لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

مُستحِقّینِ زکوٰۃ کی شرائط

1950۔(مال کا) مالک جس شخص کو اپنی زکوٰۃ دینا چاهتا هو ضروری هے که وه شیعه اثنا عشری هو۔ اگر انسان کسی کو شیعه سمجھتے هوئے زکوٰۃ دے دے اور بعد میں پته چلے که وه شیعه نه تھا تو ضروری هے که دوباره زکوٰۃ دے۔

1951۔ اگر کوئی شیعه بچه یا دیوانه فقیر هو تو انسان اس کے سرپرست کو اس نیت سے زکوٰۃ دے سکتا هے که وه جو کچھ دے رها هے وه بچے یا دیوانے کی ملکیت هوگی۔

1952۔ اگر انسان بچے یا دیوانے کے سرپرست تک نه پهنچ سکے تو وه خود یا کسی امانت دار شخص کے ذریعے زکوٰۃ کا مال ان پر خرچ کرسکتا هے اور جب زکوٰۃ ان لوگوں پر خرچ کی جارهی هو تو ضروری هے که زکوٰۃ دینے والا زکوٰۃ کی نیت کرے۔

ص:366

1953۔ جو فقیر بھیک مانگتا هو اسے زکوٰۃ دی جاسکتی هے لیکن جو شخص مال زکوٰۃ گناه کے کام پر خرچ کرتا هو ضروری هے که اسے زکوٰۃ نه دے جائے بلکه احتیاط یه هے که وه شخص جسے زکوٰۃ دینا گناه کی طرف مائل کرنے کا سبب هو اگرچه وه اسے گناه کے کام میں خرچ نه بھی کرے اس زکوٰۃ نه دی جائے۔

1954۔جو شخص شراب پیتا هو یا نماز نه پڑھتا هو اور اسی طرح جو شخص کُھلّم کُھلاّ گناه کبیره کا مرتکب هوتا هو تو احیتاط واجب یه هے که اسے زکوٰۃ نه دی جائے۔

1955۔جو شخص مقروض هو اور اپنا قرضه ادا نه کر سکتا هو اس کا قرضه زکوٰۃ سے دیا جاسکتا هے خواه اس شخص کے اخراجات زکوٰۃ دینے والے پر هی واجب کیوں نه هوں۔

1956۔ انسان ان لوگوں کے اخراجات جن کی کفالت اس پر واجب هو۔ مثلاً اولاد کے اخراجات ۔ زکوٰۃ سے ادا نهیں کرسکتا لیکن اگر وه خود اولاد کا خرچه نه دے تو دوسرے لوگ انهیں زکوٰۃ دے سکتے هیں۔

1957۔اگر انسان اپنے بیٹے کو زکوٰۃ اس لئے دے تاکه وه اسے اپنی بیوی اور نوکر اور نوکرانی پر خرچ کرے تو اس میں کوئی حرج نهیں هے۔

1958۔باپ اپنے بیٹے کو سَهم "فیِ سَبِیلِ الله" میں سے علمی اور دینی کتابیں جن کی بیٹے کی ضرورت هو خرید کر نهیں دے سکتا۔ لیکن اگر رفاه عامه کے لئے ان کتابوں کی ضرورت هو تو احتیاط کی بنا پر حاکم شرع سے اجازت لے لے۔

1959۔جو باپ بیٹے کی شادی کی استطاعت نه رکھتا هو وه بیٹے کی شادی کے لئے زکوٰۃ میں سے خرچ کر سکتا هے اور بیٹا بھی باپ کے لئے ایسا هی کرسکتا هے۔

1960۔ کسی ایسی عورت کو زکوٰۃ نهیں دی جاسکتی جس کا شوهر اسے خرچ دیتا هو اور ایسی عورت جسے اس کا شوهر خرچ نه دیتا هو لیکن جو حاکم شرع سے رجوع کرکے شوهر کو خرچ دینے پر مجبور کر سکتی هو اسے زکوٰۃ نه دی جائے۔

1961۔ جس عورت نے مُتعَه کیا هو اگر وه فقیر هو تو اس کا شوهر اور دوسرے هیں۔ هاں اگر عَقد کے که موقع پر شوهر نے یه شرط قبول کی هو که س کا خرچ دے گا یا کسی اور وجه سے اس کا خرچ دینا شوهر پر واجب هو اور وه اس عورت کے اخراجات دیتا هو تو اس عورت کو زکوٰۃ نهیں دی جاسکتی۔

ص:367

1962۔ عورت اپنے فقیر شوهر کو زکوٰۃ دے سکتی هے خواه شوهر وه زکوٰۃ اس عورت پر هی کیوں نه خرچ کرے۔

1963۔سید غیر سید سے زکوٰۃ نهیں لے سکتا لیکن اگر خمس اور دوسرے ذرائع آمدنی اس کے اخراجات کے لئے کافی نه هوں اور غیر سید سے زکوٰۃ لینے پر مجبور هو تو اس سے زکوٰۃ لے سکتا هے۔

1924۔ جس شخص کے بارے میں معلوم نه هو که سید هے یا غیر سید، اسے زکوٰۃ دی جاسکتی هے۔