لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2105۔ ضروری نهیں که خریدوفروخت کا صیغه عربی زبان میں جاری کیا جائے مثلاً اگر بیچنے والا فارسی (یا اردو) میں کهے که میں نے یه مال اتنی رقم پر بیچا اور خریدار کهے که میں نے قبول کیا تو سودا صحیح هے لیکن یه ضروری هے که خریدار اور بیچنے والا (معاملے کا) دلی اراده رکھتے هوں یعنی یه دو جملے کهنے سے ان کی مراد خرید و فروخت هو۔
2106۔ اگر سودا کرتے وقت صیغه نه پڑھا جائے لیکن بیچنے والا اس مال کے مقابلے میں جو وه خریدار سے لے اپنا مال اس کی ملکیت میں دے دے تو سودا صحیح هے اور دونوں اشخاص متعلقه چیزوں کےمالک هوجاتے هیں۔