لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1761۔ جب انسان تجارت، صنعت و حرفت یا دوسرے کام دھندوں سے روپیه پیسه کمائے مثال کے طور پر اگر کوئی اجیر بن کر کسی متوفی کی نمازیں پڑھے اور روزے رکھے اور اس طرح کچھ روپیه کمائے لهذا اگر وه کمائی خود اس کے اور اس کے اهل و عیال کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو تو ضروری هے که زائد کمائی کا خمس یعنی پانچواں حصه اس طریقے کے مطابق دے جس کی تفصیل بعد میں بیان هوگی۔
1726۔ اگر کسی کو کمائی کئے بغیر کوئی آمدنی هوجائے مثلاً کوئی شخص اسے بطور تحفه کوئی چیز دے اور وه اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو تو ضروری هے که اس کا خمس دے۔
1763۔ عورت کو جو مهر ملتا هے اور شوهر، بیوی کو طلاق خلع دینے کے عوض جو مال حاصل کرتا هے ان پر خمس نهیں هے اور اسی طرح جو میراث انسان کو ملے اس کا بھی میراث کے معتبر قواعد کی رو سے یهی حکم هے۔ اور اگر اس مسلمان کو جو
ص:330
شیعه هے کسی اور ذریعے سے مثلاً پدری رشتے دار کی طرف سے میراث ملے تو اس مال کی "فوائد" میں شمار کیا جائے گا اور ضروری هے که اس کا خمس دے۔ اسی طرح اگر اسے باپ اور بیٹے کے علاوه کسی اور کی طرف سے میراث ملے که جس کا خود اسے گمان تک نه هو تو احتیاط واجب یه هے که وه میراث اگر اس کے سال بھی کے اخراجات سے زیاده هو تو اس کا خمس دے۔
1724۔ اگر کسی شخص کو کوئی میراث ملے اور اس معلوم هو که جس شخص سے اسے یه میراث ملی هے اس نے اس کا خمس نهیں دیا تھا تو ضروری هے که وارث اس کا خمس دے۔ اسی طرح اگر خود اس مال پر خمس واجب نه هو اور وارث کو علم هو که جس شخص سے اسے وه مال ورثے میں ملا هے اس شخص کے ذمے خمس واجب الادا تھا تو ضروری هے که اس کے مال سے خمس ادا کرے۔ لیکن دونوں صورتوں میں جس شخص سے مال ورثے میں ملا هو اگر وه خمس دینے کا معتقد نه هو یا یه که وه خمس دیتا هی نه هو تو ضروری نهیں که وارث وه خمس ادا کرے جو اس شخص پر واجب تھا۔
1765۔ اگر کسی شخص نے کفایت شعاری کے سبب سال بھر کے اخراجات کے بعد کچھ رقم پس انداز کی هو تو ضروری هے که اس بچت کا خمس دے۔
1766۔جس شخص کے تمام اخراجات کوئی دوسرا شخص برداشت کرتا هو تو ضروری هے که جنتا مال اس کے هاتھ آئے اس کا خمس دے۔
1767۔ اگر کوئی شخص اپنی جائداد کچھ خاص افراد مثلاً اپنی اولاد کے لئے وقف کر دے اور وه لوگ اس جائداد میں کھیتی باڑی اور شجرکاری کریں اور اس سے منافع کمائیں اور وه کمائی ان کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو تو ضروری هے که اس کمائی کا خمس دیں۔ نیز یه که اگر وه کسی اور طریقے سے اس جائداد سے نفع حاصل کریں مثلاً اسے کرائے (یا ٹھیکے) پر دے دیں تو ضروری هے که نفع کی جو مقدار ان کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو اس کا خمس دیں۔
1768۔ جو مال کسی فقیر نے واجب یا مستحب صدقے کے طور پر حاصل کیا هو اگر وه اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو یا جو مال اسے دیا گیا هو اس سے اس نے نفع کمایا هو مثلاً اس نے ایک ایسے درخت سے جو اسے دیا گیا هو میوه حاصل کیا هو اور وه اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو تو ضروری هے که اس کا خمس دے۔ لیکن جو مال اسے بطور خمس یا زکوۃ دیا گیا هو ضروری نهیں که اس کا خمس دے۔
ص:331
1769۔ اگر کوئی شخص ایسی رقم سے کوئی چیز خریدے جس کا خمس نه دیا گیا هو یعنی بیچنے والے سے کهے که "میں یه چیز اس رقم سے خرید رها هوں" اگر بیچنے والا شیعه اثنا عشری هو تو ظاهر یه هے که کل مال کے متعلق معامله درست هے اور خمس کا تعلق اس چیز سے هو جاتا هے جو اس نے اس رقم سے خریدی هے اور (اس معاملے میں) حاکم شرع کی اجازت اور دستخط کی ضرورت نهیں هے۔
1770۔ اگر کوئی شخص کوئی چیز خریدے اور معامله طے کرنے کے بعد اس کی قیمت اس رقم سے ادا کرے جس کا خمس نه دیا هو تو جو معامله اس نےکیا هے وه صحیح هے اور جو رقم اس نے فروشنده کو دی هے اس کے خمس کے لئے وه خمس کے مستحقین کا مقروض هے۔
1771۔اگر کوئی شیعه اثنا عشری مسلمان کوئی ایسا مال خریدے جس کا خمس نه دیا گیا هو تو اس کا خمس بیچنے والے کی ذمه داری هے اور خریدار کے ذمے کچھ نهیں۔
1772۔اگر کوئی شخص کسی شیعه اثنا عشری مسلمان کو کوئی ایسی چیز بطور عطیه دے جس کا خمس نه دیا گیا هو تو اس کے خمس کی ادائیگی کی ذمه داری عطیه دینے والے پر هے اور (جس شخص کو عطیه دیا گیا هو) اس کے ذمے کچھ نهیں۔
1773۔ اگر انسان کو کسی کافر سے یا ایسے شخص سے جو خمس دینے پر اعتقاد نه رکھتا هو کوئی مال ملے تو اس مال کا خمس دینا واجب نهیں هے۔
1774۔ تاجر، دکاندار، کاریگر اور اس قسم کے دوسرے لوگوں کے لئے ضروری هے که اس وقت سے جب انهوں نے کاروبار شروع کیا هو، ایک سال گزر جائے تو جو کچھ ان کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو اس کا خمس دیں۔ اور جو شخص کسی کام دھندے سے کمائی نه کرتا هو اگر اسے اتفاقاً کوئی نفع حاصل هو جائے تو جب اسے یه نفع ملے اس وقت سے ایک سال گزرنے کے بعد جتنی مقدار اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هو ضروری هے که اس کا خمس دے۔
1775۔سال کے دوران جس وقت بھی کسی شخص کو منافع ملے وه اس کا خمس دے سکتا هے اور اس کے لئے یه بھی جائز هے که سال کے ختم هونے تک اس کی ادائیگی کو موخر کر دے اور اگر وه خمس ادا کرنے کے لئے شمسی سال (رومن کیلنڈر) اختیار کرے تو کوئی حرج نهیں۔
ص:332
1776۔ اگر کوئی تاجر یا دکاندار خمس دینے کے لئے سال کی مدت معین کرے اور اسے منافع حاصل هو لیکن وه سال کے دوران مر جائے تو ضروری هے که اس کی موت تک کے اخراجات اس منافع میں سے منها کر کے باقی مانده کا خمس دیا جائے۔
1777۔ اگر کسی شخص کے بغرض تجارت خریدے هوئے مال کی قیمت بڑھ جائے اور وه اسے نه بیچے اور سال کے دوران اس کی قیمت گر جائے تو جتنی مقدار تک قیمت بڑھی هو اس کا خمس واجب نهیں هے۔
1778۔ اگر کسی شخص کے بغرض تجارت خریدے هوئے مال کی قیمت بڑھ جائے اور وه اس امید پر که ابھی اس کی قیمت اور بڑھے گی اس مال کو سال کے خاتمے کے بعد تک فروخت نه کرے اور پھر اس کی قیمت گر جائے تو جس مقدار تک قیمت بڑھی هو اس کا خمس دینا واجب هے۔
1779۔کسی شخص نے مال تجارت کے علاوه کوئی مال خرید کر یا اسی کی طرح کسی طریقے سے حاصل کیا هو جس کا خمس وه ادا کر چکا هو تو اگر اس کی قیمت بڑھ جائے اور وه اسے بیچ دے تو ضروری هے که جس قدر اس چیز کی قیمت بڑھی هے اس کا خمس دے۔ اسی طرح مثلاً اگر کوئی درخت خریدے اور اس میں پھل لگیں یا (بھیڑ خریدے اور وه) بھیڑ موٹی هو جائے تو اگر ان چیزوں کی نگهداشت سے اس کا مقصد نفع کمانا تھا تو ضروری هے که ان کی قیمت میں جو اضافه هوا هے اس کا خمس دے بلکه اگر اس کا مقصد نفع کمانا نه بھی رها هو تب بھی ضروری هے که ان کا خمس دے۔
1780۔ اگر کوئی شخص اس خیال سے باغ (میں پودے) لگائے که قیمت بڑھ جانے پر انهیں بیچ دے گا تو ضروری هے که پھلوں کی اور درختوں کی نشوونما اور باغ کی بڑھی هوئی قیمت کا خمس دے لیکن اگر اس کا اراده یه رها هو که ان درختوں کے پھل بیچ کر ان سے نفع کمائے گا تو فقط پھلوں کا خمس دینا ضروری هے۔
1781۔ اگر کوئی شخص بید مشک اور چنار وغیره کے درخت لگائے تو ضروری هے که هر سال ان کے بڑھنے کا خمس دے اور اسی طرح اگر مثلاً ان درختوں کی ان شاخوں سے نفع کمائے جو عموماً هر سال کاٹی جاتی هیں اور تنها ان شاخوں کی قیمت یا دوسرے فائدوں کو ملا کر اس کی آمدنی اس کے سال بھر کے اخراجات سے بڑھ جائے تو ضروری هے که هر سال کے خاتمے پر اس زائد رقم کا خمس دے۔
ص:333
1782۔ اگر کسی شخص کی آمدنی کی متعدد ذرائع هوں مثلاً جائداد کا کرایه آتا هو اور خرید و فروخت بھی کرتا هو اور ان تمام ذرائع تجارت کی آمدنی اور اخراجات اور تمام رقم کا حساب کتاب یکجا هو تو ضروری هے که سال کے خاتمے پر جو کچھ اس کے اکراجات سے زائد هو اس کا خمس ادا کرے۔ اور اگر ایک ذریعے سے نفع کمائے اور دوسرے ذریعے سے نقصان اٹھائے تو وه ایک ذریعے کے نقصان کا دوسرے ذریعے کے نقصان سے تدارک کر سکتا هے۔ لیکن اگر اس کے دو مختلف پیشے هوں مثلاً تجارت اور زراعت کرتا هو تو اس صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر وه ایک پیشے کے نقصان کا تدارک دوسرے پیشے کے نفع سے نهیں کر سکتا۔
1783۔ انسان جو اخراجات فائده حاصل کرنے کے لئے مثلاً دلالی اور باربرداری کے سلسلے میں خرچ کرے تو انهیں منافع میں سے منها کر سکتا هے اور اتنی مقدار کا خمس ادا کرنا لازم نهیں۔
1784۔ کاروبار کے منافع سے کوئی شخص سال بھر میں جو کچھ خوراک، لباس، گھر کے ساز و سامان، مکان کی خریداری، بیٹے کی شادی، بیٹی کے جهیز اور زیارات وغیره پر خرچ کرے اوس پر خمس نهیں هے بشرطیکه ایسے اخراجات اس کی حیثیت سے زیاده نه هوں اور اس نے فضول خرچی بھی نه کی هو۔
1785۔ جو مال انسان منت اور کفارے پر خرچ کرے وه سالانه اخراجات کا حصه هے۔ اسی طرح وه مال بھی اس کے سالانه اخراجات کا حصه هے جو وه کسی کو تحفے یا انعام کے طور پر بشرطیکه اس کی حیثیت سے زیاده نه هو۔
1786۔ اگر انسان اپنی لڑکی شادی کے وقت تمام جهیز اکٹھا تیار نه کر سکتا هو تو وه اسے کئی سالوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے جمع کر سکتا هے چنانچه اگر جهیز خریدے جو اس کی حیثیت سے بڑھ کر نه هو تو اس پر خمس دینا لازم نهیں هے اور اگر وه جهیز اس کی حیثیت سے بڑھ کر هو یا ایک سال کے منافع سے دوسرے سال میں تیار کیا گیا هو تو اس کا خمس دینا ضروری هے۔
1787۔ جو مال کسی شخص نے زیارت بیت الله (حج) اور دوسری زیارات کے سفر پر خرچ کیا هو وه اس سال کے اخراجات میں شمار هوتا هے جس سال میں خرچ کیا جائے اور اگر اس کا سفر سال سے زیاده طول کھینچ جائے تو جو کچھ وه دوسرے سال میں خرچ کرے اس کا خمس دینا ضروری هے۔
1788۔ جو شخص کسی پیشے یا تجارت وغیره سے منافع حاصل کرے اگر اس کے پاس کوئی اور مال بھی هو جس پر خمس واجب نه هو تو وه اپنے سال بھر کے اخراجات کا حساب فقط اپنے منافع کو مدنظر رکھتے هوئے کر سکتا هے۔
ص:334
1789۔ جو سامان کسی شخص نے سال بھر استعمال کرنے کے لئے اپنے منافع سے خریدا هو اگر سال کے آخر میں اس میں سے کچھ بچ جائے تو ضروری هے که اس کا خمس دے اور اگر خمس اس کی قیمت کی صورت میں دینا چاهے اور جب وه سامان خریدا تھا اس کے مقابلے میں اس کی قیمت بڑھ گئی هو تو ضروری هے که سال کے خاتمے پر جو قیمت هو اس کا حساب لگائے۔
1790۔ کوئی شخص خمس دینے سے پهلے اپنے منافع میں سے گھریلو استعمال کے لئے سامان خریدے اگر اس کی ضرورت منافع حاصل هونے والے سال کے بعد ختم هو جائے تو ضروری نهیں که اس کا خمس دے۔ اور اگر دوران سال اس کی ضرورت ختم هو جائے تو بھی یهی حکم هے۔ لیکن اگر وه سامان ان چیزوں میں سے جو عموماً آئنده سالوں میں استعمال کے لئے رکھی جاتی هو جیسے سردی اور گرمی کے کپڑے تو ان پر خمس نهیں هوتا۔ اس صورت کے علاوه جس وقت بھی اس سامان کی ضرورت ختم هو جائے احتیاط واجب یه هے که اس کا خمس دے اور یهی صورت زمانه زیورات کی هے جب که عورت کا انهیں بطور زینت استعمال کرنے کا زمانه گزر جائے۔
1791۔ اگر کسی شخص کو کسی سال میں منافع نه هو تو وه اس سال کے اخراجات کو آئنده سال کے منافع سے منها نهیں کر سکتا۔
1792۔ اگر کسی شخص کو سال کے شروع میں منافع نه هو اور وه اپنے سرمائے سے خرچ اٹھائے اور سال کے ختم هونے سے پهلے اسے منافع هو جائے تو اس نے جو کچھ سرمائے میں سے خرچ کیا هے اسے منافع سے منها کر سکتا هے۔
1793۔ اگر سرمائے کا کچھ حصه تجارت وغیره میں ڈوب جائے تو جس قدر سرمایه ڈوبا هو انسان اتنی مقدار اس سال کے منافع میں سے منها کرسکتا هے۔
1794۔اگر کسی شخص کے مال میں سے سرمائے کے علاوه کوئی اور چیز ضائع هو جائے تو وه اس چیز کو منافع میں سے مهیا نهیں کر سکتا لیکن اگر اسے اسی سال میں اس چیز کی ضرورت پڑجائے تو وه اس سال کے دوران اپنے منافع سے مهیا کر سکتا هے۔
1795۔اگر کسی شخص کو سارا سال کوئی منافع نه هو اور وه اپنے اخراجات قرض لے کر پورے کرے تو وه آئنده سالوں کے منافع سے قرض کی رقم منها نهیں کر سکتا لیکن اگر سال کے شروع میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض
ص:335
لے اور سال ختم هونے سے پهلے منافع کمائے تو اپنے قرضے کی رقم اس منافع میں سے منها کر سکتا هے۔ اور اسی طرح پهلے صورت میں وه اس قرض کو اس سال کے منافع سے ادا کرسکتا هے اور منافع کی اس مقدار سے خمس کا کوئی تعلق نهیں۔
1796۔ اگر کوئی شخص مال بڑھانے کی غرض سے یا ایسی املاک خریدنے کے لئے جس کی اسے ضرورت نه هو قرض لے تو وه اس سال کے منافع سے اس قرض کو ادا نهیں کر سکتا۔هاں جو مال بطور قرض لیا هو یا جو چیز اس قرض سے خریدی هو اگر وه تلف هوجائے تو اس صورت میں وه اپنا قرض اس سال کے منافع میں سے ادا کر سکتا هے۔
1797۔ انسان هر اس چیز کا جس پر خمس واجب هو چکا هو اسی چیز کی شکل میں خمس دے سکتا هے اور اگر چاهے تو جتنا خمس اس پر واجب هو اس کی قیمت کے برابر رقم بھی دے سکتا هے لیکن اگر کسی دوسری جنس کی صورت میں جس پر خمس واجب نه هو دینا چاهے تو محل اشکال هے بجز اس کے که ایسا کرنا حاکم شرع کی اجازت سے هو۔
1798۔ جس شخص کے مال پر خمس واجب الادا هو اور سال گزر گیا هو لیکن اس نے خمس نه دیا هو اور خمس دینے کا اراده بھی نه رکھتا هو وه اس مال میں تصرف نهیں کر سکتا بلکه احتیاط واجب کی بنا پر اگر خمس دینے کا اراده رکھتا هو تب بھی وه تصرف نهیں کرسکتا۔
1799۔ جس شخص کو خمس ادا کرنا هو وه یه نهیں کر سکتا که اس خمس کو اپنے ذمے لے یعنی اپنے آپ کو خمس کے مستحقین کا مقروض تصور کرے اور سارا مال استعمال کرتا رهے اور اگر استعمال کرے اور وه مال تلف هو جائے تو ضروری هے که اس کا خمس دے۔
1800۔ جس شخص کو خمس ادا کرنا هو اگر وه حاکم شرع سے مفاهمت کرکے خمس کو اپنے ذمے لے لے تو سارا مال استعمال کر سکتا هے اور مفاهمت کے بعد اس مال سے جو منافع اسے حاصل هو وه اس کا اپنا مال هے۔
1801۔ جو شخص کاروبار میں کسی دوسرے کے ساتھ شریک هو اگر وه اپنے منافع پر خمس دے دے اور اس کا حصے دار نه دے اور آئنده سال وه حصے دار اس مال کو جس کا خمس اس نے نهیں دیا ساجھے میں سرمائے کے طور پر پیش کرے تو وه شخص (جس نے خمس ادا کر دیا هو) اگر شیعه اثنا عشری مسلمان هو تو اس مال کو استمعال میں لاسکتا هے۔
ص:336
1802۔ اگر نابالغ بچے کے پاس کوئی سرمایه هو اور اس سے منافع حاصل هو تو اقوی کی بنا پر اس کا خمس دینا هوگا اور اسکے ولی پر واجب هے که اس کا خمس دے اور اگر ولی خمس نه دے تو بالغ هونے کے بعد واجب هے که وه خود اس کا خمس دے۔
1803۔ جس شخص کو کسی دوسرے شخص سے کوئی مال ملے اور اسے شک هو که (مال دینے والے) دوسرے شخص نے اس کا خمس دیا هے یا نهیں تو وه (مال حاصل کرنے والا شخص) اس مال میں تصرف کرسکتا هے۔ بلکه اگر یقین بھی هو که اس دوسرے شخص نے خمس نهیں دیا تب بھی اگر وه شیعه اثنا عشری مسلمان هو تو اس مال میں تصرف کر سکتا هے۔
1804۔ اگر کوئی شخص کاروبار کے منافع سے سال کے دوران ایسی جائداد خریدے جو اس کی سال بھر کی ضروریات اور اخراجات میں شمار نه هو تو اس پر واجب هے که سال کے خاتمے پر اس کا خمس دے اور اگر خمس نه دے اور اس جائداد کی قیمت بڑھ جائے تو لازم هے که اس کی موجوده قیمت پر خمس دے اور جائداد کے علاوه قالین وغیره کے لئے بھی یهی حکم هے۔
1805۔ جس شخص نے شروع سے (یعنی جب سے اس پر خمس کی ادائیگی واجب هوئی هو) خمس نه دیا هو مثال کے طور پر اگر وه کوئی جائداد خریدے اور اس کی قیمت بڑھ جائے اور اگر اس نے یه جائداد اس ارادے سے نه خریدی هو که اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو بیچ دے گا مثلا کھیتی باڑی کے لئے زمین خریدی هو اور اس کی قیمت اس رقم سے ادا کی هو جس پر خمس نه دیا هو تو ضروری هے که قیمت خرید پر خمس دے اور مثلاً اگر بیچنے والے کو وه رقم دی هو جس پر خمس نه دیا هو اور اس سے کها هو که میں یه جائداد اس رقم سے خریدتا هوں تو ضروری هے که اس جائداد کی موجوده قیمت پر خمس دے۔
1806۔ جس شخص نے شروع سے (یعنی جب سے خمس کی ادائیگی اس پر واجب هوئی) خمس نه دیا هو اگر اس نے اپنے کاروبار کے منافع سے کوئی ایسی چیز خریدی هو جس کی اسے ضرورت نه هو اور اسے منافع کمائے ایک سال گزر گیا هو تو ضروری هے که اس کا خمس دے اور اگر اس نے گھر کا سازوسامان اور ضرورت کی چیزیں اپنی حیثیت کے مطابق خریدی هوں اور جانتا هو که اس نے یه چیزیں اس سال کے دوران اس منافع سے خریدی هیں جس سال میں اسے منافع هوا هے تو ان پر خمس دینا لازم نهیں لیکن اگر اسے یه معلوم نه هو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که حاکم شرع سے مفاهمت کرے۔