لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

حواله دینے کے احکام

2298۔ اگر کوئی شخص اپنے قرض خواه کو حواله دے که وه اپنا قرض ایک اور شخص سے لے لے اور قرض خواه اس بات کو قبول کر لے تو جب " حواله" ان شرائط کے ساتھ جن کا ذکر بعد میں آئے گا مکمل هوجائے تو جس شخص کے نام حواله دیا گیا هے وه مقروض هوجائے گا اور اس کے بعد قرض خواه پهلے مقروض سے اپنے قرض کا مطالبه نهیں کرسکتا۔

2299۔ مقروض اور قرض خواه اور جس شخص کا حواله دیا جاسکتا هو ضروری هے که سب بالغ اور عاقل هوں اور کسی نے انهیں مجبور نه کیا هو نیز ضروری هے که سفیه نه هوں یعنی اپنا مال احمقانه اور فضول کاموں میں خرچ نه کرتے هوں اور یه بھی معتبر هے که مقروض اور قرض خواه دیوالیه نه هوں۔ هاں اگر حواله ایسے شخص کے نام هو جو پهلے سے حواله دینے والے کا مقروض نه هو تو اگرچه حواله دینے والا دیوالیه بھی هو کوئی اشکال نهیں هے۔

2300۔ ایسے شخص کے نام حواله دینا جو مقروض نه هو اس صورت میں صحیح نهیں هے جب وه حواله قبول نه کرے۔ نیز اگر کوئی شخص چاهے که جو شخص ایک جنس کے لئے اس کا مقروض هے اس کے نام دوسری جنس کا حواله لکھے۔ مثلاً جو شخص جَو کا مقروض هو اس کے نام گیهوں کا حواله لکھے تو جب تک وه شخص قبول نه کرے حواله صحیح نهیں هے۔ بلکه حواله دینے کی تمام صورتوں میں ضروری هے که جس شخص کے نام حواله کیا جارها هے وه حواله قبول کرے اور اگر قبول نه کرے تو بنا بر اظهر (حواله) صحیح نهیں هے۔

ص:434

2301۔انسان جب حواله دے تو ضروری هے که وه اس وقت مقروض هو لهذا اگر وه کسی سے قرض لینا چاهتا هو تو جب تک اس سے قرض نه لے لے اسے کسی کے نام کا حواله نهیں دے سکتا تاکه جو قرض اسے بعد میں دینا هو وه پهلے هی اس شخص سے وصول کرلے۔

2302۔ حواله کی جنس اور مقدار فی الواقع معین هونا ضروری هے پس اگر حواله دینے والا کسی شخص کا دس من گیهوں اور دس روپے کا مقروض هو اور قرض خواه کو حواله دے که ان دونوں قرضوں میں سے کوئی ایک فلاں شخص سے لے لو اور اس قرضے کو معین نه کرے تو حواله درست نهیں هے۔

2303۔ اگر قرض واقعی معین هو لیکن حواله دینے کے وقت مقروض اور قرض خواه کو اس کی مقدار یا جنس کا علم نه هو تو حواله صحیح هے مثلاً اگر کسی شخص نے دوسرے کا قرضه رجسٹر میں لکھا هو اور رجسٹر دیکھنے سے پهلے حواله دے دے اور بعد میں رجسٹر دیکھے اور قرض خواه کو قرضے کی مقدار بتا دے تو حواله صحیح هوگا۔

2304۔قرض خواه کو اختیاط هے که حواله قبول نه کرے اگرچه جس کے نام کا حواله دیا جائے وه دولت مند هو اور حواله کے ادا کرنے میں کوتاهی بھی نه کرے۔

2305۔جو شخص حواله دینے والے کا مقروض نه هو اگر حواله قبول کرے تو اظهر یه هے که حواله ادا کرنے سے پهلے حواله دینے والے سے حوالے کی مقدار کا مطالبه کر سکتا هے۔ مگر یه که جو قرض جس کے نام حواله دیا گیا هے اس کی مدت معین هو اور ابھی وه مدت ختم نه هوئی هو تو اس صورت میں وه مدت ختم هونے سے پهلے حوالے دینے والے سے حوالے کی مقدار کا مطالبه نهیں کر سکتا اگرچه اس نے ادائیگی کر دی هو اور اسی طرح اگر قرض خواه اپنے قرض سے تھوڑی مقدار پر صلح کرے تو وه حواله دینے والے سے فقط (تھوڑی) مقدار کا هی مطالبه کر سکتا هے۔

2306۔ حواله کی شرائط پوری هونے کے بعد حواله دینے والا اور جس کے نام حواله دیا جائے حواله منسوخ نهیں کر سکتے اور وه شخص جس کے نام کا حواله دیا گیا هے حواله کے وقت فقیر نه هو تو اگرچه وه بعد میں فقیر هو جائے تو قرض خواه بھی حوالے کو منسوخ نهیں کرسکتا هے۔ یهی حکم اس وقت هے جب (وه شخص جس کے نام کا حواله دیا گیا هو) حواله دینے کے وقت فقیر هو اور قرض خواه جانتا هو که وه فقیر هےلیکن اگر قرض خواه کو علم نه هو که وه فقیر هے اور بعد میں اسے پته چلے تو

ص:435

اگر اس وقت وه شخص مالدار نه هوا هو قرض خواه حواله منسوخ کرکے اپنا قرض حواله دینے والے سے لے سکتا هے۔ لیکن اگر وه مالدار هوگیا هو تو معلوم نهیں که معاملے کو فسخ کرسکتا هے (یا نهیں)۔

2307۔ اگر مقروض اور قرض خواه اور جس کے نام کا حواله دیا گیا هو یا ان میں سے کسی ایک نے اپنے حق میں حواله منسوخ کرنے کا معاهده کیا هو تو جو معاهده انهوں نےکیا هو اس کے مطابق وه حواله منسوخ کر سکتے هیں۔

2308۔ اگر حواله دینے والا خود قرض خواه کا قرضه ادا کر دے یه کام اس شخص کی خواهش پر هوا هو جس کے نام کا حواله دیا گیا هو جبکه وه حواله دینے والے کا مقروض بھی هو تو وه جو کچھ دیا هو اس سے لے سکتا هے اور اگر اس کی خواهش کے بغیر ادا کیا هو یا وه حواله دهنده کا مقروض نه هو تو پھر اس نے جو کچھ دیا هے اس کا مطالبه اس سے نهیں کرسکتا۔