لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
جس مال کا انسان معاوضه دے کر مالک هوا هو اور اس نے وه مال تجارت اور فائده حاصل کرنے کے لئے محفوظ رکھا هو تو احتیاط کی بنا پر ضروری هے که (مندرجه ذیل) چند شرائط کے ساتھ اس کی زکوٰۃ دے جو چالیسوں حصه هے۔
1۔ مالک بالغ اور عاقل هو۔
2۔ مال نصاب کی مقدار تک پهنچ گیا هو اور وه نصاب سونے اور چاندی کے نصاب کے برابر هے۔
3۔ جس وقت سے اس مال سے فائده اٹھانے کی نیت کی هو، اس پر ایک سال گزر جائے
4۔ فائده اٹھانے کی نیت پورے سال باقی رهے۔ پس اگر سال کے دوران اس کی نیت بدل جائے مثلاً اس کو اخراجات کی مد میں صرف کرنے کی نیت کرے تو ضروری نهیں که اس پر زکوٰۃ دے۔
5۔ مالک اس مال میں پورا سال تصرف کر سکتا هو۔
ص:362
6۔ تمام سال اس کے سرمائے کی مقدار یا اس سے زیاده پر خریدار موجود هو۔ پس اگر سال کے کچھ حصے میں سرمائے سے کم تر مال کا خریدار هو تو اس پر زکوٰۃ دینا واجب نهیں هے۔