لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

خون

97۔ انسان کا اور خون جہندہ رکھنے والے ہر حیوان کا خون نجس ہے۔ پس ایسے جانوروں مثلاً مچھلی اور مچھر کا خون جو اچھل کر نہیں نکلتا پاک ہے۔

98۔ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے اگر انہیں شرعی طریقے سے ذبح کیا جائے اور ضروری مقدار میں اس کا خون خارج ہو جائے تو جو خون بدن میں باقی رہ جائے وہ پاک ہے لیکن اگر (نکلنے والا) خون جانور کے سانس کھینچنے سے یا اس کا سر بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بدن میں پلٹ جائے تو وہ نجس ہوگا۔

99 مرغی کے جس انڈے میں خون کا ذرہ ہو اس سے احتیاط مستحب کی بنا پر پرہیز کرنا چاہئے۔ لیکن اگر خون زردی میں ہو تو جب تک اس کا نازک پردہ پھٹ نہ جائے سفیدی بغیر اشکال کے پاک ہے۔

100۔ وہ خون جو بعض اوقات چوائی کرتے ہوئے نظر آتا ہے نجس ہے اور دودھ کو بھی نجس کر دیتا ہے۔

101۔ اگر دانتوں کی ریخوں سے نکلنے والا خون لُعاب دہن سے مخلوط ہو جانے پر ختم ہو جائے تو اس لعاب سے پرہیز لازم نہیں ہے۔

ص:33

102۔ جو خون چوٹ لگنے کی وجہ سے ناخن یا کھال کے نیچے جم جائے اگر اس کی شکل ایسی ہو کہ لوگ اسے خون نہ کہیں تو وہ پاک اور اگر خون کہیں اور وہ ظاہر ہو جائے تو نجس ہوگا۔ ایسی صورت میں جب کہ ناخن یا کھال میں سوراخ ہوجائے اگر خون کا نکالنا اور وضو یا غسل کے لئے اس مقام کا پاک کرنا بہت زیادہ تکلیف کا باعث ہو تو تیمم کر لینا چاہئے۔

103۔ اگر کسی شخص کو یہ پتہ نہ چلے کہ کھال کے نیچے خون جم گیا ہے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے گوشت نے ایسی شکل اختیار کر لی ہے تو وہ پاک ہے۔

104۔ اگر کھانا پکاتے ہوئے خون کا ایک ذرہ بھی اس میں گر جائے تو سارے کا سارا کھانا اور برتن احتیاط لازم کی بنا پر نجس ہو جائے گا۔ ابال، حرارت اور آگ انہیں پاک نہیں کر سکتے۔

105۔ ریم یعنی وہ زرد مواد جو زخم کی حالت بہتر ہونے پر اس کے چاروں طرف پیدا ہو جاتا ہے اس کے متعلق اگر یہ معلوم نہ ہو کہ اس میں خون ملا ہوا ہے تو وہ پاک ہوگا۔