لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
743۔ احتیاط واجب یه هے که جب تک مشرق کی جانب کی وه سرخی جو سورج غروب هونے کے بعد ظاهر هوتی هے انسان کے سر پر سے نه گزر جائے وه مغرب کی نماز نه پڑھے۔
744۔ مغرب اور عشا کی نماز کا وقت مختار شخص کے لئے آدھی رات تک رهتا هے لیکن جن لوگوں کو کوئی عذر هو مثلاً بھول جانے کی وجه سے یا نیند یا حیض یا ان جسیے دوسرے امور کی وجه سے آدھی رات سے پهلے نماز پڑھ سکتے هوں تو ان کے لئے مغرب اور عشا کی نماز کا وقت فجر طلوع هونے تک باقی رهتا هے۔ لیکن ان دونوں نمازوں کے درمیان متوجه هونے کی صورت میں ترتیب معتبر هے یعنی عشا کی نماز کو جان بوجھ کر مغرب کی نماز سے پهلے پڑھے تو باطل هے۔ لیکن
ص:155
اگر عشا کی نماز ادا کرنے کی مقدار سے زیاده وقت باقی نه رها هو تو اس صورت لازم هے که عشا کی نماز کو مغرب کی نماز سے پهلے پڑھے۔
745۔ اگر کوئی شخص غلط فهمی کی بنا پر عشا کی نماز مغرب کی نماز سے پهلے پڑھ لے اور نماز کے بعد اس امر کی جانب متوجه هو تو اس کی نماز صحیح هے اور ضروری هے که مغرب کی نماز اس کے بعد پڑھے۔
746۔ اگر کوئی شخص مغرب کی نماز پڑھنے سے پهلے بھول کر عشا کی نماز پڑھنے میں مشغول هو جائے اور نماز کے دوران اسے پته چلے که اس نے غلطی کی هے اور ابھی وه چوتھی رکعت کے رکوع تک نه پهنچا هو تو ضروری هے که مغرب کی نماز کی طرف نیت پھیرلے اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں عشا کی نماز پڑھے اور اگر چوتھی رکعت کے رکوع میں جاچکا هو تو اسے عشا کی نماز قرار دے اور ختم کرے اور بعد میں مغرب کی نماز بجالائے۔
747۔ عشا کی نماز کا مختار شخص کے لئے آدھی رات هے اور رات کا حساب سورج غروب هونے کی ابتدا سے طلوع فجر تک هے۔
748۔ اگر کوئی شخص اختیاری حالت میں مغرب اور عشا کی نماز آدھی رات تک نه پڑھے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که اذان صبح سے پهلے قضا اور ادا کی نیت کئے بغیر ان نمازوں کو پڑھے۔
صبح کی نماز کا وقت
749۔ صبح کی اذان کے قریب مشرق کی طرف سے ایک سفیدی اوپر اٹھتی هے، جسے فجر اول کها جاتا هے جب یه سفید پھیل جائے تو فجر دوم اور صبح کی نماز کا اول وقت هے اور صبح کی نماز کا آخری وقت سورج نکلتے تک هے۔