لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
548۔ کسی مسلمان کا غسل، حنوط، کفن، نماز میت اور دفن خواہ وہ اثنا عشری شیعہ نہ بھی ہو اس کے ولی پر واجب ہے۔ ضروری ہے کہ ولی خود ان کاموں کو انجام دے یا کسی دوسرے کو ان کاموں کے لئے معین کرے اور اگر کوئی شخص ان کاموں کو ولی کی اجازت سے انجام دے تو ولی پر سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے بلکہ اگر دفن اور اس کی مانند دوسرے امور کو کوئی شخص ولی کی اجازت کے بغیر انجام دے تب بھی ولی سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے اور ان امور کو دوبارہ انجام دینے کی ضرورت نہیں اور اگر میت کا کوئی ولی نہ ہو یا ولی ان کاموں کو انجام دینے سے منع کرے تب بھی باقی مکلف لوگوں پر واجب کفائی ہے کہ میت کے ان کاموں کو انجام دیں اور اگر بعض مکلف لوگوں نے انجام دیا تو دوسروں پر سے وجوب
ص:115
ساقط ہو جاتا ہے۔ چناچہ اگر کوئی بھی انجام نہ دے تو تمام مکلف لوگ گناہ گار ہوں گے اور ولی کے منع کرنے کی صورت میں اس سے اجازت لینے کی شرط ختم ہو جاتی ہے۔
549۔ اگر کوئی شخص تجہیز و تکفین کے کاموں میں مشغول ہو جائے تو دوسروں کے لئے اس بارے میں کوئی اقدام کرنا واجب نہیں لیکن اگر وہ ان کاموں کو ادھورا چھوڑ دے تو ضروری ہے کہ دوسرے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔
550۔ اگر کسی شخص کو اطمینان ہو کہ کوئی دوسرا میت (کو نہلانے،کفنانے اور دفنانے) کے کاموں میں مشغول ہے تو اس پر واجب نہیں ہے کہ میت کے (متذکرہ) کاموں کے بارے میں اقدام کرے لیکن اگر اسے (متذکرہ کاموں کے نہ ہونے کا) محض شک یا گمان ہو تو ضروری ہے کہ اقدام کرے۔
551۔ اگر کسی شخص کو معلوم هو که میت کا غسل یا کفن یا نماز یا دفن غلط طریقے سے هوا هے تو ضروری هے که ان کاموں کو دوباره انجام دے لیکن اگر اسے باطل هونے کا گمان هو (یعنی یقین نه هو) یا شک هو که درست تھا یا نهیں تو پھر اس بارے میں کوئی اقدام کرنا ضروری نهیں۔
552۔ عورت کا ولی اس کا شوهر هے اور عورت کے علاوه وه اشخاص که جن کو میت سے میراچ ملتی هے اسی ترتیب سے جس کا ذکر میراث کے مختلف طبقوں میں آئے گا دوسروں پر مقدم هیں۔ میت کا باپ میت کے بیٹے پر اور میت کا دادا اس کے بھائی پر اور میت کا پدری و مادری بھائی اس کے صرف پدری بھائی یا مادری بھائی پر اس کا پدری بھائی اس کے مادری بھائی پر۔ اور اسکے چچا کے اس کے ماموں پر مقدم هونے میں اشکال هے چنانچه اس سلسلے میں احتیاط کے (تمام) تقاضوں کو پیش نظر رکھنا چاهئے۔
553۔ نابالغ بچه اور دیوانه میت کے کاموں کو انجام دینے کے لئے ولی نهیں بن سکتے اور بالکل اسی طرح وه شخص بھی جو غیر حاضر هو وه خود یا کسی شخص کو مامور کرکے میت سے متعلق امور کو انجام نه دے سکتا هو تو وه بھی ولی نهیں بن سکتا۔
554۔ اگر کوئی شخص کهے که میں میت کا ولی هوں یا میت کے ولی نے مجھے اجازت دی هے که میت کے غسل، کفن اور دفن کو انجام دوں یا کهے که میں میت کے دفن سے متعلق کاموں میں میت کا وصی هوں اور اسکے کهنے سے اطمینان حاصل هوجائے یا میت اس کے تصرف میں هو یا دو عادل شخص گواهی دیں تو اس کا قول قبول کر لینا چاهئے۔
ص:116
555۔ اگر مرنے والا اپنے غسل، کفن،دفن اور نماز کے لئے اپنے ولی کے علاوه کسی اور کو مقرر کرے تو ان امور کی ولایت اسی شخص کے هاتھ میں هے اور یه ضروری نهیں که جس شخص کو میت نے وصیت کی هو که وه خود ان کاموں کو انجام دینے کا ذمه دار بنے اور اس وصیت کو قبول کرے لیکن اگر قبول کرلے تو ضروری هے که اس پر عمل کرے۔