لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

نماز جمعه کے احکام

740۔ جمعه کی نماز صبح کی نماز کی طرح دو رکعت کی هے۔ اس میں اور صبح کی نماز میں فرق یه هے که اس نماز سے پهلے دو خطبے بھی هیں۔ جمعه کی نماز واجب تخییری هے۔ اس سے مراد یه هے که جمعه کے دن مکلف کو اختیار هے که اگر نماز جمعه کی شرائط موجود هوں تو جمعه کی نماز پڑھے یا ظهر کی نماز پڑھے۔ لهذا اگر انسان جمعه کی نماز پڑھے تو وه ظهر کی نماز کی کفایت کرتی هے (یعنی پھر ظهر کی نماز پڑھنا ضروری نهیں)۔

جمعه کی نماز واجب هونے کی چند شرطیں هیں :

(اول) وقت کا داخل هونا جو که زوال آفتاب هے۔اور اس کا وقت اول زوال عرفی هے پس جب بھی اس سے تاخیر هوجائے، اس کا وقت ختم هو جاتا هے اور پھر ظهر کی نماز ادا کرنی چاهئے۔

(دوم) نماز پڑھنے والوں کی تعداد جو که بمع امام پانچ افراد هے اور جب تک پانچ مسلمان اکٹھے نه هوں جمعه کی نماز واجب نهیں هوتی۔

(سوم) امام کا جامع شرائط امامت هونا مثلاً عدالت وغیره جو که امام جماعت میں معتبر هیں اور نماز جماعت کی بحث میں بتایا جائے گا۔ اگر یه شرط پوری نه هو تو جمعه کی نماز واجب نهیں هوتی۔

جمعه کی نماز کے صحیح هونے کی چند شرطیں هیں :

ص:152

(اول) باجماعت پڑھا جانا۔ پس یه نماز فرادی ادا کرنا صحیح نهیں اور جب مقتدی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے پهلے امام کے ساتھ شامل هو جائے تو اس کی نماز صحیح هے اور وه اس نماز پر ایک رکعت کے رکوع سے پهلے امام کے ساتھ شامل هو جائے تو اس کی نماز صحیح هے اور وه اس نماز پر ایک رکعت کا اضافه کرے گا اور اگر وه رکوع میں امام کو پالے (یعنی نماز میں شامل هو جائے) تو اس کی نماز کا صحیح هونا مشکل هے اور احتیاط ترک نهیں هوتی (یعنی اسے ظهر کی نماز پڑھنی چاهئے)

(دوم) نماز سے پهلے دو خطبے پڑھنا۔ پهلے خطبے میں خظیب الله تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے نیز نمازیوں کو تقوی اور پرهیز گاری کی تلقین کرے۔ پھر قرآن مجید کا ایک چھوٹا سوره پڑھ کر (منبر پر لمحه دو لمحه) بیٹھ جائے اور پھر کھڑا هو اور دوباره الله تعالی کی حمد و ثنا بجا لائے۔ پھر حضرت رسول اکرم (صلی الله علیه وآله) اور ائمه طاهرین علیهم السلام پر درود بھیجے اور احتیاط مستحب یه هے که مومنین اور مومنات کے لئے استغفار (بخشش کی دعاء) کرے۔ ضروری هے که خطبے نماز سے پهلے پڑھے جائیں۔ پس اگر نماز دو خطبوں سے پهلے شروع کر لی جائے تو صحیح نهیں هوگی اور زوال آفتاب سے پهلے خطبے پڑھنے میں اشکال هے اور ضروری هے که جو شخص خطبے پڑھے وه خطبے پڑھنے کے وقت کھڑا هو۔ لهذا اگر وه بیٹھ کر خطبے پڑھے گا تو صحیح نهیں هوگا اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فاصله دینا لازم اور واجب هے۔ اور ضروری هے که مختصر لمحوں کے لئے بیٹھے۔ اور یه بھی ضروری هے که امام جماعت اور خطیب ۔۔۔ یعنی جو شخص خطبے پڑھے۔۔۔ ایک هی شخص هو اور اقوی یه هے که خطبے میں طهارت شرط نهیں هے اگرچه اشتراط (یعنی شرط هونا) احوط هے۔ اور احتیاط کی بنا پر الله تعالی کی حمد و ثنا اسی طرح پیغمبر اکرام (صلی الله علیه وآله) اور ائمه المسلمین ؑ پر عربی زبان میں درود بھیجنا معتبر هے اور اس سے زیاده میں عربی معتبر نهیں هے۔ بلکه اگر حاضرین کی اکثریت عربی نه جانتی هو تو احتیاط لازم یه هے که تقوی کے بارے میں وعظ و نصیحت کرنے وقت جو زبان حاضرین جانتے هیں اسی میں تقوی کی نصیحت کرے۔

(سوم) یه که جمعه کی دو نمازوں کے درمیان ایک فرسخ سے کم فاصله نه هو۔ پس جب جمعه کی دوسری نماز ایک فرسخ سے کم فاصله پر قائم هو اور دو نمازیں بیک وقت پڑھی جائیں تو دونوں باطل هوں گی اور اگر ایک نماز کو دوسری پر سبقت حاصل هو خواه وه تکبیرۃ الاحرام کی حد تک هی کیوں نه هو تو وه (نماز جسے سبقت حاصل هو) صحیح هوگی اور دوسری باطل هوگی لیکن اگر نماز کے بعد پته چلے که ایک فرسخ سے کم فاصله پر جمعه کی ایک اور نماز اس نماز سے پهلے یا اس کے ساتھ ساتھ قائم هوئی تھی تو ظهر کی نماز واجب نهیں هوگی اور اس سے کوئی فرق نهیں پڑتا که اس بات کا علم وقت میں هو یا وقت کے بعد هو۔ اور جمعه کی نماز کا قائم کرنا مذکوره فاصلے کے اندر جمعه کی دوسری نماز قائم کرنے میں اس وقت مانع هوتا هے

ص:153

جب وه نماز خود صحیح اور جامع الشرائط هو ورنه اس کے مانع هونے میں اشکال هے اور زیاده احتمال اس کے مانع نه هونے کا هے۔

741۔ جب جمعه کی ایک ایسی نماز قائم هو جو شرائط کو پورا کرتی هو اور نماز قائم کرنے والا امام وقت یا اس کا نائب هو تو اس صورت میں نماز جمعه کے لئے حاضر هونا واجب هے۔ اور اس صورت کے علاوه حاضر هونا واجب نهیں هے۔ پهلی صورت میں حاضری کے وجوب کے لئے چند چیزیں معتبر هیں :

(اول) مکلف مرد هو۔ اور جمعه کی نماز میں حاضر هونا عورتوں کے لئے واجب نهیں هے۔

(دوم) آزاد هونا۔ لهذا غلاموں کے لئے جمعه کی نماز میں حاضر هونا واجب نهیں هے۔

(سوم) مقیم هونا۔ لهذا مسافر کے لئے جمعه کی نماز میں شامل هونا واجب نهیں هے۔ اس مسافر می9ں جس کا فریضه قصر هو اور جس مسافر نے اقامت کا قصد کیا هو اور اسکا فریضه پوری نماز پڑھنا هو، کوئی فرق نهیں هے۔

(چهارم) بیمار اور اندھانه هونا۔ لهذا بیمار اور اندھے شخص پر جمعه کی نماز واجب نهیں هے۔

(پنجم) بوڑھا نه هونا۔ لهذا بوڑھوں پر یه نماز واجب نهیں۔

(ششم) یه که خود انسان کے اور اس جگه کے درمیان جهاں جمعه کی نماز قائم هو دو فرسخ سے زیاده فاصله نه هو اور جو شخص دو فرسخ کے سرے پر هو اس کے لئے حاضر هونا واجب هے اور اسی طرح وه شخص جس کے لئے جمعه کی نماز میں بارش یا سخت سردی وغیره کی وجه سے حاضر هونا مشکل یا دشوار هو تو حاضر هونا واجب نهیں هے۔

742۔ چند احکام جن کا تعلق جمعه کی نماز سے هے یه هیں :

(اول) جس شخص پر جمعه کی نماز ساقط هوگئی هو اور اس کا اس نماز میں حاضر هونا واجب نه هو اس کے لئے جائز هے که ظهر کی نماز اول وقت میں ادا کرنے کے لئے جلدی کرے۔

ص:154

(دوم) امام کے خطبے کے دوران باتیں کرنا مکروه هے لیکن باتوں کی وجه سے خطبه سننے میں رکاوٹ هو تو احتیاط کی بنا پر باتیں کرنا جائز نهیں هے۔ اور جو تعداد نماز جمعه کے واجب هونے کے لئے معتبر هے اس میں اور اس سے زیاده کے درمیان کوئی فرق نهیں هے۔

(سوم) احتیاط کی بنا پر دونوں خطبوں کا توجه سے سننا واجب هے لیکن جو لوگ خطبوں کے معنی نه سمجھتے هوں ان کے لئے توجه سے سننا واجب نهیں هے۔

(چهارم) جمعه کے دن کی دوسری اذان بدعت هے اور یه وهی اذان هے جسے عام طور پر تیسری اذان کها جاتا هے۔

(پنجم) ظاهر یه هے که جب امام جمعه خطبه پڑھ رها هو تو حاضر هونا واجب نهیں هے۔

(ششم) جب جمعه کی نماز کے لئے اذان دی جارهی هو تو خرید فروخت اس صورت میں جب که وه نماز میں مانع هو حرام هے اور اگر ایسا نه هو تو پھر حرام نهیں هے اور اظهر یه هے که خرید و فروخت حرام هونے کی صورت میں بھی معامله باطل نهیں هوتا۔

(هفتم) اگر کسی شخص پر جمعه کی نماز میں حاضر هونا واجب هو اور وه اس نماز کو ترک کرے اور ظهر کی نماز بجا لائے تو اظهر یه هے که اس کی نماز صحیح هوگی۔