لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

تیمم کی پہلی صورت

وضو یا غسل کے لئے ضروری مقدار میں پانی مہیا کرنا ممکن نہ ہو۔

655۔ اگر انسان آبادی میں ہو تو ضروری ہے کہ وضو اور غسل کے لئے پانی مہیا کرنے کے لئے اتنی جستجو کرے کہ بالاخر اس کے ملنے سے ناامید ہو جائے اور اگر بیابان میں ہو تو ضروری ہے کہ راستوں میں یا اپنے ٹھہرنے کی جگہوں میں یا اس کے آس پاس والی جگہوں میں پانی تلاش کرے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ وہاں کی زمین ناہموار ہو یا درختوں کی کثرت کی وجہ سے راہ چلنا دشوار ہو تو چاروں اطراف میں سے ہر طرف پرانے زمانے میں کمان کے چلے پر چڑھا کر پھینکے جانے والے تیرکی 1 پرواز کے فاصلے کے برابر پانی کی تلاش میں جائے۔ ورنہ ہر طرف اندازاً دو بار پھینکے جانے والے تیر کے فاصلے کے برابر جستجو کرے۔

ص:136

656۔ اگر چار اطراف میں سے بعض ہموار اور بعض ناہموار ہوں تو جو طرف ہموار ہو اس میں دو تیروں کی پرواز کے برابر اور جو طرف نا ہموار ہو اس میں ایک تیرکی پرواز برابر پانی تلاش کرے۔

657۔ جس طرف پانی کے نہ ہونے کا یقین ہو اس طرف تلاش کرنا ضروری نہیں۔

658۔ اگر کسی شخص کی نماز کا وقت تنگ نہ ہو اور پانی حاصل کرنے کے لئے اس کے پاس وقت ہو اور اسے یقین یا اطمینان ہو کہ جس فاصلے تک اس کے لئے پانی تلاش کرنا ضروری ہے اس سے دور پانی موجود ہے تو اسے چاہئے کہ پانی حاصل کرنے کے لئے وہاں جائے لیکن اگر وہاں جانا مشقت کا باعث ہو یا پانی بہت زیادہ دور ہو کہ لوگ یہ کہیں کہ اس کے پاس پانی نہیں ہے تو وہاں جانا لازم نہیں ہے اور اگر پانی موجود ہونے کا گمان ہو تو پھر بھی وہاں جانا ضروری نہیں ہے۔

659۔ یہ ضروری نہیں کہ انسان خود پانی کی تلاش میں جائے بلکہ وہ کسی اور ایسے شخص کو بھیج سکتا ہے جس کے کہنے پر اسے اطمینان ہو اور اس صورت میں اگر ایک شخص کئی اشخاص کی طرف سے جائے تو کافی ہے۔

660۔ اگر اس بات کا احتمال ہوکہ کسی شخص کے لئے اپنے سفر کے سامان میں یا پڑاو ڈالنے کی جگہ پر یا قافلے میں پانی موجود ہے تو ضروری ہے کہ اس قدر جستجو کرے کہ اسے پانی کے نہ ہونے کا اطمینان ہو جائے یا اس کے حصول سے ناامید ہو جائے۔

661۔ اگر ایک شخص نماز کے وقت سے پہلے پانی تلاش کرے اور حاصل نہ کر پائے اور نماز کے وقت تک وہیں رہے تو اگر پانی ملنے کا احتمال ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ پانی کی تلاش میں جائے۔

662۔ اگر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد تلاش کرے اور پانی حاصل نہ کرپائے اور بعد والی نماز کے وقت تک اسی جگہ رہے تو اگر پانی ملنے کا احتمال ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ پانی کی تلاش میں جائے۔

ص:137

663۔ اگر کسی شخص کی نماز کا وقت تنگ ہو یا اسے چور ڈاکو اور درندے کا خوف ہو یا پانی کی تلاش اتنی کٹھن ہو کہ وہ اس صعوبت کو برداشت نہ کر سکے تو تلاش ضروری نہیں۔

1۔ مجلسی اول قدس سرہ نے مَن لاَ یَحضُرُہُ الفَقِیہ کی شرح میں تیر کے پرواز کی مقدار دو سو قدم معین فرمائی ہے۔

664۔ اگر کوئی شخص پانی تلاش نہ کرے حتی کہ نماز کا وقت تنگ ہو جائے اور پانی تلاش کرنے کی صورت میں پانی میں مل سکتا تھا تو وہ گناہ کا مرتکب ہوا لیکن تیمم کے ساتھ اس کی نماز صحیح ہے۔

665۔ اگر کوئی شخص اس یقین کی بنا پر کہ اسے پانی نہیں مل سکتا پانی کی تلاش میں نہ جائے اور تیمم کر کے نماز پڑھ لے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ اگر تلاش کرتا تو پانی مل سکتا تھا تو احتیاط لازم کی بنا پر وضو کر کے نماز کو دوبارہ پڑھے۔

666۔ اگر کسی شخص کو تلاش کرنے پر پانی نہ ملے اور ملنے سے مایوس ہو کر تیمم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ جہاں اس نے تلاش کیا تھا وہاں پانی موجود تھا اور اس کی نماز صحیح ہے۔

667۔ جس شخص کو یقین ہو کہ نماز کا وقت تنگ ہے اگر وہ پانی تلاش کئے بغیر تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور نماز پڑھنے کے بعد اور وقت گزرنے سے پہلے اسے پتہ چلے کہ پانی تلاش کرنے کے لئے اس کے پاس وقت تھا تو احتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

668۔ اگر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد کسی شخص کو وضو باقی ہو اور اسے معلوم ہو کہ اگر اس نے اپنا وضو باطل کر دیا تو وہ دوبارہ وضو کرنے کے لئے پانی نہیں ملے گا یا وہ وضو نہیں کر پائے گا تو اس صورت میں اگر وہ اپنا وضو برقرار رکھ سکتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اسے چاہئے کہ اسے باطل نہ کرے لیکن ایسا شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ غسل نہ کر پائے گا اپنی بیوی سے جماع کر سکتا ہے۔

669۔ اگر کوئی شخس نماز کے وقت سے پہلے باوضو ہو اور اسے معلوم ہو کہ اگر اس نے اپنا وضو باطل کر دیا تو دوبارہ وضو کرنے کے لئے پانی مہیا کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہوگا تو اس صورت میں اگر وہ اپنا وضو برقرار رکھ سکتا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اسے باطل نہ کرے۔

670۔ جب کسی کے پاس فقط وضو یا غسل کے لئے پانی ہو اور وہ جانتا ہو کہ اسے گرادینے کی صورت میں مزید پانی نہیں مل سکے گا تو اگر نماز کا وقت داخل ہو گیا ہو تو اس پانی کا گرانا حرام ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز کے وقت سے پہلے بھی نہ گرائے۔

ص:138

671۔ اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ اس پانی نہ مل سکے گا، نماز کا وقت داخل ہونے کےبعد اپنا وضو باطل کر دے یا جو پانی اس کے پاس ہو اسے گرادے تو اگرچہ اس نے (حکم مسئلہ کے) برعکس کام کیا ہے، تیمم کے ساتھ اس کی نماز صحیح ہوگی لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس نماز کی قضا بھی کرے۔