لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1618۔ اگر روزه دار جان بوجھ کر سارا سر پانی میں ڈبو دے تو خواه اس کا باقی بدن پانی سے باهر رهےمشهور قول کی بنا پر اس کا روزه باطل هو جاتا هے لیکن بعید نهیں که ایسا کرنا روزے کو باطل نه کرے۔ اگرچه ایسا کرنے میں شدید کراهت هے اور ممکن هو تو اس سے احتیاط کرنا بهتر هے۔
1619۔ اگر روزه دار اپنے نصف سر کو ایک دفعه اور باقی نصف سر کو دوسری دفعه پانی میں ڈبوئے تو اس کا روزه صحیح هونے میں کوئی اشکال نهیں هے۔
1620۔ اگر سارا سر پانی میں ڈوب جائے تو خواه کچھ بال پانی سے باهر بھی ره جائیں تو اس کا حکم بھی مسئله (1618) کی طرح هے۔
1621۔ پانی کے علاوه دوسری سیال چیزوں مثلاً دودھ میں سر ڈبونے سے روزے کو کوئی ضرر نهیں پهنچتا۔ اور مضاف پانی میں سر ڈبونے کا بھی یهی حکم هے۔
1622۔ اگر روزه دار بے اختیار پانی میں گر جائے اور اس کا پورا سر پانی میں ڈوب جائے یا بھول جائے که روزے سے هے اور سر پانی میں ڈبو لے تو اس کے روزے میں کوئی اشکال نهیں هے۔
1623۔ اگر کوئی روزه دار یه خیال کرتے هوئے اپنے آپ کو پانی میں گرا دے که اس کا سر پانی میں نهیں ڈوبے گا لیکن اس کا سارا سر پانی میں ڈوب جائے تو اس کے روزے میں بالکل اشکال نهیں هے۔
ص:305
1624۔ اگر کوئی شخص بھول جائے که روزے سے هے اور سر پانی میں ڈبو دے تو اگر پانی میں ڈوبے هوئے اسے یاد آئے که روزے سے هے تو بهتر یه هے که روزه دار فوراً اپنا سر پانی سے باهر نکالے۔ اور اگر نه نکالے تو اس کا روزه باطل نهیں هوگا۔
1625۔ اگر کوئی شخص روزے دار کے سر کو زبردستی پانی میں ڈبو دے تو اس کے روزے میں کوئی اشکال نهیں هے لیکن جب که وه ابھی پانی میں هے دوسرا شخص اپنا هاتھ هٹا لے تو بهتر هے که فوراً اپنا سر پانی سے باهر نکال لے۔
1626۔ اگر روزه دار غسل کی نیت سے سر پانی میں ڈبو دے تو اس کا روزه اور غسل دونوں صحیح هیں۔
1627۔ اگر کوئی روزه دار کسی کو ڈوبنے سے بچانے کی خاطر سر کو پانی میں ڈبو دے خواه اس شخص کو بچانا واجب هی کیوں نه هو تو احتیاط مستحب یه هے که روزے کی قضا بجالائے۔