لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

بَیتُ الخَلاء کے احکام

57۔ انسان پر واجب ہے کہ پیشاب اور پاخانہ کرتے وقت اور دوسرے مواقع پر اپنی شرمگاہوں کو ان لوگوں سے جا بالغ ہوں خواہ وہ ماں اور بہن کی طرح اس کے محرم ہی کیوں نہ ہوں اور اسی طرح دیوانوں اور ان بچوں سے جو اچھے بُرے کی تمیز رکھتے ہوں چھپا کر رکھے۔ لیکن بیوی اور شوہر کے لئے اپنی شرمگاہوں کو ایک دوسرے سے چھپانا لازم نہیں۔

58۔ اپنی شرمگاہوں کو کسی مخصوص چیز سے چھپانا لازم نہیں مثلاً اگر ہاتھ سے بھی چھپالے تو کافی ہے۔

59۔ پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت احتیاط لازم کی بنا پر بدن کا اگلا حصہ یعنی پیٹ اور سینہ قبلے کی طرف نہ ہو اور نہ ہی پشت قبلے کی طرف ہو۔

60۔ اگر پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت کسی شخص کے بدن کا اگلا حصہ رو بہ قبلہ یا پشت بقبلہ ہو اور وہ اپنی شرمگاہ کو قبلے کی طرف سے موڑ لے تو یہ کافی نہیں ہے اور اگر اس کے بدن کا اگلا حصہ رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہ ہو تو احتیاط یہ ہے کہ شرمگاہ کو رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہ موڑے۔

61۔ احتیاط مُستجب یہ ہے کہ اِستبراَ کے موقع پر، جس کے احکام بعد میں بیان کئے جائیں گے، نیز اگلی اور پچھلی شرم گاہوں کو پاک کرتے وقت بدن کا اگلا حصہ رو بہ قبلہ اور پشت بہ قبلہ نہ ہو۔

62۔ اگر کوئی شخص اس لئے کہ نامحرم اسے نہ دیکھے رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ بیٹھنے پر مجبور ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ پشت بہ قبلہ بیٹھ جائے اگر پشت بہ قبلہ بیٹھنا ممکن نہ ہو تو رو بہ قبلہ بیٹھ جائے۔ اگر کسی اور وجہ سے رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ بیٹھنے پر مجبور ہو تو بھی یہی حکم ہے۔

ص:27

63۔ احتیاط مُستجب یہ ہے کہ بچے کو رفع حاجت کے لئے رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہ بٹھائے۔ ہاں اگر بچہ خود ہی اس طرح بیٹھ جائے تو روکنا واجب نہیں۔

64۔ چار جگہوں پر رفع حاجت حرام ہے۔

1۔ بند گلی میں جب کہ وہاں رہنے والوں نے اس کی اجازت نہ دے رکھی ہو۔ 2۔ اس قطعہ زمین میں جو کسی کی نجی ملکیت ہو جب کہ اس نے اس رفع حاجت کی اجازت نہ دے رکھی ہو۔

3۔ ان جگہوں میں جو مخصوص لوگوں کے لئے وقف ہوں مثلاً بعض مدرسے 4۔ مومنین کی قبروں کے پاس جب کہ اس فعل سے ان کی بے حرمتی ہوتی ہو۔ یہی صورت ہر اس جگہ کی ہے جہاں رفع حاجت دین یا مذہب کے مقدسات کی توہین کا موجب ہو۔

65۔ تین صورتوں میں مقعد (پاخانہ خارج ہونے کا مقام) فقط پانی سے پاک ہوتا ہے۔

1۔ پاخانے کے ساتھ کوئی اور نجاست (مثلاً خون) باہر آئی ہو۔

2۔ کوئی بیرونی نجاست مقعد پر لگ گئی ہو۔

3۔مقعد کا اطراف معمول سے زیادہ آلودہ ہوگیا ہو۔

ان تین صورتوں کے علاوہ مقعد کو یا تو پانی سے دھویا جاسکتا ہے اور یا اس طریقے کے مطابق جو بعد میں بیان کیا جائے گا کپڑے یا پتھر وغیرہ سے بھی پاک کیا جاسکتا ہے اگرچہ پانی سے دھونا بہتر ہے۔

66۔ پیشاب کا مخرج پانی کے علاوہ کسی چیز سے پاک نہیں ہوتا۔ اگر پانی کُر کے برابر ہو یا جاری ہو تو پیشاب کرنے کے بعد ایک مرتبہ دھونا کافی ہے۔ لیکن اگر قلیل پانی سے دھویا جائے تو احتیاط مُستحب کی بنا پر دو مرتبہ دھونا چاہئے اور بہتر یہ ہے کہ تین مرتبہ دھوئیں۔

67۔ اگر مقعد کو پانی سے دھویا جائے تو ضروری ہے کہ پاخانے کا کوئی زرہ باقی نہ رہے البتہ رنگ یا بُو باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں اور اگر پہلی بار ہی وہ مقام یوں دُھل جائے کہ پاخانے کا کوئی ذرہ باقی نہ رہے تو دوبارہ دھونا لازم نہیں۔

ص:28

68۔ پتھر، ڈھیلا، کپڑا یا انہی جیسی دوسری چیزیں اگر خشک اور پاک ہوں تو ان سے مقعد کو پاک کیا جاسکتا ہے اور اگر ان میں معمولی نمی بھی ہو جو مقعد تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں۔

69۔ اگر مقعد کو پتھر یا ڈھیلے یا کپڑے سے ایک مرتبہ بالکل صاف کر دیا جائے تو کافی ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ تین مرتبہ صاف کیا جائے اور (جس چیز سے صاف کیا جائے اس کے) تین ٹکڑے بھی ہوں اور اگر تین ٹکڑوں سے صاف نہ ہو تو اتنے مزید ٹکڑوں کا اضافہ کرنا چاہئے کہ مقعد بالکل صاف ہو جائے۔ البتہ اگر اتنے چھوٹے ذرے باقی رہ جائیں جو نظر نہ آئیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

70۔ مقعد کو ایسی چیزوں سے پاک کرنا حرام ہے جن کا احترام لازم ہو (مثلا کاپی یا اخبار کا ایسا کاغذ جس پر خدا تعالی اور پیغمبروں کے نام لکھے ہوں) اور مقعد کے ہڈی یا گوبر سے پاک ہونے میں اشکال ہے۔

71۔ اگر ایک شخص کو شک ہو کہ مقعد پاک کیا ہے یا نہیں تو اس پر لازم ہے کہ اسے پاک کرے اگرچہ پیشاب یا پاخانہ کرنے کے بعد وہ یمیشہ متعلقہ مقام کو فوراً پاک کرتا ہو۔

72۔ اگر کسی شخص کو نماز کے بعد شک گزرے کہ نماز سے پہلے پیشاب یا پاخانے کا مخرج پاک کیا تھا یا نہیں تو اس نے جو نماز ادا کی ہے وہ صحیح ہے لیکن آئندہ نمازوں کے لئے اس (متعلقہ مقامات کو) پاک کرنا ضروری ہے۔