لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

وه حلال مال جو حرام مال میں مخلوط هو جائے

1822۔ اگر حلال مال حرام مال کے ساتھ اس طرح مل جائے که انسان انهیں ایک دوسرے سے الگ نه کر سکے اور حرام مال کے مالک اور اس مال کی مقدار کا بھی علم نه هو اور یه بھی علم نه هو که حرام مال کی مقدار خمس سے کم هے یا زیاده تو تمام مال کا خمس قربت مطلقه کی نیت سے ایسے شخص کو دے جو خمس کا اور مال مجهول المالک کا مستحق هے اور خمس دینے کے بعد باقی مال اس شخص پر حلال هے۔

1823۔ اگر حلال مال حرام مال سے مل جائے تو انسان حرام کی مقدار ۔ خواه وه خمس سے کم هو یا زیاده۔ جانتا هو لیکن اس کے مالک کو نه جانتا هو تو ضروری هے که اتنی مقدار اس مال کے مالک کی طرف سے صدقه کر دے اور احتیاط واجب یه هے که حاکم شرع سے بھی اجازت لے۔

1824۔ اگر حلال مال حرام مال سے مل جائے اور انسان کو حرام کی مقدار کا علم نه هو لیکن اس مال کے مالک کو پهچانتا هو اور دونوں ایک دوسرے کو راضی نه کرسکیں تو ضروری هے که جتنی مقدار کے بارے میں یقین هو که دوسرے کا مال هے وه اسے دیدے۔ بلکه اگر دو مال اس کی اپنی غلطی سے مخلوط هوئے هوں تو احتیاط کی بنا پر جس مال کے بارے میں اسے احتمال هو که یه دوسرے کا هے اسے اس مال سے زیاده دینا ضروری هے۔

ص:340

1825۔ اگر کوئی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس دے دے اور بعد میں اسے پته چلے که حرام کی مقدار خمس سے زیاده تھی تو ضروری هے که جتنی مقدار کے بارے میں علم هو که خمس سے زیاده تھی اسے اس کے مالک کی طرف سے صدقه کر دے ۔

1826۔ اگر کوئی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس دے یا ایسا مال جس کے مالک کو نه پهچانتا هو مال کے مالک کی طرف سے صدقه کر دے اور بعد میں اس کا مالک مل جائے تو اگر وه راضی نه هو تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کے مال کے برابر اسے دینا ضروری هے۔

1827۔ اگر حلال مال حرام مال سے مل جائے اور حرام کی مقدار معلوم هو اور انسان جانتا هو که اس کا مالک چند لوگوں میں سے هی کوئی ایک هے لیکن یه نه جانتا هو که وه کون هے تو ان سب کا اطلاع دے چنانچه ان میں سے کوئی ایک کهے که یه میرا مال هے اور دوسرے کهیں که همارا مال نهیں یا اس مال کے بارے میں لاعلمی کا اظهار کریں تو اسی پهلے شخص کو وه مال دیدے اور اگر دو یا دو سے زیاده آدمی کهیں که یه همارا مال هے اور صلح یا اسی طرح کسی طریقے سے وه معامله حل نه هو تو ضروری هے که تنازع کے حل کے لئے حاکم شرع سے رجوع کریں اور اگر وه سب لاعلمی کا اظهار کریں اور باهم صلح بھی نه کریں تو ظاهر یه هے که اس مال کے مالک کا تعین قرعه اندازی کے ذریعے هوگا اور احتیاط یه هے که حاکم شرع یا اس کا وکیل قرعه اندازی کی نگرانی کرے۔