لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

حَنُوط کے احکام

591۔ غسل دینے کے بعد واجب هے که میت کو حنوط کیا جائے یعنی اس کی پیشانی، دونوں هتھیلیوں، دونوں پاوں کے انگوٹھوں پر کافور اس طرح ملا جائے که کچھ کافور اس پر باقی رهے خواه کچھ کافور بغیر ملے باقی بچے اور مستحب یه هے که میت کی ناک پر بھی کافور ملا جائے۔ کافور پسا هوا اور تازه هونا چاهئے اور اگر پرانا هونے کی وجه سے اس کی خوشبو زائل هو گئی هو تو کافی نهیں۔

592۔ احتیاط مستحب یه هے که کافور پهلے میت کی پیشانی پر ملا جائے لیکن دوسرے مقامات پر ملنے میں ترتیب ضروری نهیں هے۔

593۔ بهتر یه هے که میت کو کفن پهنانے سے پهلے حنوط کیا جائے۔ اگرچه کفن پهنانے کے دوران یا اس کے بعد بھی حنوط کریں تو کوئی حرج نهیں هے۔

594۔ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جس نے حج یا عمرے کے لئے احرام باندھ رکھا هو تو اسے حنوط کرنا جائز نهیں هے مگر ان دو صورتوں میں (جائز هے) جن کا ذکر مسئله 559 میں گزر چکا هے۔

ص:122

595۔ ایسی عورت جس کا شوهر مر گیا هو اور ابھی اس کی عدت باقی هو اگرچه خوشبو لگانا اس کے لئے حرام هے لیکن اگر وه مر جائے تو اسے حنوط کرنا واجب هے۔

596۔ احتیاط مستحب یه هے که میت کو مشک،عنبر، عُود اور دوسری خوشبوئیں نه لگائی جائیں اور انهیں کافور کے ساتھ بھی نه ملایا جائے۔

597۔ مستحب هے که سَید الشهداء امام حسین علیه السلام کی قبر مبارک کی مٹی (خاک شفا) کی کچھ مقدار کافور میں ملا لی جائے لیکن اس کافور کو ایسے مقامات پر نهیں لگانا چاهئے جهاں لگانے سے خاک شفا کی بے حرمتی هو اور یه بھی ضروری هے که خاک شفا اتنی زیاده نه هو که جب وه کافور کے ساتھ مل جائے تو اسے کافور نه کها جاسکے۔

598۔ اگر کافور نه مل سکے یا فقط غسل کے لئے کافی هو تو حنوط کرنا ضروری نهیں اور اگر غسل کی ضروری سے زیاده هو لیکن تمام سات اعضا کے لئے کافی نه هو تو احتیاط مستحب کی بنا پر چاهئے که پهلے پیشانی پر اور اگر بچ جائے تو دوسرے مقامات پر ملا جائے۔

599۔ مستحب هے که (درخت کی) دو تر و تازه ٹهنیاں میت کے ساتھ قبر میں رکھی جائیں۔