لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2600۔ حیوان کو ذبح کرنے کا طریقه یه هے که اس کی گردن کی چار بڑی رگوں کو مکمل طور پر کاٹا جائے، ان میں صرف چیرا لگانا یا مثلاً صرف گلا کاٹنا احتیاط کی بنا پر کافی نهیں هے اور در حقیقت یه چار رگوں کا کاٹنا نه هوا۔ مگر (شرعاً ذبیحه اس وقت صحیح هوتا هے) جب ان چار لوگوں کو گلے کی گره کے نیچے سے کاٹا جائے اور وه چار گیس سانس کی نالی اور کھانے کی نالی اور دو موٹی رگیں هیں جو سانس کی نالی کے دونوں طرف هوتی هیں۔
2601۔ اگر کوئی شخص چار رگوں میں سے بعض کو کاٹے اور پھر حیوان کے مرنے تک صبر کرے اور باقی رگیں بعد میں کاٹے تو اس کا کوئی فائده نهیں لیکن اس صورت میں جب که چاروں رگیں حیوان کی جان نکلنے سے پهلے کاٹ دی جائیں مگر جسب معمول مسلسل نه کاٹی جائیں تو وه حیوان پاک اور حلال هوگا اگرچه احتیاط مستحب یه هے که مسلسل کاٹی جائیں۔
2602۔ اگر بھیڑیا کسی بھیڑ کا گلاس اس طرح پھاڑ دے که گردن کی ان چار رگوں میں سے جنهیں ذبح کرتے وقت کاٹنا ضروری هے کچھ بھی باقی نه رهے تو وه بھیڑ حرام هوجاتی هے اور اگر صرف سانس کی نالی بالکل باقی نه رهے تب بھی یهی حکم هے۔ بلکه اگر بھیڑیا گردن کا کچھ حصه پھاڑ دے اور چاروں رگیں سر سے لٹکی هوئی یا بدن سے لگی هوئی باقی رهیں تو احتیاط کی بنا پر وه بھیڑ حرام هے لیکن اگر بدن کا کوئی دوسرا حصه پھاڑے تو اس صورت میں جب که بھیڑ ابھی زنده هو اور اس طریقے کے مطابق ذبح کی جائے جس کا ذکر بعد میں هوگا تو وه حلال اور پاک هوگی۔