لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1500 ۔ نماز آیات جس کے پڑھنے کا طریقه بعد میں بیان هوگا تین چیزوں کی وجه سے واجب هوتی هے:
ا۔ سورج گرهن
2۔ چاند گرهن، اگرچه اس کے کچھ حصے کوهی گرهن لگے اور خواه انسان پر اس کی وجه سے خوف بھی طاری نه هوا هو۔
3۔ زلزله، احتیاط واجب کی بنا پر، اگرچه اس سے کوئی بھی خوف زده نه هوا هو۔
ص:286
البته بادلوں کی گرج، بجلی کی کڑک، سرخ و سیاه آندھی اور انهی جیسی دوسری آسمانی نشانیاں جن سے اکثر لوگ خوفزده هوجائیں اور اسی طرح زمین کے حادثات مثلاً (دریا اور) سمندر کے پانی کا سوکھ جانا اور پهاڑوں کا گرنا جن سے اکثر لوگ خوفزده هوجاتے هیں ان صورتوں میں بھی احتیاط مستحب کی بنا پر نماز آیات ترک نهیں کرنا چاهئے۔
1501۔ جن چیزوں کے لئے نماز آیات پڑھنا واجب هے که اگر وه ایک سے زیاده وقوع پذیر هوجائیں تو ضروری هے که انسان ان میں سے هر ایک کے لئے ایک نماز آیات پڑھے مثلاً اگر سورج کو بھی گرهن لگ جائے اور زلزله بھی آجائے تو دونوں کے لئے دو الگ الگ نمازیں پڑھنی ضروری هیں۔
1502۔ اگر کسی شخص پر کئی نماز آیات واجب هوں خواه وه سب اس پر ایک هی چیز کی وجه سے واجب هوئی هوں مثلاً سورج کو تین دفعه گرهن لگا هو اور اس نے اس کی نمازیں نه پڑھی هوں یا مختلف چیزوں کی وجه سے مثلاً سورج گرهن اور چاند گرهن اور زلزلے کی وجه سے اس پر واجب هوئی هوں تو ان کی قضا کرتے وقت یه ضروری نهیں که وه اس بات کا تعین کرے که کون سی قضا کون سی چیز کے لئے کر رها هے۔
1503۔ جن چیزوں کے لئے آیات پڑھنا واجب هے وه جس شهر میں وقوع پذیر هوں فقط اسی شهر کے لوگوں کے لئے ضروری هے که نماز آیات پڑھیں اور دوسرے مقامات کے لوگوں کے لئے اس کا پڑھنا واجب نهیں هے۔
1504۔ جب سورج یا چاند کو گرهن لگنے لگے تو نماز آیات کا وقت شروع هو جاتا هے اور اس وقت تک رهتا هے جب تک وه اپنی سابقه حالت پر لوٹ نه آئیں ۔ اگرچه بهتر یه هے که اتنی تاخیر نه کرے که گرهن ختم هونے لگے۔ لیکن نماز آیات کی تکمیل سورج یا چاند گرهن ختم هونے کے بعد بھی کر سکتے هیں۔
1505۔ اگر کوئی شخص نماز آیات پڑھنے میں اتنی تاخیر کرے که چاند یا سورج، گرهن سے نکلنا شروع هو جائے تو ادا کی نیت کرنے میں کوئی حرج نهیں لیکن اگر اس کے مکمل طور پر گرهن سے نکل جانے کے بعد نماز پڑھے تو پھر ضروری هے که قضا کی نیت کرے۔
1506۔ اگر چاند یا سورج کو گرهن لگنے کی مدت ایک رکعت نماز پرھنے کے برابر یا اس سے بھی کم هو تو جو نماز وه پڑھ رها هے ادا هے اور یهی حکم هے اگر ان کے گرهن کی مدت اس سے زیاده هو لیکن انسان نماز نه پڑھے یهاں تک که گرهن ختم هونے میں ایک رکعت پڑھنے کے برابر یا اس سے کم وقت باقی هو۔
ص:287
1507۔ جب کبھی زلزله، بادلوں کی گرج، بجلی کی کڑک، اور اسی جیسی چیزیں وقوع پذیر هوں تو اگر ان کا وقت وسیع هو تو نماز آیات کو فوراً پڑھنا ضروری نهیں هے بصورت دیگر ضروری هے که فوراً نماز آیات پڑھے یعنی اتنی جلدی پڑھے که لوگوں کی نظروں میں تاخیر کرنا شمار نه هو اور اگر تاخیر کرے تو احتیاط مستحب یه هے که بعد میں ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے۔
1508۔ اگر کسی شخص کو چاند یا سورت کو گرهن لگنے کا پته نه چلے اور ان کے گرهن سے باهر آنے کے بعد پته چلے که پورے سورج یا پورے چاند کو گرهن لگا تھا تو ضروری هے که نماز آیات کی قضا کرے لیکن اگر اسے یه پته چلے که کچھ حصے کو گرهن لگا تھا تو ضروری هے که نماز آیات کی قضا کرے لیکن اگر اسے یه پته چلے که کچھ حصے کو گرهن لگا تھا تو نماز آیات کی قضا اس پر واجب نهیں هے۔
1509۔اگر کچھ لوگ یه کهیں که چاند کو یا یه که سورج کو گرهن لگا هے اور انسان کو ذاتی طور پر ان کے کهنے سے یقین یا اطمینان حاصل نه هو اس لئے وه نماز آیات نه پڑھے اور بعد میں پته چلے که انهوں نے ٹھیک کها تھا تو اس صورت میں جب که پورے چاند کو یا پورے سورج کو گرهن لگا هو نماز آیات پڑھے لیکن اگر کچھ حصے کو گرهن لگا هو تو نماز آیات کا پڑھنا اس پر واجب نهیں هے۔ اور یهی حکم اس صورت میں هے جب که دو آدمی جن کے عادل هونے کے بارے میں علم نه هو یه کهیں که چاند کو یا سورج کو گرهن لگا هے اور بعد میں معلوم هو که وه عادل تھے۔
1510۔ اگر انسان کو ماهرین فلکیات کے کهنے پر جو علمی قاعدے کی رو سے سورج کو اور چاند کو گرهن لگنے کا وقت جانتے هوں اطمینان هوجائے که سورج کو یا چاند کو گرهن لگا هے تو ضروری هے که نماز آیات پڑھے اور اسی طرح اگر وه کهیں که سورج یا چاند کو فلاں وقت گرهن لگے گا اور اتنی دیر تک رهے گا اور انسان کو ان کے کهنے سے اطمینان حاصل هوجائے تو ان کے کهنے پر عمل کرنا ضروری هے۔
1511۔ اگر کسی شخص کو علم هوجائے که جو نماز آیات اس نے پڑھی هے وه باطل تھی تو ضروری هے که دوباره پڑھے اور اگر وقت گزر گیا هو تو اس کی قضا بجالائے۔
ص:288
1512۔ اگر یومیه نماز کے وقت نماز آیات بھی انسان پر واجب هو جائے اور اس کے پاس دونوں کے لئے وقت هو تو جو بھی پهلے پڑھ لے کوئی حرج نهیں هے اور اگر دونوں میں سے کسی ایک کا وقت تنگ هو تو پهلے وه نماز پڑھے جس کا وقت تنگ هو اور اگر دونوں کا وقت تنگ هو تو ضروری هے که پهلے یومیه نماز پڑھے۔
1513۔ اگر کسی شخص کو یومیه نماز پڑھتے هوئے علم هو جائے که نماز آیات کا وقت تنگ هے اور یومیه نماز کا وقت بھی تنگ هو تو ضروری هے که پهلے یومیه نماز کو تمام کرے اور بعد میں نماز آیات پڑھے اور اگر یومیه نماز کا وقت تنگ نه هو تو اسے توڑ دے اور پهے نماز آیات اور اس کے بعد یومیه نماز بجالائے۔
1514۔ اگر کسی شخص کو نماز آیات پڑھتے هوئے علم هوجائے که یومیه نماز کا وقت تنگ هے تو ضروری هے که نماز آیات کو چھوڑ دے اور یومیه نماز پڑھنے میں مشغول هو جائے اور یومیه نماز کو تمام کرنے کے بعد اس سے پهلے که کوئی ایسا کام کرے جو نماز کو باطل کرتا هو باقی مانده نماز آیات وهیں سے پڑھے جهاں سے چھوڑی تھی۔
1515۔ جب عورت حیض یا نفاس کی حالت میں هو اور سورج یا چاند کو گرهن لگ جائے یا زلزله آجائے تو اس پر نماز آیات واجب نهیں هے اور نه هی اس کی قضا هے۔