لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
اشاره
1054۔ نماز پرھنے والے کے لئے ضروری هے که واجب اور مستحب نمازوں کی هر رکعت میں رکوع کے بعد دو سجدے کرے۔ سجده یه هے که خاص شکل میں پیشانی کو خضوع کی نیت سے زمین پر رکھے اور نماز کے سجدے کی حالت میں واجب هے که دونوں هتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاوں کے انگوٹھے زمین پر رکھے جائیں۔
1055۔دو سجدے مل کر ایک رکن هیں اور اگر کوئی شخص واجب نماز میں عمداً یا بھولے سے ایک رکعت میں دونوں سجدے ترک کر دے تو اس کی نماز باطل هے۔ اور اگر بھول کر ایک رکعت میں دو سجدوں کا اضافه کرے تو احتیاط لازم کی بنا پر یهی حکم هے۔
1056۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایک سجده کم یا زیاده کر دے تو اس کی نماز باطل هے اور اگر سهواً ایک سجده کم یا زیاده کرے تو اس کا حکم بعد میں بیان کیا جائے گا۔
1057۔ جو شخص پیشانی زمین پر رکھ سکتا هو اگر جان بوجھ کر یا سهواً پیشانی زمین پر نه رکھے تو خواه بدن کے دوسرے حصے زمین سے لگ بھی گئے هوں تو اس نے سجده نهیں کیا لیکن اگر وه پیشانی زمین پر رکھ دے اور سهواً بدن کے دوسرے حصے زمین پر نه رکھے یا سهواً ذکر نه پڑھے تو اس کا سجده صحیح هے۔
1058۔ بهتر یه هے که اختیار کی حالت میں سجدے میں تین دفعه "سُبحَانَ الله" یا ایک دفعه "سُبحَاَنَ رَبِّ الاَعلٰی وَبِحَمدِه" پڑھے اور ضروری هے که یه جملے مسلسل اور صحیح عربی میں کهے جائیں اور ظاهر یه هے که هر ذکر کا پڑھنا کافی هے لیکن احتیاط لازم کی بنا پر ضروری هے که اتنی هی مقدار میں هو اور مستحب هے که "سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی وَبِحَمدِه" تین یا پانچ یا سات دفعه یا اس سے بھی زیاده مرتبه پڑھے۔
1059۔ سجدے کی حالت میں ضروری هے که نمازی کا بدن ساکن هو اور حالت اختیار میں اسے اپنے بدن کو اس طرح حرکت نهیں دینا چاهئے که سکون کی حالت سے نکل جائے اور جب واجب ذکر میں مشغول نه هو تو احتیاط کی بنا پر یهی حکم هے۔
ص:209
1060۔ اگر اس پیشتر که پیشانی زمین سے لگے اور بدن سکون حاصل کرلے کوئی شخص جان بوجھ کر ذکر سجده پڑھے یا ذکر ختم هونے سے پهلے جان بوجھ کر سر سجدے سے اٹھالے تو اسکی نماز باطل هے۔
1061۔ اگر اس سے پیشتر که پیشانی زمین پر لگے کوئی شخص سهواً ذکر سجده پڑھے اور اس سے پیشتر که سر سجدے سے اٹھائے اسے پته چل جائے که اس نے غلطی کی هے تو ضروری هے که ساکن هو جائے اور دوباره ذکر پڑھے۔
1062۔ اگر کسی شخص کو سر سجدے سے اٹھالینے کے بعد پته چلے که اس نے ذکر سجده ختم هونے سے پهلے سر اٹھا لیا هے تو اس کی نماز صحیح هے۔
1063۔ جس وقت کوئی شخص ذکر سجده پڑھ رها هو اگر وه جان بوجھ کر سات اعضائے سجده میں سے کسی ایک کو زمین پر سے اٹھائے تو اس کی نماز باطل هو جائے گی لیکن جس وقت ذکر پڑھنے میں مشغول نه هو اگر پیشانی کے علاوه کوئی عضو زمین پر سے اٹھالے اور دوباره رکھ دے تو کوئی حرج نهیں هے۔ لیکن اگر ایسا کرنا اس کے بدن کے ساکن هونے کے منافی هو تو اس صورت میں احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل هے۔
1064۔ اگر ذکر سجده ختم هونے سے پهلے کوئی شخص سهواً پیشانی زمین اٹھالے تو اسے دوباره زمین پر نهیں رکھ سکتا اور ضروری هے که اسے ایک سجده شمار کرے لیکن اگر دوسرے اعضا سهواً زمین پر سے اٹھائے تو ضروری هے که انهیں دوباره زمین پر رکھے اور ذکر پڑھے۔
1065۔ پهلے سجدے کا ذکر ختم هونے کے بعد ضروری هے که بیٹھ جائے حتی که اس کا بدن سکون حاصل کرلے اور پھر دوباره سجدے میں جائے۔
1066۔ نماز پڑھنے والے کی پیشانی رکھنے کی جگه گھٹنوں اور پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگه سے چار ملی هوئی انگلیوں سے زیاده بلند یا پست نهیں هونی چاهئے۔ بلکه احتیاط واجب یه هے که اس کی پیشانی کی جگه اس کے کھڑے هونے کی جگه سے چار ملی هوئی انگلیوں سے زیاده نیچی یا اونچی بھی نه هو۔
ص:210
1067۔ اگر کسی ایسی ڈھلوان جگه میں اگرچه اس کا جھکاو صحیح طور پر معلوم نه هو نماز پڑھنے والے کی پیشانی کی جگه اس کے گھٹنوں اور پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگه سے چار ملی هوئی انگلیوں سے زیاده بلند یا پست هو تو اس کی نماز میں اشکال هے۔
1068۔ اگر نماز پڑھنے والا اپنی پیشانی کی غلطی سے ایک ایسی چیز پر رکھ دے جو گھٹنوں اور اس کے پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگه سے چار ملی هوئی انگلیوں سے زیاده بلند هو اور ان کی بلندی اس قدر هو که یه نه کهه سکیں که سجدے کی حالت میں هے تو ضروری هے که سر کو اٹھائے اور ایسی چیز پر جس کی بلندی چار ملی هوئی انگلیوں سے زیاده نه هو رکھے اور اگر اس کی بلندی اس قدر هو که کهه سکیں که سجدے کی حالت میں هے تو پھر واجب ذکر پڑھنے کے بعد متوجه هو تو سر سجدے سے اٹھا کر نماز کو تمام کر سکتا هے۔ اور اگر واجب ذکر پڑھنے سے پهلے متوجه هو تو ضروری هے که پیشانی کو اس چیز سے هٹا کر اس چیز پر رکھے که جس کی بلندی چار ملی هوئی انگلیوں کے برابر یا اس سے کم هو اور واجب ذکر پڑھے اور اگر پیشانی کو هٹاتا ممکن نه هو تو واجب ذکر کو اسی حالت میں پڑھے اور نماز کو تمام کرے اور ضروری نهیں که نماز کو دوباره پڑھے۔
1069۔ ضروری هے که نماز پڑھنے والے کی پیشانی اور اس چیز کے درمیان جس پر سجده کرنا صحیح هے کوئی دوسری چیز نه هو پس اگر سجده گاه اتنی میلی هو که پیشانی سجده گاه کو نه چھوئے تو اس کا سجده باطل هے۔ لیکن اگر سجده گاه کارنگ تبدیل هوگیا هو تو کوئی حرج نهیں۔
1070۔ ضروری هے که سجدے میں دونوں هتھیلیاں زمین پر رکھے لیکن مجبوری کی حالت میں هاتھوں کی پشت بھی زمین پر رکھے تو کوئی حرن نهیں اور اگر هاتھوں کی پشت بھی زمین پر رکھنا ممکن نه هو تو احتیاط کی بنا ضروری هے که هاتھوں کی کلائیاں زمین پر رکھے اور اگر انهیں بھی نه رکھ سکے تو پھر کهنی تک جو حصه بھی ممکن هو زمین پر رکھے اور اگر یه بھی ممکن نه هو تو پھر بازو کا رکھنا بھی کافی هے۔
1071۔ (نماز پڑھنے والے کے لئے) ضروری هے که سجدے میں پاوں کے دونوں انگوٹھے زمین پر رکھے لیکن ضروری نهیں که دونوں انگوٹھوں کے سرے زمین پر رکھے بلکه ان کا ظاهری یا باطنی حصه بھی رکھے تو کافی هے۔ اور اگر پاوں کی دوسری انگلیاں یا پاوں کا اوپر والا حصه زمین پر رکھے یا ناخن لمبے هونے کی بنا پر انگوٹھوں کے سرے زمین پر نه لگیں تو نماز باطل هے اور جس شخص نے کوتاهی اور مسئله نه جاننے کی وجه سے اپنی نمازیں اس طرح پڑھی هوں ضروری هے که انھیں دوباره پڑھے۔
ص:211
1072۔ جس شخص کے پاوں کے انگوٹھوں کے سروں سے کچھ حصه کٹا هوا هو ضروری هے که جتنا باقی هو وه زمین پر رکھے اور اگر انگوٹھوں کا کچھ حصه بھی نه بچا هو اور اگر بچا بھی هو تو بهت چھوٹا هو تو احتیاط کی بنا پر ضروری هے که باقی انگلیوں کو زمین پر رکھے اور اگر اس کی کوئی بھی انگلی نه هو تو پاوں کا جتنا حصه بھی باقی بچا هو اسے زمین پر رکھے۔
1073۔ اگر کوئی شخص معمول کے خلاف سجده کرے مثلا سینے اور پیٹ کو زمین پر ٹکائے یا پاوں کو کچھ پھیلائے چنانچه اگر کها جائے که اس نے سجده کیا هے تو اس کی نماز صحیح هے لیکن اگر کها جائے که اس نے پاوں پھیلائے هیں اور اس پر سجده کرنا صادق نه آتا هو تو اس کی نماز باطل هے۔
1074۔ سجده گاه یا دوسری چیز جس پر نماز پڑھنے والا سجدے کرے ضروری هے که پاک هو لیکن اگر مثال کے طور پر سجده گاه کو نجس فرش پر رکھ دے یا سجده گاه کی ایک طرف نجس هو اور وه پیشانی پاک طرف رکھے تو کوئی حرج نهیں هے۔
1075۔ اگر نماز پڑھنے والے کی پیشانی پر پھوڑا یا زخم یا اس طرح کی کوئی چیز هو۔ جس کی بنا پر وه پیشانی زمین پر نه رکھ سکتا هو مثلاً اگر وه پھوڑا پوری پیشانی کو نه گھیرے هوئے هو تو ضروری هے که پیشانی کے صحت مند حصے سے سجده کرے اور اگر پیشانی کی صحت مند جگه پر سجده کرنا اس بات پر موقوف هو که زمین کو کھودے اور پھوڑے کو گڑھے میں اور صحت مند جگه کی اتنی مقدار زمین پر رکھے که سجدے کے لئے کافی هو تو ضروری هے که اس کام کا انجام دے۔
1076۔ اگر پھوڑا یا زخم تمام پیشانی پر پھیلا هوا هو تو نماز پڑھنے والے کے لئے ضروری هے که اپنے چهرے که کچھ حصے سے سجده کرے اور احتیاط لازم یه هے که اگر ٹھوڑی سے سجده کرسکتا هو تو ٹھوڑی سے سجده کرے اور اگر نه کر سکتا هو تو پیشانی کے دونوں اطراف میں سے ایک طرف سے سجده کرے اور اگر چهرے سے سجده کرنا کسی طرح بھی ممکن نه هو تو ضروری هے که سجدے کے لئے اشاره کرے۔
1077۔ جو شخص بیٹھ سکتا هو لیکن پیشانی زمین پر نه رکھ سکتا هو ضروری هے که جس قدر بھی جھک سکتا هو جھکے اور سجده گاه یا کسی دوسری چیز کو جس پر سجده صحیح هو کسی بلند چیز پر رکھے اور اپنی پیشانی اس پر اس طرح رکھے که لوگ کهیں که اس نے سجده کیا هے لیکن ضروری هے که هتھیلیوں اور گھٹنوں اور پاوں کے انگوٹھوں کو معمول کے مطابق زمین پر رکھے۔
ص:212
1078۔ اگر کوئی ایسی بلند چیز نه هو جس پر نماز پڑھنے والا سجده گاه یا کوئی دوسری چیز جس پر سجده کرنا صحیح هو رکھ سکے اور کوئی شخص بھی نه هو جو مثلاً سجده گاه کو اٹھائے اور پکڑے تا که وه شخص اس پر سجده کرے تو احتیاط یه هے که سجده گاه یا دوسری چیز کو جس پر سجده کر رها هو هاتھ سے اٹھائے اور اس پر سجده کرے۔
1079۔اگر کوئی شخص بالکل هی سجده نه کر سکتا هو تو ضروری هے که سجدے کے لئے سر سے اشاره کرے اور اگر ایسا نه کرسکے تو ضروری هے که آنکھوں سے اشاره کرے اور اگر آنکھوں سے بھی اشاره نه کرسکتا هو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری هے که هاتھ وغیره سے سجدے کے لئے اشاره کرے اور دل میں بھی سجدے کی نیت کرے اور واجب ذکر ادا کرے۔
1080۔ اگر کسی شخص کی پیشانی بے اختیار سجدے کی جگه سے اٹھ جائے تو ضروری هے که حتی الامکان اسے دوباره سجدے کی جگه پر نه جانے دے قطع نظر اس کے که اس نے سجدے کا ذکر پڑھا هو یا نه پڑھا هو یه ایک سجده شمار هوگا۔ اور اگر سر کو نه روک سکے اور وه بے اختیار دوباره سجدے کی جگه پهنچ جائے تو وهی ایک سجده شمار هوگا۔ لیکن اگر واجب ذکر ادا نه کیا هو تو احتیاط مستحب یه هے که اسے قربت مُطلَقَه کی نیت سے ادا کرے۔
1081۔ جهاں انسان کے لئے تقیه کرنا ضروری هے وهاں وه قالین یا اسطرح کی چیز پر سجده کرے اور یه ضروری نهیں که نماز کے لئے کسی دوسری جگه جائے یا نماز کو موخر کرے تا که اسی جگه پر اس سبب کے ختم هونے کے بعد نماز ادا کرے۔ لیکن اگر چٹائی یا کسی دوسری چیز جس پر سجده کرنا صحیح هو اگر وه اس طرح سجدےکرے که تقیه کی مخالفت نه هوتی هو تو ضروری هے که پھر وه قالین یا اس سے ملتی جلتی چیز پر سجده نه کرے۔
1082۔ اگر کوئی شخص (پرندوں کے) پروں سے بھرے گدے یا اسی قسم کی کسی دوسری چیز پر سجده کرے جس پر جم سکون کی حالت میں نه رهے تو اس کی نماز باطل هے۔
1083۔ اگر انسان کیچڑ والی زمین پر نماز پڑھنے پر مجبور هو اور بدن اور لباس کا آلوده هو جانا اس کے لئے مشقت کا موجب نه هو تو ضروری هے که سجده اور تشهد معمول کے مطابق بجالائے اور اگر ایسا کرنا مشقت کا موجب هو تو قیام کی حالت میں سجدے کے لئے سر سے اشاره کرے اور تشهد کھڑے هو کر پڑھے تو اس کی نماز صحیح هوگی۔
ص:213
1084۔ پهلی رکعت میں اور مثلاً نماز ظهر، نماز عصر، اور نماز عشا کی تیسری رکعت میں جس میں تشهد نهیں هے احتیاط واجب یه هے که انسان دوسرے سجدے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سکون سے بیٹھے اور پھر کھڑا هو۔
وه چیزیں جن پر سجده کرنا صحیح هے
1085۔ سجده زمین پر اور ان چیزوں پر کرنا ضروری هے جو کھائی اور پهنی نه جاتی هوں اور زمین سے اگتی هوں مثلاً لکڑی اور درختوں کے پتے پر سجده کرے۔ کھانے اور پهننے کی چیزوں مثلاً گندم، جو اور کپاس پر اور ان چیزوں پر جو زمین کے اجزاء شمار نهیں هوتیں مثلاً سونے، چاندی اور اسی طرح کی دوسری چیزوں پر سجده کرنا صحیح نهیں هے لیکن تار کول اور گنده بیروزا کی مجبوری کی حالت میں دوسری چیزوں کے مقابلے میں که جن پر سجده کرنا صحیح نهیں سجدے کے لئے اولیت دے۔
1086۔ انگور کے پتوں پر سجده کرنا جبکه وه کچے هوں اور انھیں معمولاً کھایا جاتا هو جائز نهیں۔ اس صورت کے علاوه ان پر سجده کرنے میں ظاهراً کوئی حرج نهیں۔
1087۔ جو چیزیں زمین سے اگتی هیں اور حیوانات کی خوراک هیں مثلاً گھاس اور بھوسا ان پر سجده کرنا صحیح هے۔
1088۔جن پھولوں کو کھایا نهیں جاتا ان پر سجده صحیح هے بلکه ان کھانے کی دواوں پر بھی سجده صحیح هے جو زمین سے اگتی هیں اور انھیں کوٹ کر یا جوش دیکر انکا پانی پیتے هیں مثلاً گل بنفشه اور گل گاو زبان، پر بھی سجده صحیح هے۔
1089۔ ایسی گھاس جو بعض شهروں میں کھائی جاتی هو اور بعض شهروں میں کھائی تو نه جاتی هو۔ لیکن وهاں اسے اشیاء خوردنی میں شمار کیا جاتا هو اس پر سجده صحیح نهیں اور کچے پھلوں پر بھی سجده کر صحیح نهیں هے۔
1090۔ چونے کے پتھر اور جپسم پر سجده کرنا صحیح هے اور احتیاط مستحب یه هے که اختیار کی حالت میں پخته جپسم اور چونے اور اینٹ اور مٹی کے پکے هوئے برتنوں اور ان سے ملتی جلتی چیزوں پر سجده نه کیا جائے۔
1091۔ اگر کاغذ کو ایسی چیز سے بنایا جائے که جس پر سجده کرنا صحیح هے مثلاً لکڑی اور بھوسے سے تو اس پر سجده کیا جاسکتا هے اور اسی طرح اگر روئی یا کتان سے بنایا گیا هو تو بھی اس پر سجده کرنا صحیح هے لیکن اگر ریشم یا ابریشم اور اسی طرح کی کسی چیز سے بنایا گیا هو تو اس پر سجده صحیح نهیں هے۔
ص:214
1092۔ سجدے کے لئے خاک شفا سب چیزوں سے بهتر هے اس کے بعد مٹی، مٹی کے بعد پتھر اور پتھر کے بعد گھاس هے۔
1093۔ اگر کسی کے پاس ایسی چیز نه هو جس پر سجده کرنا صحیح هے یا اگر هو تو سردی یا زیاده گرمی وغیره کی وجه سے اس پر سجده نه کرسکتا هو تو ایسی صورت میں تار کول اور گنده بیروزا کو سجدے کے لئے دوسری چیزوں پر اولیت حاصل هے لیکن اگر ان پر سجده کرنا ممکن نه هو تو ضروری هے که اپنے لباس یا اپنے هاتھوں کی پشت یا کسی دوسری چیز پر که حالت اختیار میں جس پر سجده جائز نهیں سجده کرے لیکن احتیاط مستحب یه هے که جب تک اپنے کپڑوں پر سجده ممکن هو کسی دوسری چیز پر سجده نه کرے۔
1094۔ کیچڑیر اور ایسی نرم مٹی پر جس پر پیشانی سکون سے نه ٹک سکے سجده کرنا باطل هے ۔
1095۔ اگر پهلے سجدے میں سجده گاه پیشانی سے چپک جائے تو دوسرے سجدے کے لئے اسے چھڑا لینا چاهئے۔
1096۔جس چیز پر سجده کرنا هو اگر نماز پڑھنے کے دوران وه گم هو جائے اور نماز پڑھنے والے کے پاس کوئی ایسی چیز نه هو جس پر سجده کرنا صحیح هو تو جو ترتیب مسئله 1093 میں بتائی گئ هے اس پر عمل کرے خواه وقت تنگ هو یا وسیع، نماز کو توڑ کر اس کا اعاده کرے۔
1097۔ جب کسی شخص کو سجدے کی حالت میں پته چلے که اس نے اپنی پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھی هے جس پر سجده کرنا باطل هے چنانچه واجب ذکر ادا کرنے کے بعد متوجه هو تو سر سجدے سے اٹھائے اور اپنی نماز جاری رکھے اور اگر واجب ذکر ادا کرنے سے پهلے متوجه هو تو ضروری هے که اپنی پیشانی کو اس چیز پر که جس پر سجده کرنا صحیح هے لائے اور واجب ذکر پڑھے لیکن اگر پیشانی لانا ممکن نه هو تو اسی حال میں واجب ذکر ادا کر سکتا هے اور اس کی نماز هر دو صورت میں صحیح هے۔
1098۔ اگر کسی شخص کو سجدے کے بعد پته چلے که اس نے اپنی پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھی هے جس پر سجده کرنا باطل هے تو کوئی حرج نهیں ۔
ص:215
1099۔ الله تعالی کے علاوه کسی دوسرے کو سجده کرنا حرام هے۔ عوام میں سے بعض لوگ جو ائمه علیهم السلام کے مزارات مقدسه کے سامنے پیشانی زمین پر رکھتے هیں اگر وه الله تعالی کا شکر ادا کرنے کی نیت سے ایسا کریں تو کوئی حرج نهیں ورنه ایسا کرنا حرام هے۔
سجده کے مستحبات اور مکروهات
1100۔ چند چیزیں سجدے میں مستحب هیں :
1۔ جو شخص کھڑا هو کر نماز پڑھ رها هو وه رکوع سر اٹھانے کے بعد مکمل طور پر کھڑے هو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنے والا رکوع کے بعد پوری طرح بیٹھ کر سجده میں جانے کے لئے تکبیر کهے۔
2۔ سجدے میں جاتے وقت مرد پهلے اپنی هتھیلیوں اور عورت اپنے گھٹنوں کو زمین پر رکھے۔
3۔ نمازی ناک کو سجده گاه یا کسی ایسی چیز پر رکھے جس پر سجده کرنا درست هو۔
4۔ نمازی سجدے کی حالت میں هاتھ کی انگلیوں کو ملا کر کانوں کے پاس اس طرح رکھے که ان کے سرے رو به قبله هوں۔
5۔ سجدے میں دعا کرے، الله تعالی سے حاجت طلب کرے اور یه دعا پڑھے :
"یَاخَیرَ المَسئُولِینَ وَیاَخَیرَ المُعطِینَ ارزُقنِی وَ ارزُق عَیَالِی مِن فضلِکَ فَاِنَکَ ذُوالفَضلِ الَظِیمِ "۔
یعنی :اے ان سب میں سے بهتر جن سے که مانگا جاتا هے اور اے ان سب سے برتر جو عطا کرتے هیں۔ مجھے اور میرے اهل و عیال کو اپنے فضل و کرم سے رزق عطا فرما کیونکه تو هی فضل عظیم کا مالک هے۔
6۔ سجدے کے بعد بائیں ران پر بیٹھ جائے اور دائیں پاوں کا اوپر والا حصه (یعنی پشت) بائیں پاوں کے تلوے پررکھے۔
7۔ هر سجدے کے بعد جب بیٹھ جائے اور بدن کو سکون حاصل هوجائے تو تکبیر کهے۔
8۔ پهلے سجدے که بعد جب بدن کو سکون حاصل هو جائے تو "اَستَغفِرُاللهَ رَبّیِ وَاَتُوبُ اِلَیهِ" کهے۔
ص:216
9۔ سجده زیاده دیر تک انجام دے اور بیٹھنے کے وقت هاتھوں کو رانوں پر رکھے
10۔ دوسرے سجدے میں جانے کے لئے بدن کے سکون کی حالت میں اَللهُ اَکبَر کهے :
11۔ سجدوں میں درود پڑھے۔
12۔ سجدے یا قیام کے لئے اٹھتے وقت پهلے گھٹنوں کو اور ان کے بعد هاتھوں کو زمین سے اٹھائے۔
13۔ مرد کهنیوں اور پیٹ کو زمین سے نه لگائیں نیز بازووں کو پهلو سے جدا رکھیں۔ اور عورتیں کهنیاں اور پیٹ زمین پر رکھیں اور بدن کے اعضاء کو ایک دوسرے سے ملالیں۔ ان کے علاوه دوسرے مستحبات بھی هیں جن کا ذکر مفصل کتابوں میں موجود هے۔
1101۔ سجدے میں قرآن مجید پڑھنا مکروه هے اور سجدے کی جگه کو گردوغبار جھاڑنے کے لئے پھونک مارنا بھی مکروه هے بلکه اگر پھونک مارنے کی وجه سے دو حرف بھی منه سے عمداً نکل جائیں تو احتیاط کی بنا پر نماز باطل هے اور ان کے علاوه اور مکروهات کا ذکر بھی مفصل کتابوں میں آیا هے۔
قرآن مجید کے واجب سجدے
1102۔ قرآن مجید کی چار سورتوں یعنی وَالنَّجم، اِقرَا، الٓمّ تنزیل اور حٰمٓ سجده میں سے هر ایک میں ایک آیه سجده هے جسے اگر انسان پڑھے یا سنے تو آیت ختم هونے کے بعد فوراً سجده کرنا ضروری هے اور اگر سجده کرنا بھول جائے تو جب بھی اسے یاد آئے سجده کرے اور ظاهر یه هے که آیه سجده غیر اختیاری حالت میں سنے تو سجده واجب نهیں هے اگرچه بهتریه هے که سجده کیا جائے۔
1103۔ اگر انسان سجدے کی آیت سننے کے وقت خود بھی وه آیت پڑھے تو ضروری هے که دو سجدے کرے۔
1104۔ اگر نماز کے علاوه سجدے کی حالت میں کوئی شخص آیه سجده پڑھے یا سنے تو ضروری هے که سجدے سے سر اٹھائے اور دوباره سجده کرے۔
ص:217
1105۔ اگر انسان سوئے هوئے شخص یا دیوانے یا بچے سے جو قرآن سمجھ کر نه پڑھ رها هو سجدے کی آیت سنے یا اس پر کان دھرے تو سجده واجب هے۔ لیکن اگر گرامافون یا ٹیپ ریکارڈ سے (ریکارڈشده آیه سجده) سنے تو سجده واجب نهیں۔ اور سجدے کی آیت ریڈیو پر ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے نشر کی جائے تب بھی یهی حکم هے۔ لیکن اگر کوئی شخص ریڈیوں اسٹیشن سے (براه راست نشریات میں) سجدے کی آیت پڑھنے اور انسان اسے ریڈیو پر تو سجده واجب هے۔
1106۔ قرآن کا واجب سجده کرنے کے لئے احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که انسان کی جگه غصبی نه هو اور احتیاط مستحب کی بنا پر اس کے پیشانی رکھنے کی جگه اس کے گھٹنوں اور پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگه سے چار ملی هوئی انگلیوں سے زیاده اونچی یا نیچی نه هو لیکن یه ضروری نهیں که اس نے وضو یا غسل کیا هوا هو یا قبله رخ هو یا اپنی شرمگاه کو چھپائے یا اس کا بدن اور پیشانی رکھنے کی جگه پاک هو۔ اس کے علاوه جو شرائط نماز پڑھنے والے کے لباس کے لئے ضروری هیں وه شرائط قرآن مجید کا واجب سجده ادا کرنے والے کے لباس کے لئے نهیں هیں۔
1107۔ احتیاط واجب یه هے که قرآن مجید کے واجب سجدے میں انسان اپنی پیشانی سجده گاه یا کسی ایسی چیز پر رکھے۔ جس پر سجده کرنا صحیح هو اور احتیاط مستحب کی بنا پر بدن کے دوسرے اعضاء زمین پر اس طرح رکھے۔ جس طرح نماز کے سلسلے میں بتایا گیا هے۔
1108۔ جب انسان قرآن مجید کا واجب سجده کرنے کے ارادے سے پیشانی زمین پر رکھ دے تو خواه وه کوئی ذکر نه بھی پڑھے تب بھی کافی هے اور ذکر کا پڑھنا مستحب هے۔ اور بهتر هے که یه پڑھے:
"لآَ اِلٰهَ الاَّ اللهُ حَقّاً حقّاً، لآَ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ اِیماَناً وّتَصدِیقاً،لآَ اِلٰهَ الاَّ اللهُ عُبُودِیَّۃً وَّرِقاً، سَبَحتُّ لَکَ یَارَبِّ تَعَبُّدًا وَّرِقّاً، مُستَنکِفاً وَّلاَ مُستَکبِرًا، بَل اَنَا عَبدٌ ذَلِیلٌ ضَعِیفٌ خَآئِفٌ مُّستَجِیرٌ۔