که دوسری شرائط حیوان کو ذبح کرنے کے بارے میں بتائی گئی هیں اس میں موجود هوں۔