لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
150۔ پانی چار شرطوں کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے۔
1۔ پانی مطلق ہو۔ مضاف پانی مثلاً عرق گلاب یا عرق بید مشک سے نجس چیز پاک نہیں ہوتی۔
2۔ پانی پاک ہو۔
ص:41
3۔نجس چیز کو دھونے کے دوران پانی مضاف نہ بن جائے۔ جب کسی چیز کو پاک کرنے کے لئے پانی سے دھویا جائے اور اس کے بعد مزید دھونا ضروری نہ و تو یہ بھی لازم ہے کہ اس پانی میں نجاست کی بو، رنگ یا ذائقہ موجود نہ ہو لیکن اگر دھونے کی صورت اس سے مختلف ہو (یعنی وہ آخری دھونا نہ ہو) اور پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ بدل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً اگر کوئی چیز کُر پانی یا قلیل پانی سے دھوئی جائے اور اسے دو مرتبہ دھونا ضروری ہو تو خواہ پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ پہلی دفعہ دھونے کے وقت بدل جائے لیکن دوسری دفعہ استعمال کئے جانے والے پانی میں ایسی کوئی تبدیلی رونما نہ ہو تو وہ چیز پاک ہو جائے گی۔
4۔ نجس چیز کو پانی سے دھونے کے بعد اس میں عین نجاست کے ذرات باقی نہ رہیں۔
نجس چیز کو قلیل پانی یعنی ایک کُر سے کم پانی سے پاک کرنے کی کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کا ذکر کیا جا رہا ہے:
151۔ نجس برتن کے اندرونی حصے کو قلیل پانی سے تین دفعہ دھونا ضروری ہے اور کُر یا جاری پانی کا بھی احتیاط واجب کی بنا پر یہی حکم ہے لیکن جس برتن سے کُتے نے پانی یا کوئی اور مائع چیز پی ہو اسے پہلے پاک مٹی سے مانجھنا چاہئے پھر اس برتن سے مٹی کو دُور کرنا چاہئے، اس کے بعد قلیل یا کُر یا جاری پانی سے دو دفعہ دھونا چاہئے۔ اسی طرح اگر کُتے نے کسی برتن کو چاٹا ہو اور کوئی چیز اس میں باقی رہ جائے تو اسے دھونے سے پہلے مٹی سے مانجھ لینا ضروری ہے البتہ اگر کتے کا لعاب کسی برتن میں گر جائے تو احتیاط لازم کی بنا پر اسے مٹی سے مانجھنے کے بعد تین دفعہ پانی سے دھونا ضروری ہے۔
152۔ جس برتن میں کتے نے منہ ڈالا ہے اگر اس کا منہ تنگ ہو تو اس میں مٹی ڈال کر خوب ہلائیں تاکہ مٹی برتن کے تمام اطراف میں پہنچ جائے۔ اس کے بعد اسے اسی ترتیب کے مطابق دھوئیں جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں ہو چکا ہے۔
153۔ اگر کسی برتن کو سوّر چاٹے یا اس میں سے کوئی بہنے والی چیز پی لے یا اس برتن میں جنگلی چوہا مر گیا ہو تو اسے قلیل یا کُر یا جاری پانی سے ساتھ مرتبہ دھونا ضروری ہے لیکن مٹی سے مانجھنا ضروری نہیں۔
154۔ جو برتن شراب سے نجس ہو گیا ہو اسے تین مرتبہ دھونا ضروری ہے۔ اس بارے میں قلیل یا کُر یا جاری پانی کی کوئی تخصیص نہیں۔
ص:42
155۔ اگر ایک ایسے برتن کو جو نجس مٹی سے تیار ہوا ہو یا جس میں نجس پانی سرایت کر گیا ہو کُر یا جاری پانی میں ڈال دیا جائے تو جہاں جہاں وہ پانی پہنچے گا برتن پاک ہو جائے گا اور اگر اس برتن کے اندرونی اجزاء کو بھی پاک کرنا مقصود ہو تو اسے کُر یا جاری پانی میں اتنی دیر تک پڑے رہنے دینا چاہئے کہ پانی تمام برتن میں سرایت کر جائے۔ اور اگر اس برتن میں کوئی ایسی نمی ہو جو پانی کے اندرونی حصوں تک پہنچنے میں مانع ہو تو پہلے اسے خشک کر لینا ضروری ہے اور پھر برتن کو کُر یا جاری پانی میں ڈال دینا چاہئے۔
156۔ نجس برتن کو قلیل پانی سے دو طریقے سے دھویا جا سکتا ہے۔
(پہلا طریقہ) برتن کو تین دفعہ بھرا جائے اور ہر دفعہ خالی کر دیا جائے۔
(دوسرا طریقہ) برتن میں تین دفعہ مناسب مقدار میں پانی ڈالیں اور ہر دفعہ پانی کو یوں گھمائیں کہ وہ تمام نجس مقامات تک پہنچ جائے اور پھر اسے گرا دیں۔
157۔ اگر ایک بڑا برتن مثلا دیگ یا مٹکا نجس ہو جائے تو تین دفعہ پانی سے بھرنے اور ہر دفعہ خالی کرنے کے بعد پاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر اس میں تین دفعہ اوپر سے اس طرح پانی انڈیلیں کہ اس کی تمام اطراف تک پہنچ جائے اور ہر دفعہ اس کی تہہ میں جو پانی جمع ہو جائے اس کو نکال دیں تو برتن پاک ہو جائے گا۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوسری اور تیسری بار جس برتن کے ذریعے پانی باہر نکالا جائے اسے بھی دھولیا جائے۔
158۔ اگر نجس تانبے وغیرہ کو پگھلا کر پانی سے دھو لیا جائے تو اس کا ظاہری حصہ پاک ہو جائیگا۔
159۔ اگر تنور پیشاب سے نجس ہو جائے اور اس میں اوپر سے ایک مرتبہ پانی ڈالا جائے کہ اس کی تمام اطراف تک پہنچ جائے تو تنور پاک ہو جائے گا اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ یہ عمل دو دفعہ کیا جائے۔ اور اگر تنور پیشاب کے علاوہ کسی اور چیز سے نجس ہوا ہو تو نجاست دور کرنے کے بعد مذکورہ طریقے کے مطابق اس میں ایک دفعہ پانی ڈالنا کافی ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ تنور کی تہہ میں ایک گڑھا کھود لیا جائے جس میں پانی جمع ہو سکے پھر اس پانی کو نکال لیا جائے اور گڑھے کو پاک مٹی سے پُر کر دیا جائے۔
ص:43
160۔ اگر کسی نجس چیز کو کُر یا جاری پانی میں ایک دفعہ یوں ڈبو دیا جائے کہ پانی اس کے تمام نجس مقامات تک پہنچ جائے تو وہ چیز پاک ہو جائے گی اور قالین یا دری اور لباس وغیرہ کو پاک کرنے کے لئے اسے نچوڑنا اور اسی طرح سے ملنا یا پاوں سے رگڑنا ضروری نہیں ہے۔ اور اگر بدن یا لباس پیشاب سے نجس ہو گیا ہو تو اسے کُر پانی میں دو دفعہ دھونا بھی لازم ہے۔
161۔ اگر کسی ایسی چیز کو جو پیشاب سے نجس ہو گئی ہو قلیل پانی سے دھونا مقصود ہو تو اس پر ایک دفعہ یوں پانی بہا دیں کہ پیشاب اس چیز میں باقی نہ رہے تو وہ چیز پاک ہو جائے گی۔ البتہ لباس اور بدن پر دو دفعہ پانی بہانا ضروری ہے تاکہ پاک ہو جائیں۔ لیکن جہاں تک لباس، قالین، دری اور ان سے ملتی جلتی چیزوں کا تعلق ہے انہیں ہر دفعہ پانی ڈالنے کے بعد نچوڑنا چاہئے تاکہ غسالہ ان میں سے نکل جائے۔ (غسالہ یا دھون اس پانی کو کہتے ہیں جو کسی دھوئی جانے والی چیز سے دُھلنے کے دوران یا دھل جانے کے بعد خود بخود یا نچوڑ نے سے نکلتا ہے۔)
162۔ جو چیز ایسے شیر خوار لڑکے یا لڑکی کے پیشاب سے جس نے دودھ کے علاوہ کوئی غذا کھانا شروع نہ کی ہو اور احتیاط کی بنا پر دو سال کا نہ ہو نجس ہو جائے تو اس پر ایک دفعہ اس طرح پانی ڈالا جائے کہ تمام نجس مقامات پر پہنچ جائے تو وہ چیز پاک ہو جائے گی لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ مزید ایک بار اس پر پانی ڈالا جائے۔ لباس، قالین اور دری وغیرہ کو نچوڑنا ضروری نہیں۔
163۔ اگر کوئی چیز پیشاب کے علاوہ کسی نجاست سے نجس ہو جائے تو وہ نجاست دور کرنے کے بعد ایک دفعہ قلیل پانی اس پر ڈالا جائے۔ جب وہ پانی بہہ جائے تو وہ چیز پاک ہو جاتی ہے۔ البتہ لباس اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کو نچوڑ لینا چاہئے تاکہ ان کا دھوون نکل جائے۔
164۔ اگر کسی نجس چٹائی کو جو دھاگوں سے بنی ہوئی ہو کُر یا جاری پانی میں ڈبو دیا جائے تو عین نجاست دور ہونے کے بعد وہ پاک ہو جائے گی لیکن اگر اسے قلیل پانی سے دھویا جائے تو جس طرح بھی ممکن ہو اس کا نچوڑنا ضروری ہے (خواہ اس میں پاوں ہی کیوں نہ چلانے پڑیں) تاکہ اس کو دھوون الگ ہو جائے۔
ص:44
165۔ اگر گندم، چاول، صابن وغیرہ کا اوپر والا حصہ نجس ہو جائے تو وہ کُر یا جاری پانی میں ڈبونے سے پاک ہو جائے گا لیکن اگر ان کا اندرونی حصہ نجس ہو جائے تو کُر یا جاری پانی ان چیزوں کے اندر تک پہنچ جائے اور پانی مطلق ہی رہے تو یہ چیزیں پاک ہو جائیں گی لیکن ظاہر یہ ہے کہ صابن اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کے اندر آب مطلق بالکل نہیں پہنچتا۔
166۔ اگر کسی شخص کو اس بارے میں شک ہو کہ نجس پانی صابن کے اندرونی حصے تک سرایت کر گیا ہے یا نہیں تو وہ حصہ پاک ہوگا۔
167۔ اگر چاول یا گوشت یا ایسی ہی کسی چیز کا ظاہری حصہ نجس ہو جائے تو کسی پاک پیالے یا اس کے مثل کسی چیز میں رکھ کر ایک دفعہ اس پر پانی ڈالنے اور پھر پھینک دینے کے بعد وہ چیز پاک ہو جاتی ہے اور اگر کسی نجس برتن میں رکھیں تو یہ کام تین دفعہ انجام دینا ضروری ہے اور اس صورت میں وہ برتن بھی پاک ہو جائے گا لیکن اگر لباس یا کسی دوسری ایسی چیز کو برتن میں ڈال کر پاک کرنا مقصود ہو جس کا نچوڑنا لازم ہے تو جتنی بار اس پر پانی ڈالا جائے اسے نچوڑنا ضروری ہے اور برتن کو الٹ دینا چاہئے تاکہ جو دھوون اس میں جمع ہو گیا ہو وہ بہہ جائے۔
168۔ اگر کسی نجس لباس کو جا نیل یا اس جیسی چیز سے رنگا گیا ہو کُر یا جاری پانی میں ڈبویا جائے اور کپڑے کے رنگ کی وجہ سے پانی مضاف ہونے سے قبل تمام جگہ پہنچ جائے تو وہ لباس پاک ہو جائے گا اور اگر اسے قلیل پانی سے دھویا جائے اور نچوڑنے پر اس میں سے مضاف پانی نہ نکلے تو وہ لباس پاک ہو جاتا ہے۔
169۔ اگر کپڑے کو کُر یا جاری پانی میں دھویا جائے اور مثال کے طور پر بعد میں کائی وغیرہ کپڑے میں نظر آئے اور یہ احتمال نہ ہو کہ یہ کپڑے کے اندر پانی کے پہنچنے میں مانع ہوئی ہے تو وہ کپڑا پاک ہے۔
170۔ اگر لباس یا اس سے ملتی جلتی چیز کے دھونے کے بعد مٹی کا ذرہ یا صابن اس میں نظر آئے اور احتمال ہو کہ یہ کپڑے کے اندر پانی کے پہنچنے میں مانع ہوا ہے تو وہ پاک ہے لیکن اگر نجس پانی مٹی یا صابن میں سرایت کر گیا ہو تو مٹی اور صابن کا اوپر والا حصہ پاک اور اس کا اندرونی حصہ نجس ہو گا۔
171۔ جب تک عین نجاست کسی نجس چیز سے الگ نہ ہو وہ پاک نہیں ہوگی لیکن اگر بو یا نجاست کا رنگ اس میں باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لہذا اگر خون لباس پر سے ہٹا دیا جائے اور لباس دھو لیا جائے اور خون کا رنگ لباس پر باقی بھی رہ
ص:45
جائے تو لباس پاک ہو گا لیکن اگر بو یا رنگ کی وجہ سے یہ یقین یا احتمال پیدا ہو کہ نجاست کے ذرے اس میں باقی رہ گئے ہیں تو وہ نجس ہوگی۔
172۔ اگر کُر جاری پانی میں بدن کی نجاست دور کر لی جائے تو بدن پاک ہو جاتا ہے لیکن اگر بدن پیشاب سے نجس ہوا ہو تو اس صورت میں ایک دفعہ سے پاک نہیں ہوگا لیکن پانی سے نکل آنے کے بعد دوبارہ اس میں داخل ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر پانی کے اندر ہی بدن پر ہاتھ پھیرلے کہ پانی دو دفعہ بدن تک پہنچ جائے تو کافی ہے۔
173۔ اگر نجس غذا دانتوں کی ریخوں میں رہ جائے اور پانی منہ میں بھر کر یوں گھمایا جائے کہ تمام نجس غذا تک پہنچ جائے تو وہ غذا پاک ہو جاتی ہے۔
174۔ اگر سر یا چہرے کے بالوں کو قلیل پانی سے دھویا جائے اور وہ بال گھنے نہ ہوں تو ان سے دھوون جدا کرنے کے لئے انہیں نچوڑنا ضروری نہیں کیونکہ معمولی پانی خود بخود جدا ہو جاتا ہے۔
175۔ اگر بدن یا لباس کو کوئی حصہ قلیل پانی سے دھوتے جائے تو نجس مقام کے پاک ہونے سے اس مقام سے متصل وہ جگہیں بھی پاک ہو جائیں گی جن تک دھوتے وقت عموماً پانی پہنچ جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ نجس مقام کے اطراف کو علیحدہ دھونا ضروری نہیں بلکہ وہ نجس مقام کو دھونے کے ساتھ ہی پاک ہو جاتے ہیں۔ اور اگر ایک پاک چیز ایک نجس چیز کے برابر رکھ دیں اور دونوں پر پانی ڈالیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ لہذا اگر ایک نجس انگلی کو پاک کرنے کے لئے سب انگلیوں پر پانی ڈالیں اور نجس پانی یا پاک پانی سب انگلیوں تک پہنچ جائے تو نجس انگلی کے پاک ہونے پر تمام انگلیاں پاک ہو جائیں گی۔
176۔ جو گوشت یا چربی نجس ہو جائے دوسری چیزوں کی طرح پانی سے دھوئی جاسکتی ہے۔ یہی صورت اس بدن یا لباس کی ہے جس پر تھوڑی بہت چکنائی ہو جو پانی کو بدن یا لباس پہنچنے سے نہ روکے۔
177۔ اگر برتن یا بدن نجس ہو جائے اور بعد میں اتنا چکنا ہو جائے کہ پانی اس تک نہ پہنچ سکے اور برتن یا بدن کو پاک کرنا مقصود ہو تو پہلے چکنائی دور کرنی چاہئے تاکہ پانی ان تک (یعنی برتن یا بدن تک) پہنچ سکے۔
178۔ جو نل کُر پانی سے متصل ہو وہ کُر پانی کا حکم رکھتا ہے۔
ص:46
179۔ اگر کسی چیز کو دھویا جائے اور یقین ہو جائے کہ پاک ہوگئی ہے لیکن بعد میں شک گزرے کہ عین نجاست اس سے دور ہوئی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ اسے دوبارہ پانی سے دھولیا جائے اور یقین کر لیا جائے کہ عین نجاست دور ہوگئی ہے۔
180۔ وہ زمین جس میں پانی جذب ہو جاتا ہو مثلاً ایسی زمین جس کی سطح ریت یا بحری پر مشتمل ہو اگر نجس ہو جائے تو قلیل پانی سے پاک ہو جاتی ہے۔
181۔ اگر وہ زمین جس کا فرش پتھر یا اینٹوں کا ہو یا دوسری سخت زمین جس میں پانی جذب نہ ہوتا ہو نجس ہو جائے تو قلیل پانی سے پاک ہو سکتی ہے لیکن ضروری ہے کہ اس پر اتنا پانی گرایا جائے کہ بہنے لگے۔ جو پانی اوپر ڈالا جائے اگر وہ کسی گڑھے سے باہر نہ نکل سکے اور کسی جگہ جمع ہو جائے تو اس جگہ کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جمع شدہ پانی کو کپڑے یا برتن سے باہر نکال دیا جائے۔
182۔ اگر معدنی نمک کا ڈلا یا اس جیسی کوئی اور چیز اوپر سے نجس ہو جائے تو قلیل پانی سے پاک ہوسکتی ہے۔
183۔ اگر پگھلی ہوئی نجس شکر سے قند بنالیں اور اسے کُر یا جاری پانی میں ڈال دیں تو وہ پاک نہیں ہوگی۔