لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
107۔ کافر یعنی وہ شخص جا باری تعالی کے وجود یا اس کی وحدانیت کا منکر ہو نجس ہے۔ اور اسی طرح غلات (یعنی وہ لوگ جو ائمہ علیہم السلام میں سے کسی کو خدا کہیں یا یہ کہیں کہ خدا، امام میں سما گیا ہے) اور خارجی و ناصبی (وہ لوگ جو ائمہ علیہم السلام سے بیر اور بغض کا اظہار کریں) بھی نجس ہیں۔
اس طرح وہ شخص جو کسی نبی کی نبوت یا ضروریات دین (یعنی وہ چیزیں جنہیں مسلمان دین کا جز سمجھتے ہیں مثلاً نماز اور روزے) میں سے کسی ایک کا یہ جانتے ہوئے کہ یہ ضروریات دین ہیں، منکر ہو۔ نیز اہل کتاب (یہودی، عیسائی اور مجوسی) بھی جو خاتم الانبیاء حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار نہیں کرتے مشہور روایات کی بنا پر نجس ہیں اگرچہ ان کی طہارت کا حکم بعید نہیں لیکن اس سے بھی پرہیز بہتر ہے۔
ص:34
108۔ کافر کا تمام بدن حتی کہ اس کے بال، ناخن اور رطوبتیں بھی نجس ہیں۔
109۔ اگر کسی نابالغ بچے کے ماں باپ یا دادا دادی کافر ہوں تو وہ بچہ بھی نجس ہے۔ البتہ اگر وہ سوجھ بوجھ رکھتا ہو، اسلام کا اظہار کرتا ہو اور اگر ان میں سے (یعنی ماں باپ یا دادا دادی میں سے) ایک بھی مسلمان ہو تو اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ 217 میں آئے گی بچہ پاک ہے۔
110۔ اگر کسی شخص کے متعلق یہ علم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا نہیں اور کوئی علامت اس کے مسلمان ہونے کی نہ ہو تو وہ پاک سمجھا جائے گا لیکن اس پر اسلام کے دوسرے احکامات کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مثلاً نہ ہی وہ مسلمان عورت سے شادی کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے۔
111۔ جو شخص (خانوادہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے) بارہ اماموں میں سے کسی ایک کو بھی دشمنی کی بنا پر گالی دے وہ نجس ہے۔