لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

وه اشخاص جو اپنے مال میں تصرف نهیں کرسکتے

2260۔ جو بچه بالغ نه هوا هو وه اپنی ذمے داری اور اپنے مال میں شرعاً تصرف نهیں کرسکتا اگرچه اچھے اور برے کو سمجھنے میں حد کمال اور رشد تک پهنچ گیا هو اور سرپرست کی اجازت اس بارے میں کوئی فائده نهیں رکھتی۔ لیکن چند چیزوں میں بچے کا تصرف کانا صحیح هے، ان میں سے کم قیمت والی چیزوں کی خریدوفروخت کرنا هے جیسے که مسئله 2090 میں گزر چکا هے۔ اسی طرح بچے کا اپنے خونی رشتے داروں اور فریبی رشتے داروں کے لئے وصیت کرنا جس کا بیان مسئله 2706 میں آئے گا۔ لڑکی میں بالغ هونے کی علامت یه هے که وه نوقمری سال پورے کرلے اور لڑکے کے بالغ هونےکی علامت تین چیزوں میں سے ایک هوتی هے۔

1۔ ناف کے نیچے اور شرم گاه سے اوپر سخت بالوں کا اگنا

2۔ منی کا خارج هونا۔

3۔ بنابر مشهور عمر کے پندره قمری سال پورے کرنا ۔

2261۔چهرے پر اور هونٹوں کے اوپر سخت بالوں کا اگنا بعید نهیں که بلوغت کی علامت هو لیکن سینے پر اور بغل کے نیچے بالوں کا اگنا اور آواز کا بھاری هوجانا اور ایسی هی دوسری علامات بلوغت کی نشانیاں نهیں هیں مگر ان کی وجه سے انسان بالغ هونے کا یقین کرے۔

2262۔دیوانه اپنے مال میں تصرف نهیں سکتا۔ اسی طرح دیوالیه یعنی وه شخص جسے اس کے قرض خواهوں کے مطالبے پر حاکم شرع نے اپنے مال میں تصرف کرنے سے منع کر دیا هو، قرض خواهوں کی اجازت کے بغیر اس مال میں تصرف نهیں کرسکتا اور اسی طرح سفیه یعنی وه شخص جو اپنا مال احمقانه اور فضول کاموں میں خرچ کرتا هو، سرپرست کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف نهیں کرسکتا۔

ص:427

2273۔ جو شخص کبھی عاقل اور کبھی دیوانه هوجائے اس کا دیوانگی کی حالت میں اپنے مال میں تصرف کرنا صحیح نهیں هے۔

2264۔انسان کو اختیار هے مرض الموت کے عالم میں اپنے آپ پر یا اپنے اهل و عیال اور مهمانوں پر اور ان کاموں پر جو فضول خرچی میں شمار نه هوں جتنا چاهے صرف کرے۔ اور اگر اپنے مال کو اس کی (اصل) قیمت پر فروخت کرے یا کرائے پر دے تو کوئی اشکال نهیں هے لیکن اگر مثلاً اپنا مال کسی کو بخش دے یا رائج قیمت سے سستا فروخت کرے تو جتنی مقدار اس نے بخش دی هے یا جتنی سستی فروخت کی هے اگر وه اس کے مال کی ایک تهائی کے برابر یا اس سے کم هو تو اس کا تصرف کرنا صحیح هے۔ اور اگر ایک تهائی سے زیاده هو تو ورثاء کی اجازت دینے کی صورت میں اس کا تصرف کرنا صحیح هے اور اگر ورثاء اجازت نه دیں تو ایک تهائی سے زیاده میں اس کا تصرف باطل هے۔