لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1168۔ اختیاری حالت میں واجب نماز کا توڑنا احتیاط واجب کی بنا پر حرام هے لیکن مال کی حفاظت اور مالی یا جسمانی ضرر سے بچنے کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نهیں بلکه ظاهراً وه تمام اهم دینی اور دنیاوی کام جو نمازی کو پیش آئیں ان کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نهیں۔
1169۔ اگر انسان اپنی جان کی حفاظت یا کسی ایسے شخص کی جان کی حفاظت جس کی نگهداشت واجب هو اور وه نماز توڑے بغیر ممکن نه هو تو انسان کو چاهئے که نماز توڑ دے۔
1170۔ اگر کوئی شخص وسیع وقت میں نماز پڑھنے لگے اور قرض خواه اس سے اپنے قرضے کا مطالبه کرے اور وه اس کا قرضه نماز کے دوران ادا کرسکتا هو تو ضروری هے که اسی حالت میں ادا کرے اور اگر بغیر نماز توڑے اس کا قرضه چکانا ممکن نه هو تو ضروری هے که نماز توڑ دے اور اس کا قرضه ادا کرے اور بعد میں نماز پڑھے۔
1171۔ اگر کسی شخص کو نماز کے دوران پته چلے که مسجد نجس هے اور وقت تنگ هو تو ضروری هے که نماز تمام کرے اور اگر وقت وسیع هو اور مسجد کو پاک کرنے سے نماز نه ٹوٹتی هو تو ضروری هے که نماز کے دوران اسے پاک کرے اور بعد میں باقی نماز پڑھے اور اگر نماز ٹوٹ جاتی هو اور نماز کے بعد مسجد کو پاک کرنا ممکن هو تو مسجد کو پاک کرنے کے لئے اس کا نماز توڑنا جائز هے اور اگر نماز کے بعد مسجد کا پاک کرنا ممکن نه هو تو اس کے لئے ضروری هے که نماز توڑ دے اور مسجد کو پاک کرے اور بعد میں نماز پڑھے۔
1172۔ جس شخص کے لئے نماز کا توڑنا ضروری هو اگر وه نماز ختم کرے تو وه گناهگار هوگا لیکن اس کی نماز صحیح هے اگرچه احتیاط مستحب یه هے که دوباره نماز پڑھے۔
ص:232
1173۔اگر کسی شخص کو قراءت یا رکوع کی حد تک جھکنے سے پهلے یاد آجائے که وه اذان اور اقامت یا فقط اقامت کهنا بھول گیا هے اور نماز کا وقت وسیع هو تو مستحب هے که انهیں کهنے کے لئے نماز توڑ دے بلکه اگر نماز ختم هونے سے پهلے اسے یاد آئے که انهیں بھول گیا تھا تب بھی مستحب هے که انهیں کهنے کے لئے نماز توڑ دے۔