لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1135۔ باره چیزیں نماز کو باطل کرتی هیں اور انهیں مبطلات کها جاتا هے۔
(اول) نماز کے دوران نماز کی شرطوں میں سے کوئی شرط مفقد هو جائے مثلاً نماز پڑھتے هوئے متعلقه شخص کو پته چلے که جس کپڑے سے اس نے سترپوشی کی هوئی هے وه غصبی هے۔
(دوم) نماز کے دوران عمداً یا سهواً یا مجبوری کی وجه سے انسان کسی ایسی چیز سے دوچار هو جو وضو یا غسل کو باطل کرے مثلاً اس کا پیشاب خطا هو جائے اگرچه احتیاط کی بنا پر اس طرح نماز کے آخری سجدے کے بعد سهواً یا مجبوری کی بنا پر تاهم جو شخص یا پاخانه نه روک سکتا هو اگر نماز کے دوران میں اس کا پیشاب یا پاخانه نکل جائے اور وه اس طریقے پر عمل کرے جو احکام وضو کے ذیل میں بتایا گیا هے تو اس کی نماز باطل نهیں هوگی اور اسی طرح اگر نماز کے دوران مُستَحاضه کو خون آجائے تو اگر وه اِستخاضه سے متعلق احکام کے مطابق عمل کرے تو اس کی نماز صحیح هے۔
1136۔جس شخص کو بے اختیار نیند آجائے اگر اسے یه پته نه چلے که وه نماز کے دوران سو گیا تھا یا اس کے بعد سویا تو ضروری نهیں که نماز دوباره پڑھے بشرطیکه یه جانتا هو که جو کچھ نماز میں پڑھا هے وه اس قدر تھا که اسے عرف میں نماز کهیں۔
1137۔اگر کسی شخص کو علم هو که وه اپنی مرضی سے سویا تھا لیکن شک کرے که نماز کے بعد سویا تھا یا نماز کے دوران یه بھول گیا که نماز پڑھ رها هے اور سوگیا تو اس شرط کے ساتھ جو سابقه مسئلے میں بیان کی گئی هے اس کی نماز صحیح هے۔
ص:225
1138۔ اگر کوئی شخص نیند سے سجدے کی حالت میں بیدار هو جائے اور شک کرے که آیا نماز کے آخری سجدے میں هے یا سجده شکر میں هے تو اگر اسے علم هو که بے اختیار سو گیا تھا تو ضروری هے که نماز دوباره پڑھے اور اگر جانتا هو که اپنی مرضی سے سویا تھا اور اس بات کا احتمال هو که غفلت کی وجه سے نماز کے سجدے میں سوگیا تھا تو اس کی نماز صحیح هے۔
(سوم) یه چیز مبطلات نماز میں سے هے که انسان اپنے هاتھوں کو عاجزای اور ادب کی نیت سے باندھے لیکن اس کام کی وجه سے نماز کا باطل هونا احتیاط کی بنا پر هے اور اگر مشروعیت کی نیت سے انجام دے تو اس کام کے حرام هونے میں کوئی اشکال نهیں هے۔
1139۔ اگر کوئی شخص بھولے سے یا مجبوری سے یا تقیه کی وجه سے یا کسی اور کام مثلاً هاتھ کھجانے اور ایسے هی کسی کام کے لئے هاتھ پر هاتھ رکھ لے تو کوئی حرج نهیں هے۔
(چهارم) مبطلات نماز میں سے ایک یه هے که الحمد پڑھنے کے بعد آمین کهے۔ آمین کهنے سے نماز کا اس طرح باطل هونا غیر ماموم میں احتیاط کی بنا پر هے۔ اگرچه آمین کهنے کو جائز سمجھتے هوئے آمین کهے تو اس کے حرام هونے میں کوئی اشکال نهیں هے۔ بهر حال اگر امین کو غلطی یا تقیه کی وجه سے کهے تو اس کی نماز میں کوئی اشکال نهیں هے۔
(پنجم) مبطلات نماز میں سے هے که بغیر کسی عذر کے قبلے سے رخ پھیرے لیکن اگر کسی عذر مثلاً بھول کر یا بے اختیاری کی بنا پر مثلاً تیز هوا کے تھپیڑے اسے قبلے سے پھیر دیں چنانچه اگر دائیں یا بائیں سمت تک نه پهنچے تو اس کی نماز صحیح هے لیکن ضروری هے که جسے هی عذر دور هو فوراً اپنا قبله دسرت کرے۔ اور اگر دائیں یا بائیں طرف مڑ جائے خواه قبلے کی طرف پشت هو یا نه هو اگر اس کا عذر بھولنے کی وجه سے هو اور جس وقت متوجه هو اور نماز کو توڑ دے تو اسے دوباره قبله رخ هو کر پڑھ سکتا هو تو ضروری هے که نماز کو دوباره پڑھے اگرچه اس نماز کی ایک رکعت وقت میں پڑھے ورنه اسی نماز پر اکتفا کرے اور اس پر قضا لازم نهیں اور یهی حکم هے اگر قبلے سے اس کا پھرنا بے اختیاری کی بنا پر هو چنانچه قبلے سے پھرے بغیر اگر نماز کو دوباره وقت میں پڑھ سکتا هو۔ اگرچه وقت میں ایک رکعت هی پڑھی جا سکتی هو تو ضروری هے که نماز کو نئے سرے سے پڑھے ورنه ضروری هے که اسی نماز کو تمام کرے اعاده اور قضا اس پر لازم نهیں هے۔
1140۔ اگر فقط اپنے چهرے کو قبلے سے گھمائے لیکن اس کا بدن قبلے کی طرف هو چنانچه اس حد تک گردن کو موڑے که اپنے سرکے پیچھے کچھ دیکھ سکے تو اس کے لئے بھی وهی حکم هے جو قبلے سے پھر جانے والے کے لئے هے جس کا ذکر پهلے کیا
ص:226
جاچکا هے۔ اور اگر اپنی گردن کو تھوڑا سا موڑے که عرفا کها جائے اس کے بدن کا اگلا حصه قبلے کی طرف هے تو اس کی نماز باطل نهیں هوگی اگرچه یه کام مکروه هے۔
(ششم) مبطلات نماز میں سے ایک یه هے که عمداً بات کرے اگرچه ایسا کلمه هو که جس میں ایک حرف سے زیاده نه هو اگر وه حرف بامعنی هو مثلاً (ق) که جس کے عربی زبان میں معنی حفاظت کرو کے هیں یا کوئی اور معنی سمجھ میں آتے هوں مثلاً (ب) اس شخص کے جواب میں که جو حروف تهجی کے حرف دوم کے بارے میں سوال کرے اور اگر اس لفظ سے کوئی معنی بھی سمجھ میں نه آتے هوں اور وه دو یا دو سے زیاده حرفوں سے مرکب هو تب بھی احتیاط کی بنا پر (وه لفظ) نماز کو باطل کر دیتا هے۔
1141۔اگر کوئی شخص سهواً کلمه کهے جس کے حروف ایک یا اس سے زیاده هوں تو خواه وه کلمه معنی بھی رکھتا هو اس شخص کی نماز باطل نهیں هوتی لیکن احتیاط کی بنا پر اس کے لئے ضروری هے جیسا که بعد میں ذکر آئے گا نماز کے بعد وه سجده سهو بجالائے۔
1142۔ نماز کی حالت میں کھانسنے، یا ڈکار لینے میں کوئی حرج نهیں اور احتیاط لازم کی بنا پر نماز میں اختیار آه نه بھرے اور نه هی گریه کرے۔ اور آخ اور آه اور انهی جیسے الفاظ کا عمداً کهنا نماز کو باطل کر دیتا هے۔
1143۔ اگر کوئی شخص کوئی کلمه ذکر کے قصدے سے کهے مثلاً ذکر کے قصه سے اَللّٰهُ اَکبَرُ کهے اور اسے کهتے وقت آواز کو بلند کرے تاکه دوسرے شخص کو کسی شخص کو کسی چیز کی طرف متوجه کرے تو اس میں کوئی حرج نهیں۔ اور اسی طرح اگر کوئی کلمه ذکر کے قصد سے کهے اگرچه جانتا هو که اس کام کی وجه سے کوئی کسی مطلب کی طرف متوجه هوجائے گا تو کوئی اگر بالکل ذکر کا قصد نه کرے یا ذکر کا قصد بھی هو اور کسی بات کی طرف متوجه بھی کرنا چاهتا هو تو اس میں اشکال هے۔
1144۔نماز میں قرآن پڑھنے (چار آیتوں کا حکم که جن میں واجب سجده هے قراءت کے احکام مسئله نمبر 992 میں بیان هوچکا هے) اور دعا کرنے میں کوئی حرج نهیں لیکن احتیاط مستحب یه هے که عربی کے علاوه کسی زبان میں دعا نه کرے۔
1145۔ اگر کوئی شخص بغیر قصد جزئیت عمداً یا احتیاطاً الحمد اور سوره کے کسی حصے یا اذ کار نماز کی تکرار کرے تو کوئی حرج نهیں۔
ص:227
1146۔انسان کو چاهئے که نماز کی حالت میں کسی کو سلام نه کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص اسے سلام کرے تو ضروری هے که جواب دے لیکن جواب سلام کی مانند هونا چاهئے یعنی ضروری هے که اصل سلام پر اضافه هو مثلاً جواب میں یه نهیں کهنا چاهئے۔ سَلاَمٌ عَلَیکُم وَرَحمَۃُ اللهِ وَبَرَکَاتُه، بلکه احتیاط لازم کی بنا پر ضروری هے که جواب میں عَلَیکُم یا عَلیَک کے لفظ کو سلام کے لفظ پر مقدم نه رکھے اگر وه شخص که جس نے سلام کیا هے اس نے اس طرح نه کیا هو بلکه احتیاط مستحب یه هے که جواب مکمل طور پر دے جس طرح که اس نے سلام کیا هو مثلاً اگر کها هو "سَلاَمُ عَلَیکُم" تو جواب میں کهے " سَلاَمُ عَلَیکُم" اور اگر کها هو "اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم" تو کهے "اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم" اور اگر کها هو "سَلاَمٌ عَلَیک" تو کهے "سَلاَمٌ عَلَیک" لیکن عَلَیکُم السَّلاَمُ" کے جواب میں جو لفظ چاهے کهه سکتا هے۔
1147۔ انسان کو چاهئے که خواه وه نماز کی حالت میں هو یا نه هو سلام کا جواب فوراً دے اور اگر جان بوجھ کر یا بھولے سے سلام کا جواب دینے میں اتنا وقت کرے که اگر جواب دے تو وه اس اسلام کا جواب شمار نه هو تو اگر وه نماز کی حالت میں هو تو ضروری هے که جواب نه دے اور اگر نماز کی حالت میں نه هو تو جواب دینا واجب نهیں هے۔
1148۔ انسان کو سلام کا جواب اس طرح دینا ضروری هے که سلام کرنے والا سن لے لیکن اگر سلام کرنے والا بهرا هو یا سلام کهه کر جلدی سے گزر جائے چنانچه ممکن هو تو سلام کا جواب اشارے سے یا اسی طرح کسی طریقے سے اسے سمجھا سکے تو جواب دینا ضروری هے۔ اس کی صورت کے علاوه جواب دینا نماز کے علاوه کسی اور جگه پر ضروری نهیں اور نماز میں جائز نهیں هے۔
1149۔ واجب هے که نمازی اسلام کے جواب کو سلام کی نیت سے کهے۔ اور دعا کا قصد کرنے میں بھی کوئی حرج نهیں یعنی خداوندعالم سے اس شخص کے لئے سلامتی چاهے جس نے سلام کیا هو۔
1150۔ اگر عورت یا نامحرم مرد یا وه بچه جو اچھے برے میں تمیز کر سکتا هو نماز پڑھنے والے کو سلام کرے تو ضروری هے که نماز پڑھنے والا اس کے سلام کا جواب دے اور اگر عورت "سَلاَمٌ عَلَیکَ" کهه کر سلام کرے تو جواب میں کهه سکتا هے "سَلاَمٌ عَلَیکِ" یعنی کاف کو زیر دے۔
1151۔ اگر نماز پڑھنے والا سلام کا جواب نه دے تو وه گناه گار هے لیکن اس کی نماز صحیح هے۔
ص:228
1152۔کسی ایسے شخص کے سلام کا جواب دینا جو مزاح اور تَمَسخُر کے طور پر سلام کرے اور ایسے غیر مسلم مرد اور عورت کے سلام کا جواب دینا جو ذمّی نه هوں واجب نهیں هے اور اگر ذمّی هوں تو اختیاط واجب کی بنا پر ان کے جواب میں کلمه "عَلَیکَ" کهه دینا کافی هے۔
1154۔ اگر کوئی شخص کسی گروه کو سلام کرے تو ان سب پر سلام کا جواب دینا واجب هے لیکن اگر ان میں سے ایک شخص جواب دے دے تو کافی هے۔
1155۔ اگر کوئی شخص کسی گروه کو سلام کرے اور جواب ایک ایسا شخص دے جس کا سلام کرنے والے کو سلام کرنے کا اراده نه هو تو (اس شخص کے جواب دینے کے باوجود) سلام کا جواب اس گروه پر واجب هے۔
1156۔ اگر کوئی شخص کسی گروه کو سلام کرے اور اس گروه میں سے جوشخص نماز میں مشغول هو وه شک کرے که سلام کرنے والے کا اراده اسے بھی سلام کرنے کا تھا یا نهیں تو ضروری هے که جواب نه دے اور اگر نماز پڑھنے والے کو یقین هو که اس شخص کا اراداه اسے بھی سلام کرنے کا تھا لیکن کوئی شخص سلام کا جواب دے دے تو اس صورت میں بھی یهی حکم هے۔ لیکن اگر نماز پڑھنے والے کو معلوم هو که سلام کرنے والے کا اراده اسے بھی سلام کرنے کا تھا اور کوئی دوسرا جواب نه دے تو ضروری هے که سلام کا جواب دے۔
1157۔ سلام کرنا مستحب هے اور اس امر کی بهت تاکید کی گئی هے که سوار پیدل کو اور کھڑا هوا شخص بیٹھے هوئے کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔
1157۔ سلام کرنا مستحب هے اور اس امر کی بهت تاکید کی گئی هے که سوار پیدل کو اور کھڑا هوا شخص بیٹھے هوئے کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔
1158۔ اگر دو شخص آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که ان میں سے هر ایک دوسرے کو اس کے سلام کا جواب دے۔
1159۔ اگر انسان نماز نه پرھ رها هو تو مستحب هے که سلام کا جواب اس سلام سے بهتر الفاظ میں دے مثلاً اگر کوئی شخص "سَلاَمٌ عَلَیکُم" کهے تو جواب میں کهے "سَلاَمٌ عَلَیکُم وَرَحمَۃُ اللهِ"۔
ص:229
(هفتم) نماز کے مبطلات میں سے ایک آواز کے ساتھ اور جان بوجھ کر هنسنا هے۔ اگرچه بے اختیار هنسے۔ اور جن باتوں کی وجه سے هنسے وه اختیاری هوں بلکه احتیاط کی بنا پر جن باتوں کی وجه سے هنسی آئی هو اگر وه اختیاری نه بھی هوں تب بھی وه نماز کے باطل هونے کا موجب هوں گی لیکن اگر جان بوجھ کر بغیر آواز یا سهواً آواز کے ساتھ هنسے تو ظاهر یه هے که اس کی نماز میں کوئی اشکال نهیں۔
1160۔ اگر هنسی کی آواز روکنے کے لئے کسی شخص کی حالت بدل جائے مثلاً اس کا رنگ سرخ هو جائے تو اختیاط واجب یه هے که وه نماز دوباره پڑھے۔
(هشتم) احتیاط واجب کی بنا پر یه نماز کے مبطلات میں سے هے که انسان دنیاوی کام کے لئے جان بوجھ کر آواز سے یا بغیر آواز کے روئے لیکن اگر خوف خدا سے یا آخرت کے لئے روئے تو خواه آهسته روئے یا بلند آواز سے روئے کوئی حرج نهیں بلکه یه بهترین اعمال میں سے هے۔
(نهم) نماز باطل کرنے والی چیزوں میں سے هے که کوئی ایسا کام کرے جس سے نماز کی شکل باقی نه رهے مثلاً اچھلنا کودنا اور اسی طرح کا کوئی عمل انجام دینا۔ ایسا کرنا عمداً هو یا بھول چوک کی وجه سے هو۔ لیکن جس کام سے نماز کی شکل تبدیل نه هوتی هو مثلاً هاتھ سے اشاره کرنا اس میں کوئی حرج نهیں هے۔
1161۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران اس قدر ساکت هو جائے که لوگ یه نه کهیں که نماز پڑھ رها هے تو اس کی نماز باطل هو جاتی هے۔
1162۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران کوئی کام کرے یا کچھ دیر ساکت رهے اور شک کرے که اس کی نماز ٹوٹ گئی هے یا نهیں تو ضروری هے که نماز کو دوباره پڑھے اور بهتر یه هے که نماز پوری کرے اور پھر دوباره پڑھے۔
(دهم) مبطلات نماز میں سے ایک کھانا اور پینا هے۔ پس اگر کوئی شخص نماز کے دوران اس طرح کھائے یا پئے که لوگ یه نه کهیں که نماز پڑھ رها هے تو خواه اس کا یه فعل عمداً هو یا بھول چوک کی وجه سے هو اس کی نماز باطل هو جاتی هے۔ البته جو شخص روزه رکھنا چاهتا هو اگر وه صبح کی اذان سے پهلے مستحب نماز پڑھ رها هو اور پیاسا هو اور اسے ڈر هو که اگر نماز پوری کرے گا تو صبح هو جائے گی تو اگر پانی اس کے سامنے دو تین قدم کے فاصلے پر هو تو وه نماز کے دوران پانی پی سکتا هے۔ لیکن ضروری هے که کوئی ایسا کام مثلاً "قبلے سے منه پھیرنا" کرے جو نماز کو باطل کرتا هے۔
ص:230
1163۔ اگر کسی کا جان بوجھ کر کھانا یا پینا نماز کی شکل کو ختم نه بھی کرے تب بھی احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که نماز کو دوباره پڑھے خواه نماز کا تسلسل ختم هو یعنی یه نه کها جائے که نماز کو مسلسل پڑھ رها هے یا نماز کا تسلسل ختم نه هو۔
1164۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران کوئی ایسی غذا نگل لے جو اس کے منه یا دانتوں کے ریخوں میں ره گئی هو تو اس کی نماز باطل نهیں هوتی۔ اسی طرح اگر ذر اسی قند یا شکر یا انهیں جیسی کوئی چیز منه میں ره گئی هو اور نماز کی حالت میں آهسته آهسته گُھل کر پیٹ میں چلی جائے تو کوئی حرج نهیں۔
(یاز دهم) مبطلات نماز میں سے دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں یا چار رکعتی نمازوں کی پهلی دو رکعتوں میں شک کرنا هے بشرطیکه نماز پڑھنے والا شک کی حالت میں باقی رهے۔
(دوازدهم) مبطلات نماز میں سے یه بھی هے که کوئی شخص نماز کا رکن جان بوجھ کر یا بھول کر کم کردے یا ایک ایسی چیز کو جو رکن نهیں هے جان بوجھ کر گھٹائے یا جان بوجھ کر کوئی چیز نماز میں بڑھائے۔ اسی طرح اگر کسی رکن مثلاً رکوع یا دو سجدوں کو ایک رکعت میں غلطی سے بڑھا دے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی نماز باطل هو جائے گی البته بھولے سے تکبیرۃ الاحرام کی زیادتی نماز کو باطل نهیں کرتی۔
1165۔ اگر کوئی شخص نماز کے بعد شک کرے که دوران نماز اس نے کوئی ایسا کام کیا هے یا نهیں جو نماز کو باطل کرتا هو تو اس کی نماز صحیح هے۔