لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

نقد اور ادھار کے احکام

ص:394

2112۔ اگر کسی جنس کو نقد بیچا جائے تو سودا طے پا جانے کے بعد خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے جنس اور رقم کا مطالبه کر سکتے هیں اور اسے اپنے قبضے میں لے سکتے هیں۔ منقوله چیزوں مثلاً قالین، اور لباس کو قبضے میں دینے اور غیر منقوله چیزوں مثلاً گھر اور زمین کو قبضے میں دینے سے مراد یه هے که ان چیزوں سے دست بردار هو جائے اور انهیں فریق ثانی کی تحویل میں اس طرح دے دے که جب وه چاهے اس میں تصرف کر سکے۔ اور (واضح رهے که) مختلف چیزوں میں تصرف مختلف طریقے سے هوتا هے۔

2113۔ ادھار کے معاملے میں ضروری هے که مدت ٹھیک ٹھیک معلوم هو۔ لهذا اگر ایک شخص کوئی چیز اس وعدے پر بیچے که وه اس کی قیمت فصل اٹھنے پر لے گا تو چونکه اس کی مدت ٹھیک ٹھیک معین نهیں هوئی اس لئے سودا باطل هے۔

2114۔ اگر کوئی شخص اپنا مال ادھار بیچے تو جو مدت طے هوئی هو اس کی میعاد پوری هونے سے پهلے وه خریدار سے اس کے عوض کا مطالبه نهیں کرسکتا لیکن اگر خریدار مرجائے اور اس کا اپنا کوئی مال هو تو بیچنے والا طے شده میعاد پوری هونے سے پهلے هی جو رقم لینی هو اس کا مطالبه مرنے والے کے ورثاء سے کر سکتا هے۔

2115۔ اگر کوئی شخص ایک چیز ادھار بیچے تو طے شده مدت گزرنے کے بعد وه خریدار سے اس کے عوض کا مطالبه کر سکتا هے لیکن اگر خریدار ادائیگی نه کرسکتا هو تو ضروری هے که بیچنے والا اسے مهلت دے یا سودا ختم کر دے اور اگر وه چیز جو بیچی هے موجود هو تو اسے واپس لے لے۔

2116۔ اگر کوئی شخص ایک ایسےایسے فرد کو جسے کسی چیز کی قیمت معلوم نه هو اس کی کچھ مقدار ادھار دے اور اس کی قیمت اسے نه بتائے تو سودا باطل هے۔ لیکن اگر ایسے شخص کو جسے جنس کی نقد قیمت معلوم هو ادھار پر مهنگے داموں بیچے مثلاً کهے که جو جنس میں تمهیں ادھار دے رهاهوں اس کی قیمت سے جس پر میں نقد بیچتا هوں ایک پیسه فی روپیه زیاده لوں گا اور خریدار اس شرط کو قبول کر لے تو ایسے سودے میں کوئی حرج نهیں هے۔

2117۔ اگر ایک شخص نے کوئی جنس ادھار فروخت کی هو اور اس کی قیمت کی ادائیگی کے لئے مدت مقرر کی گئی هو تو اگر مثال کے طور پر آدھی مدت گزرنے کے بعد (فروخت کرنے والا) واجب الادا رقم میں کٹوتی کر دے اور باقی مانده رقم نقد لے لے تو اس میں کوئی حرج نهیں هے۔