لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

صلح کے احکام

2168۔ "صُلح" سے مراد هے که انسان کسی دوسرے شخص کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرے که اپنے مال سے یا اپنے مال کےمنافع سے کچھ مقدار دوسرے کو دے دے یا اپنا قرض یا حق چھوڑے دے تاکه دوسرا بھی اس کے عوض اپنے مال یا منافع کی کچھ مقدار اسے دے دے یا قرض یا حق سے دستبردار هو جائے۔ بلکه اگر کوئی شخص عوض لئے بغیر کسی سے اتفاق کرے اور اپنا مال یا مال کے منافع کی کچھ مقدار اس کو دے دے یا اپنا قرض یا حق چھوڑ دے تب بھی صلح صحیح هے۔

ص:407

2169۔ جو شخص اپنا مال بطور صلح دوسرے کو دے اس کے لئے ضروری هے که وه بالغ اور عاقل هو اور صلح کا قصد رکھتا هو نیز یه که کسی نے اسے صلح پر مجبور نه کیا هو اور ضروری هے که سَفیه یا دیوالیه هونے کی بنا پر اسے اپنے مال میں تصرف کرنے سے نه روکا گیا هو۔

6170۔ صلح کا صیغه عربی میں پڑھنا ضروری نهیں بلکه جن الفاظ سے اس بات کا اظهار هو که فریقین نے آپس میں صلح کی هے (توصلح) صحیح هے۔

2171۔اگر کوئی شخص اپنی بھیڑیں چرواهے کودے تاکه وه مثلاً ایک سال ان کی نگهداشت کرے یا انکے دودھ سے خود استفاده حاصل کرے اور گھی کی کچھ مقدار مالک کو دے تو اگر چرواهے کی محنت اور اس گھی کے مقابلے میں وه شخص بھیڑوں کے دودھ پر صلے کرے تو معامله صحیح هے بلکه اگر بھیڑیں چرواهے کو ایک سال کے لئے اس شرط کے ساتھ اجارے پر دے که وه ان کے دودھ سے استفاده حاصل کرے اور اس کے عوض اسے کچھ گھی دے مگر یه قید نه لگائے که بالخصوص انھی بھیڑوں کے دودھ کا گھی هو تو اجاره صحیح هے۔

2172۔ اگر کوئی قرض خواه اس قرض کے بدلے جو اسے مقروض سے وصول کرنا هے یا اپنے حق کے بدلے اس شخص سے صلح کرنا چاهے تو یه صلح اس صورت میں صحیح هے جب دوسرا اسے قبول کرلے لیکن اگر کوئی شخص اپنے قرض یا حق سے دستبردار هونا چاهے تو دوسرے کا قبول کرنا ضروری نهیں۔

2173۔ اگر مقروض اپنے قرضے کی مقدار جانتا هو جبکه قرض خواه کو علم نه هو اور قرض خواه نے جو کچھ لینا هو اس سے کم پر صلح کرے مثلا اس نے پچاس روپے لینے هوں اور دس روپے پر صلح کرلے تو باقیمانده رقم مقروض کے لئے حلال نهیں هے۔ سوائے اس صورت کے که وه جتنے قرض کا دین دار هے اس کے متعلق خود قرض خواه کو بتائے اور اسے راضی کرے یا صورت ایسی هو که اگر قرض خواه کو قرضے کی مقدار کا علم هو تاتب بھی وه اسی مقدار (یعنی دس روپے پر صلح کر لیتا۔

2174۔ اگر دو آدمیوں کے پاس کوئی مال موجود هو یا ایک دوسرے کے ذمے کوئی مال باقی هو اور انهیں یه علم هو که ان دونوں اموال میں سے ایک مال دوسرے مال سے زیاده هے تو چونکه ان دونوں اموال کو ایک دوسرے کے عوض میں فروخت کرنا سود هونے کی بنا پر حرام هے اس لئے ان دونوں میں ایک دوسرے کے عوض صلح کرنا بھی حرام هے بلکه اگر

ص:408

ان دونوں اموال میں سے ایک کے دوسرے سے زیاده هونے کا علم نه بھی هو لیکن زیاده هونے کا احتمال هو تو احتیاط لازم کی بنا پر ان دونوں میں ایک دوسرے کے عوض صلح نهیں کی جاسکتی۔

2175۔ اگر دو اشخاص کو ایک شخص سے یا دو اشخاص کو اشخاص سے قرضه وصول کرنا هو اور وه اپنی اپنی طلب پر ایک دوسرے سے صلح کرنا چاهتے هوں۔ چنانچه اگر صلح کرنا سود کا باعث نه هو جیسا که سابقه مسئلے میں کها گیا هے تو کوئی حرج نهیں هے مثلاً اگر دونوں کو دس من گیهوں وصول کرنا هو اور ایک کا گیهوں اعلی اور دوسرے کا درمیانے درجے کا هو اور دونوں کی مدت پوری هوچکی هو تو ان دونوں کا آپس میں مصالحت کرنا صحیح هے۔

2176۔ اگر ایک شخص کو کسی سے اپنا قرضه کچھ مدت کے بعد واپس لینا هو اور وه مقروض کے ساتھ مقرره مدت سے پهلے معین مقدار سے کم پر صلح کرلے اور اس کا مقصد یه هو که اپنے قرضے کا کچھ حصه معاف کردے اور باقیمانده نقد لے لے تو اس میں کوئی حرج نهیں اور یه حکم اس صورت میں هے که قرضه سونے یا چاندی کی شکل میں یا کسی ایسی جنس کی شکل میں هو جو ناپ کر یا تول کر بیچی جاتی هے اور اگر جنس اس قسم کی نه هو تو قرض خواه کے لئے جائز هے که اپنے قرضے کو مقروض سے یا کسی اور شخص سے کمتر مقدار پر صلح کرلے یا بیچ دے جیسا که مسئله 2297 میں بیان هوگا۔

2177۔ اگر دو اشخاص کسی چیز پر آپس میں صلح کرلیں تو ایک دوسرے کی رضامندی سے اس صلح کو توڑ سکتے هیں۔ نیز اگر سودے کے سلسلے میں دونوں کو یا کسی ایک کو سودا فسخ کرنے کا حق دیا گیا هو تو جس کے پاس حق هے، وه صلح کو فسخ کر سکتا هے۔

2178۔ جب تک خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے جدا نه هوگئے هوں وه سودے کو فسخ کرسکتے هیں۔ نیز اگر خریدار ایک جانور خریدے تو وه تین دن تک سودا فسخ کرنے کا حق رکھتا هے۔ اسی طرح اگر ایک خریدار خریدی هوئی جنس کی قیمت تین دن تک ادا نه کرے اور جنس کو اپنی تحویل میں نه لے تو جیسا که مسئله 2132 میں بیان هوچکا هے بیچنے والا سودے کو فسخ کرسکتا هے لیکن جو شخص کسی مال پر صلح کرے وه ان تینوں صورتوں میں صلح فسخ کرنے کا حق نهیں رکھتا۔ لیکن اگر صلح کا دوسرا فریق مصالحت کا مال دینے میں غیر معمولی تاخیر کرے یا یه شرط رکھی گئی هو که مصالحت کا مال نقد دیا جائے اور دوسرا فریق اس شرط پر عمل نه کرے تو اس صورت میں صلح فسخ کی جاسکتی هے۔ اور اسی طرح باقی صورتوں میں بھی جن کا ذکر خرید و فروخت کے احکام میں آیا هے صلح فسخ کی جاسکتی هے مگر مصالحت کے دونوں فریقوں میں سے ایک کو نقصان هو تو اس صورت میں معلوم نهیں که سودا فسخ کیا جاسکتا هے (یانهیں)

ص:409

2179۔ جو چیز بذریعه صلح ملے اگر وه عیب دار هو تو صلح فسخ کی جاسکتی هے لیکن اگر متعلقه شخص بے عیب اور عیب دار کے مابین قیمت کا فرق لینا چاهے تو اس میں اشکال هے۔

2180۔ اگر کوئی شخص اپنے مال کے ذریعے دوسرے سے صلح کرے اور اس کے ساتھ شرط ٹھهرائے اور کهے "جس چیز میں نے تم سے صلح کی هے میرے مرنے کے بعد مثلاً تم اسے وقف کر دو گے" اور دوسرا شخص بھی اس کو قبول کرلے تو ضروری هے که اس شرط پر عمل کرے۔