لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

جعاله کے احکام

2226۔ "جعاله" سے مراد یه هے که انسان وعده کرے که اگر ایک کام اس کے لئے انجام دیا جائے گا تو وه اس کے بدلے کچھ مال بطور انعام دے گا مثلاً یه کهے که جو اس کی گمشده چیز بر آمد کرے گا وه اسے دس روپے (انعام) دے گا تو جو شخص اس قسم کا وعده کرے اسے "جاعل" اور جو شخص وه کام انجام دے اسے "عامل" کهتے هیں۔ اور اجاره و جعالے میں بعض لحاظ سے فرق هے۔ ان میں سے ایک یه هے که که اجارے میں صیغه پڑھنے کے بعد اجیر کے لئے ضروری هے که کام انجام دے۔ اور جس نے اسے اجیر بنایا هو وه اجرت کے لئے اس کا مقروض هوجاتا هے لیکن جعاله میں اگرچه عامل ایک معین شخص هو تاهم هوسکتا هے که وه کام میں مشغول نه هو۔ پس جب تک وه کام انجام نه دے۔ جاعل اس کا مقروض نهیں هوتا۔

2227۔جاعل کے لئے ضروری هے که بالغ اور عاقل هو اور انعام کا وعده اپنے ارادے اور اختیار سے کرے اور شرعاً اپنے مال میں تصرف کرسکتا هو۔ اس بنا پر سفیه کا جعاله صحیح نهیں هے اور بالکل اسی طرح دیوالیه شخص کا جعاله ان اموال میں صحیح نهیں هے جن میں تصرف کا حق نه رکھتا هو۔

ص:419

2228۔ جاعل جو کام لوگوں سے کرانا چاهتا هو ضروری هے که وه حرام یا بے فائده نه هو اور نه هی ان واجبات میں سے هو جن کا بلامعاوضه بجالانا شرعاً لازم هو۔ لهذا اگرکوئی کهے که جو شخص شراب پیئے گا یا رات کے وقت کسی عاقلانه مقصد کے بغیر ایک تاریک جگه پر جائے گا یا واجب نماز پڑھے گا میں اسے دس روپے دوں گا تو جعاله صحیح نهیں هے۔

2229۔ جس مال کے بارے میں معاهده کیا جارها هو ضروری نهیں هے که اسے اس کی پوری خصوصیات کا ذکر کرکے معین کیا جائے بلکه اگر صورت حال یه هو که کام کرنے والے کو معلوم هو که اس کام کو انجام دینے کے لئے اقدام کرنا حماقت شمار نه هوگا تو کافی هے مثلاً اگر جاعل یه کهے که اگر تم نے اس مال کو دس روپے سے زیاده قیمت پر بیچا تو اضافی رقم تمهاری هوگی تو جعاله صحیح هے اور اسی طرح اگر جاعل کهے که جو کوئی میرا گھوڑا ڈھونڈ کر لائے گا میں اسے گھوڑے میں نصف شراکت یا دس من گیهوں دوں گا تو بھی جعاله صحیح هے۔

2230۔ اگر کام کی اجرت مکمل طور پر مبهم هو مثلاً جاعل یه کهے که جو میرا بچه تلاش کر دے گا میں اسے رقم دوں گا لیکن رقم کی مقدار کا تعین نه کرے تو اگر کوئی شخص اس کام کو انجام دے تو ضروری هے که جاعل اسے اتنی اجرت دے جتنی عام لوگوں کی نظروں میں اس عمل کی اجرت قرار پاسکے۔

2231۔ اگر عامل نے جاعل کے قول و قرار سے پهلے هی وه کام کر دیا هو یا قول و قرار کے بعد اس نیت سے وه کام انجام دے که اس کے بدلے رقم نهیں لے گا تو پھر وه اجرت کا حقدار نهیں۔

2232۔ اس سے پهلے که عامل کام شروع کرے جاعل جعاله کو منسوخ کرسکتا هے۔

2233۔ جب عامل نے کام شروع کر دیا هو اگر اس کے بعد جاعل جعاله منسوخ کرنا چاهے تو اس میں اشکال هے۔

2234۔ عامل کام کو ادھورا چھوڑ سکتا هے لیکن اگر کام ادھورا چھوڑنے پر جاعل کو یا جس شخص کے لئے یه کام انجام دیا جارها هے که کوئی نقصان پهنچتا هو تو ضروری هے که کام کو مکمل کرے۔ مثلاً اگر کوئی شخص کهے که جو کوئی میری آنکھ کا علاج کر دے میں اسے اس قدر معاوضه دوں گا اور ڈاکڑ اس کی آنکھ کا آپریشن کر دے اور صورت یه هو که اگر وه علاج مکمل نه کرے تو آنکھ میں عیب پیدا هوجائے تو ضروری هے که اپنا عمل تکمیل تک پهنچائے اور اگر ادھورا چھوڑ دے تو جاعل سے اجرت لینے کا اسے کوئی حق نهیں۔

ص:420

2235۔ اگر عامل کام ادھورا چھوڑ دے اور وه کام ایسا هو جسے گھوڑا تلاش کرنا که جس کے مکمل کئے بغیر جاعل کو کوئی فائده نه هو تو عامل، جاعل سے کسی چیز کا مطالبه نهیں کرسکتا۔ اور اگر جاعل اجرت کو کام مکمل کرنے سے مشروط کر دے تب بھی یهی حکم هے۔ مثلاً وه کهے که جو کوئی میرا لباس سئے گا میں اسے دس روپے دوں گا لیکن اگر اس کی مراد یه هو که جتنا کام کیا جائے گا اتنی اجرت دے گا تو پھر جاعل کو چاهئے که جتنا کام هوا هو اتنی اجرت عامل کودے دے اگرچه احتیاط یه هے که دونوں مصالحت کے طور پر ایک دوسرے کو راضی کرلیں۔