لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

نِیّت

952۔ضروری هے که انسان نماز قربت کی نیت سے یعنی خداوند عالم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پڑھے اور یه ضروری نهیں که نیت کو اپنے دل سے گزراے یا مثلاً زبان سے کهے که چار رکعت نماز ظهر پڑھتا هوں قُربَۃً اِلَی اللهِ۔

ص:193

953۔ اگر کوئی شخص ظهر کی نماز میں یا عصر کی نماز میں نیت کرے که چار رکعت نماز پڑھتا هوں لیکن اس امر کا تعین نه کرے که نماز ظهر کی هے یاعصر کی تو اس کی نماز باطل هے۔ نیز مثال کے طور پر اگر کسی شخص پر نماز ظهر کی قضا واجب هو اور وه اس قضا نماز یا نماز ظهر کو "ظهر کے وقت" میں پڑھنا چاهے تو ضروری هے که جو نماز وه پڑھے نیت میں اس کا تعین کرے۔

954۔ ضروری هے که انسان شروع سے آخر تک اپنی نیت پر قائم رهے۔ اگر وه نماز میں اس طرح غافل هو جائے که اگر کوئی پوچھے که وه کیا کر رها هے تو اس کی سمجھ میں نه آئے که کیا جواب دے تو اس کی نماز باطل هے۔

955۔ ضروری هے که انسان فقط خداوند عالم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نماز پڑھے پس جو شخص ریا کرے یعنی لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل هے خواه یه نماز پڑھنا فقط لوگوں کو یا خدا اور لوگوں دونوں کو دکھانے کے لئے هو۔

956۔ اگر کوئی شخص نماز کا کچھ حصه بھی الله تعالی جل شانه کے علاوه کسی اور کے لئے بجا لائے خواه وه حصه واجب هو مثلاً سوره الحمد یا مستحب هو مثلاً قنوت اور اگر غیر خدا کا یه قصد پوری نماز پر محیط هو یا اس بڑے حصے کے تدارک سے بطلان لازم آتا هو تو اس کی نماز باطل هے۔ اور اگر نماز تو خدا کے لئے پڑھے لیکن لوگوں کو دکھانے کے لئے کسی خاص جگه مثلاً مسجد میں پڑھے یا کسی خاص وقت مثلاً اول وقت میں پڑھے یا کسی خاص قاعدے سے مثلاً باجماعت پڑھے تو اس کی نماز بھی باطل هے۔