لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1224۔ جس شخص پر نماز احتیاط واجب هو ضروری هے که نماز کے سلام کے فوراً بعد نماز احتیاط کی نیت کرے اور تکبیر کهے پھر الحمد پڑھے اور رکوع میں جائے اور دو سجدے بجالائے۔ پس اگر اس پر ایک رکعت نماز احتیاط واجب هو تو دو
ص:243
سجدوں کے بعد تشهد اور سلام پڑھے۔ اور اگر اس پر دو رکعت نماز احتیاط واجب هو تو دو سجدوں کے بعد پهلی رکعت کی طرح ایک اور رکعت بجالائے اور تشهد کے بعد سلام پڑھے۔
1225۔ نماز احتیاط میں سوره اور قنوت نهیں هے اور احتیاط لازم کی بنا پر ضروری هے که یه نماز آهسته پڑھے اور اس کی نیت زبان پر نه لائے اور احتیاط مستحب یه هے که اس کی بِسمِ الله بھی آهسته پڑھے۔
1226۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط پڑھنے سے پهلے معلوم هو جائے که جو نماز اس نے پڑھی تھی وه صحیح تھی تو اس کے لئے نماز احتیاط پڑھنا ضروری نهیں اور اگر نماز احتیاط کے دوران بھی یه علم هو جائے تو اس نماز کو تمام کرنا ضروری نهیں۔
1227۔اگر نماز احتیاط پڑھنے سے پهلے کسی شخص کو معلوم هو جائے که اس نے نماز کی رکعتیں کم پڑھی تھیں اور نماز پڑھنے کے بعد اس نے کوئی ایسا کام نه کیا هو جو نماز کو باطل کرتا هو تو ضروری هے که اس نے نماز کا جو حصه نه پڑھا هو اسے پڑھے اور بے محل سلام کے لئے احتیاط لازم کی بنا پر دو سجده سهو ادا کرے اور اگر اس سے کوئی ایسا فعل سر زد هوا هے جو نماز کو باطل کرتا هو مثلاً قبلے کی جانب پیٹھ کی هو تو ضروری هے که نماز دوباره پڑھے۔
1228۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط کے بعد پته چلے کی اس کی نماز میں کمی احتیاط کے برابر تھی مثلاً تین رکعتوں اور چار رکعتوں کے درمیان شک کی صورت میں ایک نماز احتیاط پڑھے اور بعد میں معلوم هو که اس نے نماز کی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو ضروری هے که نماز دوباره پڑھے۔
1230۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط پڑھنے کے بعد پته چلے که نماز میں جو کمی هوئی تھی وه نماز احتیاط سے زیاده تھی مثلاً تین رکعتوں اور چار رکعتوں کے مابین شک کی صورت میں ایک رکعت نماز احتیاط پڑھے اور بعد میں معلوم هو که نماز کی دو رکعتیں پڑھی تھیں اور نماز احتیاط کے بعد کوئی ایسا کام کیا هو جو نماز کو باطل کرتا هو مثلاً قبلے کی جانب پیٹھ کی تو ضروری هے که نماز دوباره پڑھے اور اگر کوئی ایسا کام نه کیا هو جونماز کو باطل کرتا هو تو اس صورت میں بھی احتیاط لازم یه هے که نماز دوباره پڑھے اور باقی مانده ایک رکعت ضم کرنے پر اکتفا نه کرے۔
1231۔ اگر کوئی شخص دو اور تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور کھڑے هو کر دو رکعت نماز احتیاط پڑھنے کے بعد اسے یاد آئے که اس نے نماز کی دو رکعتیں پڑھی تھیں تو اس کے لئے بیٹھ کر دو رکعت نماز احتیاط پڑھنا ضروری نهیں ۔
ص:244
1232۔ اگر کوئی شخص تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور جس وقت وه ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے هو کر پڑھ هو اسے یاد آئے که اس نے نماز کی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو ضروری هے که نماز احتیاط کو چھوڑ دے چنانچه رکوع میں داخل هونے سے پهلے اسے یاد آیا هو تو ایک رکعت ملا کر پڑھے اور اس کی نماز صحیح هے اور احتیاط لازم کی بنا پر زائد سلام کے لئے دو سجده بجالائے اور اگر رکوع میں داخل هونے کے بعد یاد آئے تو ضروری هے که نماز کو دوباره پڑھے اور احتیاط کی بنا پر باقی مانده رکعت ضم کرنے پر اکتفا نهیں کرسکتا۔
1233۔ اگر کوئی شخص دو اور تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور جس وقت وه دو رکعت نماز احتیاط کھڑے هو کر پڑھ رها هو اسے یاد آئے که اس نے نماز کی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو یهاں بھی بالکل وهی حکم جاری هوگا جس کا ذکر سابقه مسئلے میں کیا گیا هے۔
1234۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط کے دوران پته چلے که اس کی نماز میں کمی نماز احتیاط سے زیاده یا کم تھی تو یهاں بھی بالکل وهی حکم جاری هوگا جس کا ذکر مسئله 1232 میں کیا گیا هے۔
1235۔ اگر کوئی شخص شک کرے که جو نماز احتیاط اس پر واجب تھی وه اسے بجالایا هے یا نهیں تو نماز کا وقت گزر جانے کی صورت میں اپنے شک کی پروانه کرے اور اگر وقت باقی هو تو اس صورت میں جبکه شک اور نماز کے درمیان زیاده وقفه بھی گزرا هو اور اس نے کوئی ایسا کام بھی نه کیا هو مثلاً قبلے سے منه موڑنا جو نماز کو باطل کرتا هو تو ضروری هے که نماز احتیاط پڑھے اور اگر کوئی ایسا کام کیا هو جو نماز کو باطل کرتا هو یا نماز اور اس کے شک کے درمیان زیاده وقفه هوگیا هو تو احتیاط لازم کی بنا پر نماز دوباره پڑھنا ضروری هے ۔
1236۔ اگر ایک شخص نماز احتیاط میں ایک رکعت کی بجائے دو رکعت پڑھ لے تو نماز احتیاط باطل هوجاتی هے اور ضروری هے که دوباره اصل نماز پڑھے۔ اور اگر وه نماز میں کوئی رکن بڑھا دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا بھی یهی حکم هے۔
1237۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط پڑھتے هوئے اس نماز کے افعال میں سے کسی کے متعلق شک هو جائے تو اگر اس کا موقع نه گزرا هو تو اسے انجام دینا ضروری هے اور اگر اس کا موقع گزر گیا هو تو ضروری هے که اپنے شک کی پروانه کرے
ص:245
مثلاً اگر شک کرے که الحمد پڑھی هے یا نهیں اور ابھی رکوع میں نه گیا هو تو ضروری هے که الحمد پڑھے اور اگر رکوع میں جاچکا هو تو ضروری هے اپنے شک کی پروانه کرے۔
1238۔ اگر کوئی شخص نماز احتیاط کی رکعتوں کے بارے میں شک کرے اور زیاده رکعتوں کی طرف شک کرنا نماز کو باطل کرتا هو تو ضروری هے که شک کی بنیاد کم رکھے اور اگر زیاده رکعتوں کی طرف شک کرنا نماز کو باطل نه کرتا هو تو ضروری هے که اس کی بنیاد زیاده پر رکھے مثلا جب وه دو رکعت نماز احتیاط پڑھ رهاهو اگر شک کرے که دو رکعتیں پڑھی هیں یا تین تو چونکه زیادتی کی طرف شک کرنا نماز کو باطل کرتا هے اس لئے اسے چاهئے که سمجھ لے که اس نے دو رکعتیں اور اگر شک کرے که ایک رکعت پڑھی هے یا دو رکعتیں پڑھی هیں تو چونکه زیادتی کی طرف شک کرنا نماز کو باطل نهیں کرتا اس لئے اس سمجھنا چاهئے که دو رکعتیں پڑھی هیں۔
1239۔ اگر نماز احتیاط میں کوئی ایسی چیز جو رکن نه هو سهواً کم یا زیاده هو جائے تو اس کے لئے سجده سهو نهیں هے۔
1240۔ اگر کوئی شخص نماز احتیاط کے سلام کے بعد شک کرے که وه نماز کے اجزا اور شرائط میں سے کوئی ایک جزو یا شرط انجام دے چکا هے یا نهیں تو وه اپنے شک کی پروانه کرے۔
1241۔ اگر کوئی شخص نماز احتیاط میں تشهد پڑھنا یا ایک سجده کرنا بھول جائے اور اس تشهد یا سجدے کا اپنی جگه پر تدارک بھی ممکن نه هو تو احتیاط اور ایک سجدے کی قضا یا دو سجده سهو واجب هوں تو ضروری هے که پهلے نماز احتیاط بجالائے۔
1243۔ نماز کی رکعتوں کے بارے میں گمان کا حکم یقین کے حکم کی طرح هے مثلاً اگر کوئی شخص یه نه جانتا هو که ایک رکعت پڑھی هے یا دو رکعتیں پڑھی هیں اور گمان کرے که دو رکعتیں پڑھی هیں تو وه سمجھے که دو رکعتیں پڑھی هیں اور اگر چار رکعتی نماز میں گمان کرے که چار رکعتیں پڑھی هیں تو اسے نماز احتیاط پڑھنے کی ضرورت نهیں لیکن افعال کے بارے میں گمان کرنا شک کا حکم رکھتا هے پس اگر وه گمان کرے که رکوع کیا هے اور ابھی سجده میں داخل نه هوا هو تو ضروری هے که رکوع کو انجام دے اور اگر وه گمان کرے که الحمد نهیں پڑھی اور سورے میں داخل هوچکا هو تو گمان کی پروا نه کرے اور اس کی نماز صحیح هے۔
ص:246
1244۔ روزانه کی واجب نمازوں اور دوسری واجب نمازوں کے بارے میں شک اور سهو اور گمان کے حکم میں کوئی فرق نهیں هے مثلاً اگر کسی شخص کو نماز آیات کے دوران شک هو که ایک رکعت پڑھی هے یا دو رکعتیں تو چونکه اس کا شک دو رکعتی نماز میں هے لهذا اس کی نماز باطل هے اور اگر وه گمان کرے که یه دوسری رکعت هے یا پهلی رکعت تو اپنے گمان کے مطابق نماز کو تمام کرے۔