لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

اشاره

1408۔واجب نمازیں خصوصاً یومیه نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنا مستحب هے اور مسجد کے پڑوس میں رهنے والے کو اور اس شخص کو جو مسجد کی اذان کی آواز سنتا هو نماز صبح اور مغرب و عشا جماعت کے ساتھ پڑھنے کی بالخصوص بهت زیاده تاکید کی گئی هے۔

ص:273

1409۔ مُعَتَبر روایات کے مطابق یا جماعت نماز فرادی نماز سے پچیس گنا افضل هے۔

1410۔ بے اعتنائی برتتے هوئے نماز جماعت میں شریک نه هونا جائز نهیں هے اور انسان کے لئے یه مناسب نهیں هے که بغیر عذر کے نماز جماعت کو ترک کرے۔

1411۔مستحب هے که انسان صبر کرے تاکه نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور وه باجماعت نماز جو مختصر پڑھی جائے اس فرادی نماز سے بهتر هے جو طول دیکر پڑھی جائے اور وه نماز با جماعت اس نماز سے بهتر هے جو اول وقت میں فرادی یعنی تنها پڑھی جائے اور وه نماز با جماعت جو فضیلت کےوقت میں نه پڑھی جائے اور فرادی نماز جو فضیلت کے وقت میں پڑھی جائے ان دونوں نمازوں میں سے کون سی نماز بهتر هے معلوم نهیں۔

1412۔ جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جانے لگے تو مستحب هے که جس شخص نے تنها نماز پڑھی هو وه دوباره جماعت کے ساتھ پڑھے اور اگر اسے بعد میں پته چلے که اس کی پهلی نماز باطل تھی تو دوسری نماز کافی هے۔

1413۔ اگر امام جماعت یا مقتدی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد اسی نماز کو دوباره جماعت کے ساتھ پڑھنا چاهے تو اگرچه اس کا مستحب هونا ثابت نهیں لیکن رَجَاءً دوباره پڑھنے کی کوئی مُمَانَعت نهیں هے۔

1414۔ جس شخص کو نماز میں اس قدر وسوسه هوتا هو که اس نماز کے باطل هونے کا موجب بن جاتا هو اور صرف جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے اسے وسوسے سے نجات ملتی هو تو ضروری هے که وه نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔

1415۔اگر باپ یا ماں اپنی اولاد کو حکم دیں که نماز جماعت کے ساتھ پرھے تو احتیاط مستحب یه هے که نماز جماعت کے ساتھ پڑھے البته جب بھی والدین کی طرف سے امرونهی محبت کی وجه سے هو اور اس کی مخالفت سے انهیں اذیت هوتی هو تو اولاد کے لئے ان کی مخالفت کرنا اگرچه سرکشی کی حد تک نه هو تب بھی حرام هے۔

1416۔ مستحب نماز کسی بھی جگه احتیاط کی بنا پر جماعت کے ساتھ نهیں پڑھی جاسکتی لیکن نماز اِستِقاء جو طلب باران کے لئے پڑھی جاتی هے جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے هیں اور اسی طرح وه نماز جو پهلے واجب رهی هو اور پھر کسی وجه سے مستحب هوگئی هو مثلاً نماز عید فطر اور نماز عید قربان جو امام مهدی علیه السلام کے زمانے تک واجب تھی اور ان کی غیبت کی وجه سے مستحب هوگئی هے۔

ص:274

1417۔ جس وقت امام جماعت یومیه نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھا رها هو تو اس کی اقتدا کوئی سی بھی یومیه نماز میں کی جاسکتی هے۔

1418۔اگر امام جماعت یومیه نماز میں سے قضا شده اپنی نماز پڑھ رها هو یا کسی دوسرے شخص کی ایسی نماز کی قضا پڑھ رها هو جس کا قضا هونا یقینی هو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی هے لیکن اگر وه اپنی یا کسی دوسرے کی نماز احتیاطاً پڑھ رها هو تو اس کی اقتدا جائز نهیں مگر یه که مقتدی بھی اختیاطاً پڑھ رها هو اور امام کی احتیاط کا سبب مقتدی کی احتیاط کا بھی سبب هو لیکن ضروری نهیں هے که مقتدی کی احتیاط کا کوئی دوسرا سبب نه هو۔

1419۔ اگر انسان کو یه علم نه هو که نماز امام پڑھ رها هے وه واجب پنج گانه نمازوں میں سے هے یا مستحب نماز هے تو اس نماز میں اس امام کی اقتدا نهیں کی جاسکتی۔

1420۔جماعت کے صحیح هونے کے لئے یه شرط هے که امام اور مقتدی کے درمیان اور اسی طرح ایک مقتدی اور دوسرے ایسے مقتدی کے درمیان جو اس مقتدی اور امام کے درمیان واسطه هو کوئی چیز حائل نه هو اور حائل چیز سے مراد وه چیز هے جو انهیں ایک دوسرے سے جدا کرے خواه دیکھنے میں مانع هو جیسے که پرده یا دیوار وغیره یا دیکھنے میں حائل نه هو جیسے شیشه پس اگر نماز کی تمام یا بعض حالتوں میں امام اور مقتدی کے درمیان یا مقتدی اور دوسرے ایسے مقتدی کے درمیان جو اتصال کا ذریعه هو کوئی ایسی چیز حائل هو جائے تو جماعت باطل هوگی اور جیسا که بعد میں ذکر هوگا عورت اس حکم سے مستثنی هے۔

1421۔ اگر پهلی صف کے لمبا هونے کی وجه سے اس کے دونوں طرف کھڑے هونے والے لوگ امام جماعت کو نه دیکھ سکیں تب بھی وه اقتدا کر سکتے هیں اور اسی طرح اگر دوسری صفوں میں سے کسی صف کی لمبائی کی وجه سے اس کے دونوں طرف کھڑے هونے والے لوگ اپنے سے آگے والی صف کو نه دیکھ سکیں تب بھی وه اقتدا کر سکتے هیں۔

1422۔ اگر جماعت کی صفیں مسجد کے دروازے تک پهنچ جائیں تو جو شخص دروازے کے سامنے صف کے پیچھے کھڑا هو اس کی نماز صحیح هے۔ نیز جو اشخاص اس شخص کے پیچھے کھڑے هو کر امام جماعت کی اقتدا کر رهے هوں ان کی نماز بھی صحیح هے بلکه ان لوگوں کی نماز بھی صحیح هے جو دونوں طرف کھڑے نماز پڑھ رهے هوں اور کسی دوسرے مقتدی کے توسط سے جماعت سے متصل هوں۔

ص:275

1423۔ جو شخص ستون کے پیچھے کھڑا هو اگر وه دائیں یا بائیں طرف سے کسی دوسرے مقتدی کے توسط سے امام جماعت سے اتصال نه رکھتا هو تو وه اقتدا نهیں کرسکتا هے۔

1424۔ امام جماعت کے کھڑے هونی کی جگه ضروری هے که مقتدی کی جگه سے زیاده اونچی نه هو لیکن اگر معولی اونچی هو تو حرج نهیں نیز اگر ڈھلوان زمین هو اور امام اس طرف کھڑا هو جو زیاده بلند هو تو اگر ڈھلوان زیاده نه هو اور اس طرح هو که عموماً اس زمین کو مسطح کها جائے تو کوئی حرج نهیں۔

1425۔ (نماز جماعت میں) اگر مقتدی کی جگه امام کی جگه سے اونچی هو تو کوئی حرج نهیں لیکن اگر اس قدر اونچی هو که یه نه کها جاسکے که وه ایک جگه جمع هوئے هیں تو جماعت صحیح نهیں هے۔

1426۔ اگر ان لوگوں کے درمیان جو ایک صف میں کھڑے هوں ایک سمجھدار بچه یعنی ایسا بچه جو اچھے برے کی سمجھ رکھتا هو کھڑا هو جائے اور وه لوگ نه جانتے هوں که اسکی نماز باطل هے تو اقتدا کر سکتے هیں۔

1427۔ امام کی تکبیر کے بعد اگر اگلی صف کے لوگ نماز کے لئے تیار هوں اور تکبیر کهنے هی والے هوں تو جو شخص پچھلی صف میں کھڑا هو وه تکبیر کهه سکتا هے لیکن احتیاط مستحب یه هے که وه انتظار کرے تاکه اگلی صف والے تکبیر کهه لیں۔

1428۔ اگر کوئی شخص جانتا هو که اگلی صفوں میں سے ایک صف کی نماز باطل هے تو وه پچھلی صفوں میں اقتدا نهیں کر سکتا لیکن اگر اسے یه علم نه هو که اس صف کے لوگوں کی نماز صحیح هے یا نهیں تو اقتدا کرسکتا هے۔

1429۔ جب کوئی شخص جانتا هو که امام کی نماز باطل هے مثلاً اسے علم هو که امام وضو سے نهیں هے تو خواه امام خود اس امر کی جانب متوجه نه بھی هو وه شخص اس کی اقتدا نهیں کر سکتا۔

1430۔ اگر مقتدی کو نماز کے بعد پته چلے که امام عادل نه تھا یا کافر تھا یا کسی وجه سے مثلاً وضو نه هونے کی وجه سے اس کی نماز باطل تھی تو اس کی نماز صحیح هے۔

1431۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران شک کرے که اس نے اقتدا کی هے یا نهیں چنانچه علامتوں کی وجه سے اسے اطمینان هو جائے که اقتدا کی هے مثلاً ایسی حالت میں هو جو مقتدی کا وظیفه هے مثلاً امام کو الحمد اور سوره پڑھتے هوئے سن

ص:276

رها هو تو ضروری هے که نماز جماعت کے ساتھ هی ختم کرے بصورت دیگر ضروری هے که نماز فرادی کی نیت سے ختم کرے۔

1432۔اگر نماز کے دوران مقتدی کسی عذر کے بغیر فرادی کی نیت کرے تو اس کی جماعت کے صحیح هونے میں اشکال هے۔ لیکن اس کی نماز صحیح هے مگر یه که اس نے فرادی نماز میں اس کا جو وظیفه هے، اس پر عمل نه کیا هو یا ایسا کام جو فرادی نماز کو باطل کرتا هے انجام دیا هو اگرچه سهواً هو مثلاً رکوع زیاده کیا هو بلکه بعض صورتوں میں اگر فرادی نماز میں اس کا جو وظیفه هے اس پر عمل نه کیا هو تو بھی اس کی نماز صحیح هے هے۔ مثلاً اگر نمازی کی ابتدا سے فرادی کی نیت نه هو اور قراءت بھی نه کی هو لیکن رکوع میں اسے ایسا قصد کرنا پڑھے تو ایسی صورت میں فرادی کی نیت سے تمام ختم کر سکتا هے اور اسے دوباره پڑھنا ضروری نهیں هے۔

1433۔اگر مقتدی امام کے الحمد اور سوره پڑھنے کے بعد کسی عذر کی وجه سے فرادی کی نیت کرے تو الحمد اور سوره پڑھنا ضروری نهیں هے لیکن اگر (امام کے) الحمد اور سوره ختم کرنے سے پهلے فرادی کی نیت کرے تو احتیاط کی بنا پر ضروری هے که (الحمد اور سورے) جتنی مقدار امام نے پڑھی هو وه بھی پڑھے۔

1434۔اگر کوئی شخص نماز جماعت کے دوران فرادی کی نیت کرے تو پھر وه دوباره جماعت کی نیت نهیں کرسکتا لیکن اگر مُذَبذِب هو که فرادی کی نیت کرے یا نه کرے اور بعد میں نماز کو جماعت کے ساتھ تمام کرنے کا مُصَمَّم اراده کرے تو اسکی جماعت صحیح هے۔

1435۔ اگر کوئی شخص شک کرے که نماز کے دوران اس نے فرادی کی نیت کی هے یا نهیں تو ضروری هے که سمجھ لے که اس نے فرادی کی نیت نهیں کی۔

1436۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع میں هو اور امام کے رکوع میں شریک هو جائے اگرچه امام نے رکوع کا ذکر پڑھ لیا هو اس شخص کی نماز صحیح هے اور وه ایک رکعت شمار هوگی لیکن اگر وه شخص بقدر رکوع کے جھکے تاهم امام کو رکوع میں نه پاسکے تو وه شخص اپنی نماز فرادی کی نیت سے ختم کرسکتا هے۔

ص:277

1437۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع میں هو اور بقدر رکوع کے جھکے اور شک کرے که امام کے رکوع میں شریک هوا هے یا نهیں تو اگر اس کا موقع نکل گیا هو مثلاً رکوع کے بعد شک کرے تو ظاهر یه هے که اس کی جماعت صحیح هے۔ اس کے علاوه دوسری صورت میں نماز فرادی کی نیت سے پوری کرسکتا هے۔

1438۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع میں هو اور اس سے پهلے که وه بقدر رکوع جھکے، امام رکوع سے سر اٹھالے تو اسے اختیار هے که فرادی کی نیت کرکے نماز پوری کرے یا قربت مطلقه کی نیت سے امام کے ساتھ سجدے میں جائے اور سجدے کے بعد قیام کی حالت میں تکبیرۃ الاحرام اور کسی ذکر کا قصد کیے بغیر دوباره تکبیر کهے اور نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔

1439۔ اگر کوئی شخص نماز کی ابتدا میں یا الحمد اور سوره کے دوران اقتدا کرے اور اتفاقاً اس سے پهلے که وه رکوع میں جائے امام اپنا سر رکوع سے اٹھالے تو اس شخص کی نماز صحیح هے۔

1440۔ اگر کوئی شخص نماز کے لئے ایسے وقت پهنچے جب امام نماز کا آخری تشهد پڑھ رها هو اور وه شخص چاهتا هو که نماز جماعت کا ثواب حاصل کرے تو ضروری هے که نیت باندھنے اور تکبریه الاحرام کهنے کے بعد بیٹھ جائے اوعر محض قربت کی نیت سے تشهد امام کے ساتھ پڑھے۔ لیکن سلام نه کهے اور انتظام کرے تاکه امام نماز کا سلام پڑھ لے۔ اس کے بعد وه شخص کھڑا ها جائے اور دوباره نیت کیے بغیر اور تکبیر کهے بغیر الحمد اور سوره پڑھے اور اسے اپنی نماز کی پهلی رکعت شمار کرے۔

1441۔ مقتدی کو امام سے آگے نهیں کھڑا هونا چاهئے بلکه احتیاط واجب یه هے که اگر مقتدی زیاده هوں تو امام کے برابر نه کھڑے هوں۔ لیکن اگر مقتدی ایک آدمی هو تو امام کے برابر کھڑے هونے میں کوئی حرج نهیں۔

1442۔ اگر امام مرد اور مقتدی عورت هو تو اگر اس عورت اور امام کے درمیان یا عورت اور دوسرے مرد مقتدی کے درمیان جو عورت اور امام کے درمیان اتصال کا ذریعه هو پرده وغیره لٹکا هو تو کوئی حرج نهیں۔

1443۔ اگر نماز شروع هونے کے بعد امام اور مقتدی کے درمیان یا مقتدی اور اس تشخص کے درمیان جس کے توسط سے مقتدی امام سے متصل هو پرده یا کوئی دوسری چیز حائل هو جائے تو جماعت باطل هو جاتی هے اور لازم هے که مقتدی فرادی نماز کے وظیفے پر عمل کرے۔

ص:278

1444۔ احتیاط واجب هے که مقتدی کے سجدے کی جگه اور امام کے کھڑے هونے کی جگه کے بیچ ایک ڈگ سے زیاده فاصله نه هو اور اگر انسان ایک ایسے مقتدی کے توسط سے جو اس کے آگے کھڑا هو امام سے متصل هو تب بھی یهی حکم هے اور احتیاط مستحب یه هے که مقتدی کے کھڑے هونے کی جگه اور اس سے آگے والے شخص کے کھڑے هونے کی جگه کے درمیان اس سے زیاده فاصله نه هو جو انسان کی حالت سجده میں هوتی هے۔

1445۔ اگر مقتدی کسی ایسے شخص کے توسط سے امام سے متصل هو جس نے اس کے دائیں طرف یا بائیں طرف اقتدا کی هو اور سامنے سے امام سے متصل نه هو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که اس شخص سے جس نے اس کی دائیں طرف یا بائیں طرف اقتدا کی هو ایک ڈگ سے زیاده فاصلے پر نه هو۔

1446۔ اگر نماز کے دوران مقتدی اور امام یا مقتدی اور اس شخص کے درمیان جس کے توسط سے مقتدی امام سے متصل هو ایک ڈگ سے زیاده فاصله هوجائے تو وه تنها هو جاتا هے اور اپنی نماز فرادی کی نیت سے جاری رکھ سکتا هے۔

1447۔جو لوگ اگلی صف میں هوں اگر ان سب کی نماز ختم هو جائے اور وه فوراً دوسری نماز کے لئے امام کی اقتدا نه کریں تو پچھلی صف والوں کی نماز جماعت باطل هو جاتی هے بلکه اگر فوراً هی اقتدا کر لیں تب بھی پچھلی صف کی جماعت صحیح هونے میں اشکال هے۔

1448۔ اگر کوئی شخص دوسری رکعت میں اقتدا کرے تو اس کے لئے الحمد اور سوره پڑھنا ضروری نهیں البته قنوت اور تشهد امام کے ساتھ پڑھے اور احتیاط یه هے که تشهد پڑھتے وقت هاتھوں کی انگلیاں اور پاوں کے تلووں کا اگلا حصه زمین پر رکھے اور گھٹنے اٹھالے اور تشهد کے بعد ضروری هے که امام کے ساتھ کھڑا هو جائے اور الحمد اور سوره پڑھے اور اگر سورے کے لئے وقت نه رکھتا هو تو الحمد کو تمام کرے اور اپنے رکوع میں امام کے ساتھ مل جائے اور اگر پوری الحمد پڑھنے کے لئے وقت نه هو تو الحمد کو چھوڑ سکتا هے اور امام کے ساتھ رکوع میں جائے۔ لیکن اس صورت میں احیتاط مستحب یه هے که نماز کو فرادی کی نیت سے پڑھے۔

1449۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام چار رکعتی نماز کی دوسری رکعت پڑھا رها هو تو ضروری هے که اپنی نماز کی دوسری رکعت میں جو امام کی تیسری رکعت هوگی دو سجدوں کے بعد بیٹھ جائے اور واجب مقدار میں تشهد پڑھے

ص:279

اور پھر اٹھ کھڑا هو اور اگر تین دفعه تسبیحات پڑھنے کا وقت نه رکھتا هو تو ضروری هے که ایک دفعه پڑھے اور رکوع میں اپنے آپ کو امام کے ساتھ شریک کرے۔

1450۔ اگر امام تیسری یا چوتھی رکعت میں هو اور مقتدی جانتا هو که اگر اقتدا کرے گا اور الحمد پڑھے گا تو امام کے ساتھ رکوع میں شامل نه هوسکے گا تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که امام کے رکوع میں جانے تک انتظار کرے اس کے بعد اقتدا کرے۔

1451۔اگر کوئی شخص امام کے تیسری یا چوتھی رکعت میں قیام کی حالت میں هونے کے وقت اقتدا کرے تو ضروری هے که الحمد اور سوره پڑھے اور اگر سوره پڑھنے کے لئے وقت نه هو تو ضروری هے که الحمد تمام کرے اور رکوع میں امام کے ساتھ شریک هو جائے اور اگر پوری الحمد پڑھنے کے لئے وقت نه هو تو الحمد کو چھوڑ کر امام کے ساتھ رکوع میں جائے لیکن اس صورت میں احتیاط مستحب یه هے که فرادی کی نیت سے نماز پوری کرے۔

1452۔ اگر ایک شخص جانتا هو که اگر وه سوره یا قنوت پڑھے تو رکوع میں امام کے ساتھ شریک نهیں هوسکتا اور وه عمداً سوره یا قنوت پڑھے اور رکوع میں امام کے ساتھ شریک نه هو تو اس کی جماعت باطل هو جاتی هے اور ضروری هے که وه فرادی طور پر نماز پڑھے۔

1453۔جس شخص کو اطمینان هو که اگر سوره شروع کرے یا اسے تمام کرے تو بشرطیکه سوره زیاده لمبا نه هو وه رکوع میں امام کے ساتھ شریک هو جائے گا تو اس کے لئے بهتر یه هے که سوره شروع کرے یا اگر شروع کیا هو تو اسے تمام کرے لیکن اگر سوره اتنا زیاده طویل هو که اسے امام کا مقتدی نه کها جاسکے تو ضروری هے که اسے شروع نه کرے اور اگر شروع کر چکا هو تو اسے پورا نه کرے۔

1454۔ جو شخص یقین رکھتا هو که سوره پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع میں شریک هو جائے گا اور امام کی اقتدا ختم نهیں هوگی لهذا اگر وه سوره پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع میں شریک نه هوسکے تو اس کی جماعت صحیح هے۔

1456۔ اگر کوئی شخص اس خیال سے که امام پهلی یا دوسری رکعت میں هے الحمد اور سوره نه پڑھے اور رکوع کے بعد اسے پته چل جائے که امام تیسری یا چوتھی رکعت میں تما تو مقتدی کی نماز صحیح هے لیکن اگر اسے رکوع سے پهلے اس بات کا پته چل جائے تو ضروری هے که الحمد اور سوره پڑھے اور اگر وقت تنگ هو تو مسئله 1451 کے مطابق عمل کرے۔

ص:280

1457۔ اگر کوئی شخص یه خیال کرتے هوئے الحمد اور سوره پڑھے که امام تیسری یا چوتھی رکعت میں هے اور رکوع سے پهلے یا اس کے بعد اسے پته چلے که امام پهلی دوسری رکعت میں تھا تو مقتدی کی نماز صحیح هے اور اگر یه بات اسے الحمد اور سوره پڑھتے هوئے معلوم هو تو (الحمد اور سوره کا) تمام کرنا اس کے لئے ضروری نهیں۔

1458۔ اگر کوئی شخص مستحب نماز پڑھ رها هو اور جماعت قائم هو جائے اور اسے یه اطمینان نه هو که اگر مستحب نماز کو تمام کرے گا تو جماعت کے ساتھ شریک هو سکے گا تو مستحب یه هے که جو نماز پڑھ رها هو اسے چوڑ دے اور نماز جماعت میں شامل هوجائے بلکه اگر اسے یه اطمینان نه هو که پهلی رکعت میں شریک هوسکے گا تب بھی مستحب هے که اسی حکم کے مطابق عمل کرے۔

1459۔ اگر کوئی شخص تین رکعتی یا چار رکعتی نماز پڑھ رها هو اور جماعت قائم هوجائے اور وه ابھی تیسری رکعت کے رکوع میں نه گیا هو اور اسے یه اطمینان نه هو که اگر نماز کو پورا کرے گا تو جماعت میں شریک هوسکے گا تو مستحب هے که مستحب نماز کی نیت کے ساتھ اس نماز کو دو رکعت پر ختم کر دے اور جماعت کے ساتھ شریک هو جائے۔

1460۔ جو شخص امام سے ایک رکعت پیچھے هو اس کے لئے بهتر یه هے که جب امام آخری رکعت کا تشهد پڑھ رها هو تو هاتھوں کی انگلیاں اور پاوں کے تلووں کا اگلا حصه زمین پر رکھے اور گھٹنوں کو بلند کرے اور امام کے سلام پڑھنے کا انتظار کرے اور پھر کھڑا هو جائے اور اگر اسی وقت فرادی کا قصد کرنا چاهے تو کوئی حرج نهیں۔