لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2022۔ فطره احیتاط واجب کی بنا پر فقط ان شیعه اثنا عشری فقراء کو دینا ضروری هے، جو ان شرائط پر پورے اترتے هوں جن کا ذکر زکوٰۃ کے مستحقین میں هوچکا هے۔ اور اگر شهر میں شیعه اثنا عشری فقراء نه ملیں تو دوسرے مسلمان فقراء کو فطره دے سکتا هے لیکن ضروری هے که کسی بھی صورت میں "ناصبی" کو نه دیاجائے۔
ص:376
2023۔ اگر کوئی شیعه بچه فقیر هو تو انسان یه کر سکتا هے که فطره اس پر خرچ کرے یا اس کے سرپرست کو دے کر اسے بچے کی ملکیت قرار دے۔
2024۔ جس فقیر کو فطره دیا جائے ضروری نهیں که وه عادل هو لیکن احتیاط واجب یه هے که شرابی اور بے نمازی کو اور اس شخص کو جو کھلم کھلا گناه کرتا هو فطره نه دیا جائے۔
2025۔ جو شخس فطره ناجائز کاموں میں خرچ کرتا هو ضروری هےکه اسے فطره نه دیا جائے
2026۔ احتیاط مستحب یه هے که ایک فقیر کو ایک صاع سے کم فطره نه دیا جائے۔ البته اگر ایک صاع سے زیاده دیا جائے تو کوئی اشکال نهیں هے۔
2027۔ جب کسی جنس کی قیمت اسی جنس کی معمولی قسم سے دگنی هو مثلاً کسی گیهوں کی قیمت معمولی قسم کی گیهوں کی قیمت سے دو چند هو تو اگر کوئی شخص اس (بڑھیا جنس) کا آدھا صاع بطور فطره دے تو یه کافی نهیں هے بلکه اگر وه آدھا صاع فطره کی قیمت کی نیت سےبھی دے تو بھی کافی نهیں هے۔
2029۔ انسان کے لئے مستحب هے که زکوٰۃ دینے میں اپنے فقیر رشتے داروں اور همسایوں کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دے۔ اور بهتر یه هے که اهل علم و فضل اور دیندار لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دے۔
2030۔اگر انسان یه خیال کرتے هوئے که ایک شخص فقیر هے اسے فطره دے اور بعد میں معلوم هو که وه فقیر نه تھا تو اگر اس نے جو مال فقیر کو دیا تھا وه ختم نه هوگیا هو تو ضروری هے که واپس لے لے اور مستحق کو دے دے اور اگر واپس نه لے سکتا هو تو ضروری هے که خود اپنےمال سے فطرے کا عوض دے اور اگر وه مال ختم هوگیا هو لیکن لینے والے کو علم هو که جو کچھ اس نے لیا هے وه فطره هے تو ضروری هے که اس کا عوض دے اور اگر اسے یه علم نه هو تو عوض دینا اس پر واجب نهیں هے اور ضروری هے که انسان فطرے کا عوض دے۔
2031۔ اگر کوئی شخص کهے که میں فقیر هوں تو اسے فطرے نهیں دیا جاسکتا بجز اس صورت کے که انسان کو اس کے کهنے سے اطمینان هو جائے یا انسان کو علم هو که وه پهلے فقیر تھا۔