لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1399۔ باپ نے اپنی کچھ نمازیں نه پڑھی هوں اور ان کی قضا پڑھنے پر قادر هو تو اگر اس نے امر خداوندی کی نامرمانی کرتے هوئے ان کو ترک نه کیا هو تو احیتاط کی بنا پر اسکے بڑے بیٹے پر واجب هے که باپ کے مرنے کے بعد اس کی قضا نمازیں پڑھے یا کسی کو اجرت دے کر پڑھوائے اور ماں کی قضا نمازیں اس پر واجب نهیں اگرچه بهتر هے (که ماں کی قضا نمازیں بھی پڑھے)۔
ص:272
1400۔ اگر بڑے بیٹے کو شک هو که کوئی قضا نماز اس کے باپ کے ذمے تھی یا نهیں تو پھر اس پر کچھ بھی واجب نهیں۔
1401۔ اگر بڑے بیٹے کو معلوم هو که اس کے باپ کے ذمے قضا نمازیں تھیں اور شک هو که اس نے وه پڑھی تھیں یا نهیں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که ان کی قضا بجالائے۔
1402۔ اگر یه معلوم نه هو که بڑا بیٹا کون سا هے تو باپ کی نمازوں کی قضا کسی بیٹے پر بھی واجب نهیں هے لیکن احتیاط مستحب یه هے که بیٹے باپ کی قضا نمازیں آپس میں تقسیم کرلیں بجالانے کے لئے قرعه اندازی کرلیں۔
1403۔ اگر مرنے والے نے وصیت کی هو که اس کی قضا نمازوں کے لئے کسی کو اجیر بنایا جائے (یعنی کسی سے اجرت پر نمازیں پڑھوائی جائیں) تو اگر اجیر اس کی نمازیں صحیح طور پر پڑھ دے تو اس کے بعد بڑے بیٹے پر کچھ واجب نهیں هے۔
1404۔ اگر بڑا بیٹا اپنی ماں کی قضا نمازیں پڑھنا چاهے تو ضروری هے که بلند آواز سے یا آهست نماز پڑھنے کے بارے میں اپنے وظیفے کے مطابق عمل کرے تو ضروری هے که اپنی ماں کی صبح، مغرب اور عشا کی قضا نمازیں بلند آواز سے پڑھے۔
1405۔ جس شخص کے ذمے کسی نماز کی قضا هو اگر وه باپ اور ماں کی نمازیں بھی قضا کرنا چاهے تو ان میں سے جو بھی پهلے بجالائے صحیح هے۔
1406۔ اگر باپ کے مرنے کے وقت بڑا بیٹا نابالغ یا دیوانه هو تو اس پر واجب نهیں که جب بالغ یا عاقل هو جائے تو باپ کی قضا نمازیں پڑھے۔
1407۔ اگر بڑا بیٹا باپ کی قضا نمازیں پرھنے سے پهلے مرجائے تو دوسرے بیٹے پر کچھ بھی واجب نهیں۔