لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

کرائے پر دیئے جانے والے مال سے اِستِفَادے کی شرائط

2195۔ جس اِستِفَادے کے لئے مال کرائے پر دیا جاتا هے اس کی چار شرطیں هیں :

1۔ استفاده کرنا حلال هو۔ لهذا دکان کو شراب بیچنے یا شراب ذخیره کرنے کے لئے کرائے پر دینا اور حیوان کو شراب کی نقل و حمل کے لئے کرائے پر دینا باطل هے۔

2۔وه عمل شریعت میں بلامعاوضه انجام دینا واجب نه هو۔ اور احتیاط کی بنا پر اسی قسم کے کاموں میں سے هے حلال اور حرام کے مسائل سکھانا اور مردوں کی تجهیز و تکفین کرنا۔ لهذا ان کاموں کی اجرت لینا جائز نهیں هے اور احتیاط کی بنا پر معتبر هے که اس استفادے که لئے رقم دینا لوگوں کی نظروں میں فضول نه هو۔

3۔ جو چیز کرائے پر دی جائے اگر وه کثِیرالفَوائد (اور کثیرُالمَقاصد) هو تو جو فائده اٹھانے کی مستاجر کو اجازت هو اسے معین کیا جائے مثلاً ایک ایسا جانور کرائے پر دیا جائے جس پر سوای بھی کی جا سکتی هو اور مال بھی لادا جاسکتا هو تو اسے کرائے پر دیتے وقت یه معین کرنا ضروری هے که مستاجر اسے فقط سواری کے مقصد کے لئے یا فقط بار برداری کے مقصد کے لئے استعمال کرسکتا هےیا اس سے هر طرح استفاده کرسکتا هے۔

ص:413

4۔ استفاده کرنے کی مدت کا تعین کر لیا جائے۔ اور یه استفاده مدت معین کر کے حاصل کیا جاسکتا هے مثلاً مکان یا دکان کرائے پر دے کر یا کام کا تعین کرکے حاصل کیا جاسکتا هے مثلاً درزی کے ساتھ طے کر لیا جائے که وه ایک معین لباس مخصوص ذیزائن میں سئے گا۔

2196۔ اگر اجارے کی شروعات کا تعین نه کیا جائے تو اس کے شروع هونے کا وقت اجارے کا صیغه پڑھنے کے بعد سے هوگا۔

2197۔ مثال کے طور پر اگر مکان ایک سال کے لئے کرائے پر دیا جائے اور معاهدے کی ابتدا کا وقت صیغه پڑھنے سے ایک مهینه بعد سے مقرر کیا جائے تو اجاره صحیح هے اگرچه جب صیغه پڑھا جارها هو وه مکان کسی دوسرے کے پاس کرائے پرهو۔

2198۔ اگر اجارے کی مدت کا تعین نه کیا جائے بلکه کرائے دار سے کها جائے که جب تک تم اس مکان میں رهو گے دس روپے ماهوار کرایه دو گے تو اجاره صحیح نهیں هے۔

2199۔ اگرمالک مکان، کرائے دار سے کهے که میں نے تجھے یه مکان دس روپے ماهوار کرائے پر دیا یا یه کهے که یه مکان میں نے تجھے ایک مهینے کے لئے دس روپے کرائے پر دیا اور اس کے بعد بھی تم جتنی مدت اس میں رهو گے اس کا کرایه دس روپے ماهانه هوگا تو اس صورت میں جب اجارے کی مدت کی ابتدا کا تعین کر لیا جائے یا اس کی ابتدا کا علم هو جائے تو پهلے مهینے کا اجاره صحیح هے۔

2200۔ جس مکان میں مسافر اور زائر قیام کرتے هوں اور یه علم نه هو که وه کتنی مدت تک وهاں رهیں گے اگر وه مالک مکان سے طے کر لیں که مثلاً ایک رات کا ایک روپیه دیں گے اور مالک مکان اس پر راضی هو جائے تو اس مکان سے استفاده کرنے میں کوئی حرج نهیں لیکن چونکه اجارے کی مدت طے نهیں کی گئی لهذا پهلی رات کے علاوه اجاره صحیح نهیں هے اور مالک مکان پهلی رات کے بعد جب بھی چاهے انهیں نکال سکتا هے۔