لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

برتنوں کے احکام

233۔ جو برتن کتے، سور یا مردار کے چمڑے سے بنایا جائے اس میں کسی چیز کا کھانا پینا جب کہ تری اس کی نجاست کا موجب بنی ہو، حرام ہے اور اس برتن کو وضو اور غسل اور ایسے دوسرے کاموں میں استعمال نہیں کرنا چاہئے جنہیں پاک چیز سے انجام دینا ضروری ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ کتے، سور اور مردار کے چمڑے کو خواہ وہ برتن کی شکل میں نہ بھی ہو استمعال نہ کیا جائے۔

234۔ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر ان کو کسی طرح بھی استعمال کرنا حرام ہے لیکن ان سے کمرہ وغیرہ سجانے یا انہیں اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں گو ان کا ترک کر دینا احوط ہے۔ اور سجاوٹ یا قبضے میں رکھنے کے لئے سونے اور چاندی کے برتن بنانے اور ان کی خرید و فروخت کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔

235۔ استکان (شیشے کا چھوٹا سا گلاس جس میں قہوہ پیتے ہیں) کا ہولڈر جو سونے یا چاندی سے بنا ہوا ہو اگر اسے برتن کہا جائے تو ہو سونے، چاندی کے برتن کا حکم رکھتا ہے اور اگر اسے برتن نہ کہا جائے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

236۔ ایسے برتنوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں جن پر سونے یا چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہو۔

ص:56

237۔ اگر جست کو چاندی یا سونے میں مخلوط کر کے برتن بنائے جائیں اور جست اتنی زیادہ مقدار میں ہو کہ اس برتن کو سونے یا چاندی کا برتن نہ کہا جائے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

238۔ اگر غذا سونے یا چاندی کے برتن میں رکھی ہو اور کوئی شخص اسے دوسرے برتن میں انڈیل لے تو اگر دوسرا برتن عام طور پر پہلے برتن میں کھانے کا ذریعہ شمار نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

239۔ حقے کے چلم کا سوراخوں والا ڈھکنا، چھری یا چاقو کا میان اور قرآن مجید رکھنے کا ڈبہ اگر سونے یا چاندی سے بنے ہوں تو کوئی حرج نہیں تاہم احتیاط مستحب یہ ہے کہ سونے چاندی کی بنی ہوئی عطر دانی، سرمہ دانی اور افیم دانی استمعال نہ کی جائیں۔

240۔ مجبوری کی حالت میں سونے چاندی کے برتنوں میں اتنا کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں جس سے بھوک مٹ جائے لیکن اس سے زیادہ کھانا پینا جائز نہیں۔

241۔ ایسا برتن استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ سونے یا چاندی کا ہے یا کسی اور چیز سے بنا ہوا ہے۔