لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
692۔ مٹی، ریت، ڈھیلے اور روڑی یا پتھر پر تیمم کرنا صحیح ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر مٹی میسر ہو تو کسی دوسری چیز پر تیمم نہ کیا جائے۔ اور اگر متی نہ ہو تو ریت یا ڈھیلے پر اور اگر ریت اور ڈھیلا بھی نہ ہوں تو پھر روڑی یا پتھر پر تیمم کیا جائے۔
693۔ جپسم اور چونے کے پتھر پر تیمم کرنا صحیح ہے نیز اس گردوغبار پر جو قالین، کپڑے اور ان جیسی دوسری چیزوں پر جمع ہوجاتا ہے اگر عرف عام میں اسے نرم مٹی شمار کیا جاتا ہو تو اس پر تیمم صحیح ہے۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اختیار کی حالت میں اس پر تیمم نہ کرے۔ اسی طرح احتیاط مستحب کی بنا پر اختیار کی حالت میں پکے جپسم اور چونے پر اور پکی ہوئی اینٹ اور دوسرے معدنی پتھر مثلاً عقیق وغیرہ پر تیمم نہ کرے۔
694۔ اگر کسی شخص کو مٹی، ریت، ڈھیلے یا پتھر نہ مل سکیں تو ضروری ہے کہ تر مٹی پر تیمم کرے اور اگر تر مٹی نہ ملے تو ضروری ہے کہ قالین، دری یا لباس اور ان جیسی دوسری چیزوں کے اندر یا اوپر موجود اس مختصر سے گردوغبار سے جو
ص:142
عرف میں مٹی شمار نہ ہوتا ہو تیمم کرے اور اگر ان میں سے کوئی چیز بھی دستیاب نہ ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ تیمم کے بغیر نماز پڑھے لیکن واجب ہے کہ بعد میں اس نماز کی قضا پڑھے۔
695۔ اگر کوئی شخص قالین، دری اور ان جیسی دوسری چیزوں کو جھاڑ کر مٹی مہیا کر سکتا ہے تو اس کا گرد آلود چیز پر تیمم کرنا باطل ہے اور اسی طرح اگر تر مٹی کو خشک کرے کے اس سے سوکھی مٹی حاصل کر سکتا ہے تو تر مٹی پر تیمم کرنا باطل ہے ۔
696۔ جس شخص کے پاس پانی نہ ہو لیکن برف ہو اور اسے پگھلا سکتا ہو تو اسے پگھلا کر پانی بنانا اور اس سے وضو یا غسل کرنا ضروری ہے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو اور اس کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہ ہو۔ جس پر تیمم کرنا صحیح ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے وقت میں نماز کو قضا کرے اور بہتر یہ ہے کہ برف سے وضو یا غسل کے اعضا کو ترکرے اور اگر ایسا کرنا بھی ممکن نہ ہو تو برف پر تیمم کرلے اور وقت پر بھی نماز پڑھے۔
697۔ اگر مٹی اور ریت کے ساتھ سوکھی گھاس کی طرح کی کوئی چیز (مثلاً بیج، پھلیاں) ملی ہوئی ہو جس پر تیمم کرنا باطل ہو تو متعلقہ شخص اس پر تیمم نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر وہ چیز اتنی کم ہو کہ اسے مٹی یا ریت میں نہ ہونے کے برابر سمجھا جاسکے تو اس مٹی اور ریت پر تیمم صحیح ہے۔
698۔ اگر ایک شخص کے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہو جس پر تیمم کیا جاسکے اور اس کا خریدنا یا کسی اور طرح حاصل کرنا ممکن ہو تو ضروری ہے کہ اس طرح مہیا کرلے۔
699۔ مٹی کی دیوار پر تیمم کرنا صحیح ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ خشک زمین یا خشک مٹی کے ہوتے ہوئے تر زمین یا تر مٹی پر تیمم نہ کیا جائے۔
700۔ جس چیز پر انسان تیمم کرے اس کا پاک ہونا ضروری ہے اور اگر اس کے پاس کوئی ایسی پاک چیز نہ ہو جس پر تیمم کرنا صحیح ہو تو اس پر نماز واجب نہیں لیکن ضروری ہے کہ اس کی قضا بجالائے اور بہتر یہ ہے کہ وقت میں بھی نماز پڑھے۔
ص:143
701۔ اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ ایک چیز پر تیمم کرنا صحیح ہے اور اس پر تیمم کر لے بعد ازاں اسے پتہ چلے کہ اس چیز پر تیمم کرنا باطل تھا تو ضروری ہے کہ جو نمازیں اس تیمم کے ساتھ پڑھی ہیں وہ دوبارہ پڑھے۔
702۔ جس چیز پر کوئی شخص تیمم کرے ضروری ہے کہ وہ عصبی نہ ہو پس اگر وہ عضبی مٹی پر تیمم کرے تو اس کا تیمم باطل ہے۔
703۔ غصب کی ہوئی فضا میں تیمم کرنا باطل نہیں ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص اپنی زمین میں اپنے ہاتھ مٹی پر مارے اور پھر بلا اجازت دوسرے کی زمین میں داخل ہوجائے اور ہاتھوں کو پیشانی پر پھیرے تو اس کا تیمم صحیح ہوگا اگرچہ وہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔
704۔ اگر کوئی شخص بھولے سے کریا غفلت سے غصبی چیز تیمم صحیح ہے لیکن اگر وہ خود کوئی چیز غصب کرے اور پھر بھول جائے کہ غصب کی ہے تو اس چیز پر تیمم کے صحیح ہونے میں اشکال ہے۔
705۔ اگر کوئی شخص غصبی جگہ میں محبوس ہو اور اس جگہ کا پانی اور مٹی دونوں غصبی ہوں تو ضروری ہے کہ تیمم کرکے نماز پڑھے۔
706۔ جس چیز پر تیمم کیا جائے احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اس پر گردوغبار موجود ہو جو کہ ہاتھوں پرلگ جائے اور اس پر ہاتھ مارنے کے بعد ضروری ہے کہ اتنے زور سے ہاتھوں کو نہ جھاڑے کہ ساری گرد گر جائے۔
707۔ گڑھے والی زمین، راستے کی مٹی اور ایسی شور زمین پر جس پر نمک کی تہہ نہ جمی ہو تیمم کرنا مکروہ ہے اور اگر اس پر نمک کی تہہ جم گئی ہو تو تیمم باطل ہے۔