لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
122۔ ہر چیز کی نجاست تین طریقوں سے ثابت ہوتی ہے:
(اول) خود انسان کو یقین یا اطمینان ہو کہ فلاں چیز نجس ہے۔ اگر کسی چیز کے متعلق محض گمان ہو کہ نجس ہے تو اس سے پرہیز کرنا لازم نہیں۔ لہذا قہوہ خانوں اور ہوٹلوں میں جہاں لاپروا لوگ اور ایسے لوگ کھاتے پیتے ہیں جو نجاست اور طہارت کا لحاظ نہیں کرتے کھانا کھانے کی صورت یہ ہے کہ جب تک انسان کو اطمینان نہ ہو کہ جو کھانا اس کے لئے لایا گیا ہے وہ نجس ہے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
(دوم) کسی کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس چیز کے بارے میں کہے کہ نجس ہے وہ شخص غلط بیانی نہ کرتا ہو مثلاً کسی شخص کی بیوی یا نوکر یا ملازمہ کہے کہ برتن یا کوئی دوسری چیز جو اس کے پاس ہے نجس ہے تو وہ نجس شمار ہوگی۔
ص:36
(سوم) اگر دو عادل آدمی کہیں کہ ایک چیز نجس ہے تو وہ نجس شمار ہوگی بشرطیکہ وہ اس کے نجس ہونے کی وجہ بیان کریں۔
123۔ اگر کوئی شخص مسئلے سے عدم واقفیت کی بتا پر جان سکے کہ ایک چیز نجس ہے یا پاک مثلاً سے یہ علم نہ ہو کر چوہے کہ مینگنی پاک ہے یا نہیں تو اسے چاہئے کہ مسئلہ پوچھ لے۔ لیکن اگر مسئلہ جانتا ہو اور کسی چیز کے بارے میں اسے شک ہو کہ پاک ہے یا نہیں مثلاً اسے شک ہو کہ وہ چیز خون ہے یا نہیں یا یہ نہ جانتا ہو کہ مچھر کا خون ہے یا انسان کا توہ وہ چیز پاک شمار ہوگی اور اس کے بارے میں چھان بین کرنا یا پوچھنا لازم نہیں ۔
124۔ اگر کسی نجس چیز کے بارے میں شک ہو کہ (بعد میں) پاک ہوئی ہے یا نہیں تو وہ نجس ہے۔ اگر کسی پاک چیز کے بارے میں شک ہو کہ (بعد میں) نجس ہوگئی ہے یا نہیں تو وہ پاک ہے۔ اگر کوئی شخصں ان چیزوں کے نجس یا پاک ہونے کے متعلق پتہ چلا بھی سکتا ہو تو تحقیق ضروری نہیں ہے۔
125۔ اگر گوئی شخص جانتا ہو کہ جو دو برتن یا دو کپڑے وہ استعمال کرتا ہے ان میں سے ایک نجس ہو گیا ہے لیکن اسے یہ علم نہ ہو کہ ان میں سے کون سا نجس ہوا ہے تو دونوں اس اجتناب کرنا ضروری ہے اور مثال کے طور پر اگر یہ نہ جانتا ہو کہ خود اس کا کپڑا نجس ہوا ہے یا وہ کپڑا جو اس کے زیر استمال نہیں ہے اور کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے تو یہ ضروری نہیں کہ اپنے کپڑے سے اجتناب کرے۔