لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1999۔ عید الفطر کی (چاند) رات غروب آفتاب کے وقت جو شخص بالغ اور عاقل هو اور نه تو فقیر هو نه هی کسی دوسرے کا غلام هو ضروری هے که اپنے لئے اور ان لوگوں کے لئے جو اس کے هاں کھانا کھاتے هوں فی کس ایک صاع جس کے بارے میں کها جاتا هے که تقریباً تین کلو هوتا هے ان غذاوں میں سے جو اس کے شهر (یا علاقے) میں استعمال هوتی هوں مثلاً گیهوں یا جَو یا کھجور یا کشمش یا چاول یا جوار مستحق شخص کو دے اور اگر ان کے بجائے ان کی قیمت نقدی کی شکل میں دے تب بھی کافی هے۔ اور احتیاط لازم یه هے که جو غذا اس کے شهر میں عام طور پر استعمال نه هوتی هو چاهے وه گیهوں، جَو، کھجور یا کشمش هو، نه دے۔
2000۔ جس شخص کے پاس اپنے اور اپنے اهل و عیال کے لئے سال بھر کا خرچ نه هو اور اس کا کوئی روزگار بھی نه هو جس کے ذریعے وه اپنے اهل و عیال کا سال بھر کا خرچ پورا کرسکے وه فقیر هے اور اس پر فطره دینا واجب نهیں هے۔
ص:373
2001۔ جو لوگ عید الفطر کی رات غروب کے وقت کسی شخص کے هاں کھانے والے سمجھے جائیں ضروری هے که وه شخص ان کا فطره دے، قطع نظر اس سے که وه چھوٹے هوں یا بڑے مسلمان هوں یا کافر، ان کا خرچه اس پر واجب هو یا نه هو اور وه اس کے شهر میں هوں یا کسی دوسرے شهر میں هوں۔
2002۔ اگر کوئی شخص ایک ایسے شخص کو جو اس کے هاں کھانا کھانے والا گردانا جائے، اسے دوسرے شهر میں نمائنده مقرر کرے که اس کے (یعنی صاحب خانه کے) مال سے اپنا فطره دے دے اور اسے اطمینان هو که وه شخص فطره دے دے گا تو خود صاحب خانه کے لئے اس کا فطره دینا ضروری نهیں۔
2003۔ جو مهمان عیدالفطر کی رات غروب سے پهلے صاحب خانه کی رضامندی کے بغیر اس کے گھر آئے اور اس کے هاں کھانا کھانے والوں میں اگرچه وقتی طور پر شمار هو اس کا فطره صاحب خانه پر واجب هے۔
2004۔ جو مهمان عیدالفطر کی رات غروب پهلے صاحب خانه کی رضامندی کے بغیر اس کے گھر آئے اور کچھ مدت صاحب کا خرچه دینے پر مجبور کیا گیا هو تو اس کے فطرے کے لئے بھی یهی حکم هے۔
2005۔ جو مهمان عیدالفطر کی رات غروب کے بعد وارد هو اگر وه صاحب خانه کے هاں کھانا کھانے والا شمار هو تو اس کا فطره صاحب خانه پر احتیاط کی بنا پر واجب هے اور اگر کھانا کھانے والا شمار نه هو تو واجب نهیں هے خواه صاحب خانه نے اسے غروب سے پهلے دعوت دی هو اور وه افطار بھی صاحب خانه کے گھر پر هی کرے۔
2006۔ اگر کوئی شخص عیدالفطر کی رات غروب کے وقت دیوانه هو اور اس کی دیوانگی عیدالفطر کے دن ظهر کے وقت تک باقی رهے تو اس پر فطره واجب نهیں هے ورنه احتیاط واجب کی بنا پر لازم هے که فطره دے۔
2007۔ غروب آفتاب سے پهلے اگر کوئی بچه بالغ هو جائے یا کوئی دیوانه عاقل هوجائے یا کوئی فقیر غنی هوجائےتو اگر وه فطره واجب هونے کی شرائط پوری کرتا هو تو ضروری هے که فطره دے۔
2008۔ جس شخص پر عیدالفطر کی رات غروب کے وقت فطره واجب نه هو اگر عید کے دن ظهر کے وقت سے پهلے تک فطره واجب هونے کی شرائط اس میں موجود هو جائیں تو احتیاط واجب یه هے که فطره دے۔
ص:374
2009۔ اگر کوئی کافر عیدالفطر کی رات غروب آفتاب کے بعد مسلمان هو جائے تو اس پر فطره واجب نهیں هے لیکن اگر ایک ایسا مسلمان جو شیعه نه هو وه عید کا چاند دیکھنے کے بعد شیعه هو جائے تو ضروری هے که فطره دے۔
2010۔جس شخص کے پاس صرف اندازاً ایک صاع گیهوں یا اسی جیسی کوئی جنس هو اس کے لئے مستحب هے که فطره دے اور اگر اس کے اهل و عیال بھی هوں اور وه ان کا فطره بھی دینا چاهتا هو تو وه ایسا کر سکتا هے که فطرے کی نیت سے ایک صاع گیهوں وغیره اپنے اهل و عیال میں سے کسی ایک و دے دے اور وه بھی اسی نیت سے دوسرے کو دے دے اور وه اسی طرح دیتے رهیں حتی که وه جنس خاندان کے آخری فرد تک پهنچ جائے اور بهتر هے که جو چیز آخری فرد کو ملے وه کسی ایسے شخص کو دے جو خود ان لوگوں میں سے نه هو جنهوں نے فطره ایک دوسرے کو دیا هے اور اگر ان لوگوں میں سے کوئی نابالغ هو تو اس کا سرپرست اس کی بجائے فطره لے سکتا هے اور احتیاط یه هے که جو چیز نابالغ کے لئے لی جائے وه کسی دوسرے کونه دی جائے۔
2011۔ اگر عید الفطر کی رات غروب کے بعد کسی کے هاں بچه پیدا هو تو اس کا فطره دینا واجب نهیں هے لیکن احتیاط واجب یه هے که جو اشخاص غروب کے بعد سے عید کے دن ظهر سے پهلے تک صاحب خانه کے هاں کھانا کھانے والوں میں سمجھے جائیں وه ان سب کا فطره دے۔
2012۔ اگر کوئی شخص کسی کے هاں کھانا کھاتا هو اور غروب سے پهلے کسی دوسرے کے هان کھانا کھانے والا هوجائے تو اس کا فطره اسی شخص پر واجب هے جس کے هاں وه کھانا کھانے والا بن جائے مثلاً اگر عورت غروب سے پهلے شوهر کے گھر چلی جائے تو ضروری هے که شوهر اس کا فطره دے۔
2013۔ جس شخص کا فطره کسی دوسرے شخص پر واجب هو اس پر اپنا فطره خود دینا واجب نهیں هے۔
2014۔جس شخص کا فطره کسی دوسرے شخص پر واجب هو اگر وه نه دے تو احتیاط کی بنا پر فطه خود اس شخص پر فطره واجب هوجاتا هے۔ جو شرائط مسئله 1999 میں بیان هوئی هیں اگر وه موجود هوں تو اپنا فطره خود ادا کرے ۔
2015۔ جس شخص کا فطره کسی دوسرے شخص پر واجب هو اگر وه خود اپنا فطره دے دے تو جس شخص پر اس کا فطره واجب هو اس پر سے اس کی ادائیگی کا وجوب ساقط نهیں هوتا۔
ص:375
2016۔ جس عورت کا شوهر اس کو خرچ نه دیتا هو اگر وه کسی دوسرے کے هاں کھانا کھاتی هو تو اس کا فطره اس شخص پر واجب هے جس کے هاں وه کھانا کھاتی هے اور اگر وه کسی کے هاں کھانا نه کھاتی هو اور فقیر بھی نه هو تو ضروری هے که اپنا فطره خود دے۔
2017۔ غیر سَیِّد، سَیِّد کو فطره نهیں دے سکتا حتی که اگر سید اس کے هاں کھانا کھاتا هو تب بھی اس کا فطره وه کسی دوسرے سید کو نهیں دے سکتا۔
2018۔ جو بچه ماں یا دایه کا دودھ پیتا هو اس کا فطره اس شخص پر واجب هے جو ماں یا دایه کے اخراجات برداشت کرتا هو لیکن اگر ماں یا دایه کا خرچ خود بچے کے مال سے پورا هو تو بچے کا فطره کسی پر واجب نهیں هے۔
2019۔انسان اگرچه اپنے اهل و عیال کا خرچ حرام مال سے دیتا هو، ضروری هے که ان کا فطره حلال مال سے دے۔
2020۔ اگر انسان کسی شخص کو اجرت پر رکھے جیسے مستری، بڑھئی یا خدمت گار اور اس کا خرچ اس طرح دے که وه اس کا کھانا کھانے والوں میں شمار هو تو ضروری هے که اس کا فطره بھی دے۔ لیکن اگر اسے صرف کام کی مزدوری دے تو اس (اجیر) کا فطره ادا کرنا اس پر واجب نهیں هے۔
2021۔ اگر کوئی شخص عیدالفطر کی رات غروب سے پهلے فوت هو جائے تو اس کا اور اس کے اهل و عیال کا فطره اس کے مال سے دینا واجب نهیں۔ لیکن اگر غروب کے بعد فوت هو تو مشهور قول کی بنا پر ضروری هے که اس کا اور اس کے اهل و عیال کا فطره اس کے مال سےدیا جائے۔ لیکن یه حکم اشکال سے خالی نهیں هے۔ اور اس مسئلے میں احتیاط کے پهلو کو ترک نهیں کرنا چاهئے۔