لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
79۔ ہر شخص کے لئے مستحب ہے کہ جب بھی رفع حاجت کے لئے جائے تو ایسی جگہ بیٹھے جہاں اسے کوئی نہ دیکھے۔ اور بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاوں اندر رکھے اور نکلتے وقت پہلے دایاں پاوں باہر رکھے اور یہ بھی مستحب ہے کہ رفع حاجت کے وقت (ٹوپی، دوپٹے وغیرہ سے) سر ڈھانپ کر رکھے اور بدن کا بوجھ بائیں پاوں پر ڈالے۔
ص:30
80۔ رفع حاجت کے وقت سورج اور چاند کی طرف منہ کرکے بیٹھنا مکروہ ہے لیکن اگر اپنی شرم گاہ کو کسی طرح ڈھانپ لے تو مکروہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں رفع حاجت کے لئے ہوا کہ رُخ کے بالمقابل نیز گلی کوچوں، راستوں، مکان کے دروازوں کے سامنے اور میوہ دار درختوں کے نیچے بیٹھنا بھی مکروہ ہے اور اس حالت میں کوئی چیز کھانا یا زیادہ وقت لگانا یا دائیں ہاتھ سے طہارت کرنا بھی مکروہ ہے اور یہی صورت باتیں کرنے کی بھی ہے لیکن اگر مجبوری ہو یا ذکر خدا کرے تو کوئی حرج نہیں۔
81۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا اور سخت زمین پر یا جانوروں کے بلوں میں یا پانی میں بالخصوص ساکن پانی میں پیشاب کرنا مکروہ ہے۔
82۔ پیشاب اور پاخانہ روکنا مکروہ ہے اور اگر بدن کے لئے مکمل طور پر مضر ہو تو حرام ہے۔
83۔ نماز سے پہلے، سونے سے پہلے، مباشرت کرنے سے پہے اور انزال منی کے بعد پیشاب کرنا مستحب ہے۔