لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

مسلمان کا غائب ہو جانا

ص:54

227۔ اگر بالغ اور پاکی، ناپاکی کی سمجھ رکھنے والے مسلمان کا بدن لباس یا دوسری اشیاء مثلاً برتن اور دری وغیرہ جو اس کے استعمال میں ہوں نجس ہو جائیں اور پھر وہ وہاں سے چلا جائے تو اگر کوئی انسان یہ سمجھے کہ اس نے یہ چیزیں دھوئی تھیں تو وہ پاک ہوں گی لیکن احتیاط مستحب ہے کہ ان کو پاک نہ سمجھے مگر درج ذیل چند شرائط کے ساتھ :

(اول) جس چیز نے اس مسلمان کے لباس کو نجس کیا ہے اسے وہ نجس سمجھتا ہو۔ لہذا اگر مثال کے طور پر اس کا لباس تر ہو اور کافر کے بدن چھو گیا ہو اور وہ اسے نجس نہ سمجتھا ہو تو اس کے چلے جانے کے بعد اس کے لباس کو پاک نہیں سمجھنا چاہئے۔

(دوم) اسے علم ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس چیز سے لگ گیا ہے۔

(سوم) کوئی شخص اسے اس چیز کو ایسے کام میں استعمال کرتے ہوئے دیکھے جس میں اس کا پاک ہونا ضروری ہو مثلاً اسے اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے ہوئے دیکھے۔

(چہارم) اس بات کا احتمال ہو کہ وہ مسلمان جو کام اس چیز کے ساتھ کر رہا ہے اس کے بارے میں اسے علم ہے کہ اس چیز کا پاک ہونا ضروری ہے لہذا مثال کے طور پر اگر وہ مسلمان یہ نہیں جانتا کہ نماز پڑھنے والے کا لباس پاک ہونا چاہئے اور نجس لباس کے ساتھ ہی نماز پڑھ رہا ہے تو ضروری ہے کہ انسان اس لباس کو پاک نہ سمجھے۔

(پنچم) وہ مسلمان نجس اور پاک چیز میں فرق کرتا ہو۔ پس اگر وہ مسلمان نجس اور پاک چیز میں فرق کرتا ہو۔ پس اگر وہ مسلمان نجس اور پاک میں لاپروائی کرتا ہو تو ضروری ہے کہ انسان اس چیز کو پاک نہ سمجھے۔

228۔ اگر کسی شخص کو یقین یا اطمینان ہو کہ جو چیز پہلے نجس تھی اب پاک ہوگئی ہے یا وہ عادل اشخاص اس کے پاک ہونے کی خبر دیں اور ان کی شہادت اس چیز کی پاکی کا جواز ہے تو وہ چیز پاک ہے اسی طرح اگر وہ شخص جس کے پاس کوئی نجس چیز ہوگئے کہ وہ چیز پاک ہوگئی ہے اور وہ غلط بیاں نہ ہو یا کسی مسلمان نے ایک نجس چیز کو دھویا ہو گویہ معلوم نہ ہو کہ اس نے اسے ٹھیک طرح سے دھویا ہے یا نہیں تو وہ چیز بھی پاک ہے۔

229۔ اگر کسی نے ایک شخص کا لباس دھونے کی ذمہ دار لی ہو اور کہے کہ میں نے اسے دھو دیا ہے اور اس شخص کو اس کے یہ کہنے سے تسلی ہو جائے تو وہ لباس پاک ہے۔

ص:55

230۔ اگر کسی شخص کی یہ حالت ہو جائے کہ اسے کسی نجس چیز کے دھوئے جانے کا یقین ہی نہ آئے اگر وہ اس چیز کو جس طرح لوگ عام طور پر دھوتے ہیں دھولے تو کافی ہے۔