لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2633۔ هر وه پرنده جو شاهین، عقاب، باز اور شکرے کی طرح چیرنے پھاڑنے والا اور پنجے دار هو حرام هے اور ظاهر یه هے که هر وه پرنده جو اڑتے وقت پروں کو مارتا کم اور بے حرکت زیاده رکھتا هے نیز پنجنے دار هے، حرام هوتا هے۔ اور هر وه پرنده جو اڑتے وقت پروں کو مارتا زیاده اور بے حرکت کم رکھتا هے، وه حلال هے، اسی فرق کی بنا پر حرام گوشت پرندوں کو حلال گوشت پرندوں میں سے ان کی پرواز کی کیفیت دیکھ کر پهچانا جاسکتا هے۔ لیکن اگر کسی پرندے کی پرواز کی کیفیت معلوم نه هو تو اگر وه پرنده پوٹا، سنگدانه اور پاوں کی پشت پر کانٹا رکھتا هو تو وه حلال هے اور اگر ان میں سے کوئی ایک علامت بھی موجود نه هو تو وه حرام هے۔ اور احتیاط لازم یه هے که کو4ے کی تمام اقسام حتی که زاغ (پهاڑی کوے) سے بھی اجتناب کیا جائے اور جن پرندوں کا ذکر هوچکا هے ان کے علاوه دوسرے تمام پرندے مثلاً مرغ، کبوت اور چڑیاں یهاں تک که شتر مرغ اور مور بھی حلال هیں۔ لیکن بعض پرندوں مثلاً مرغ، کبوتر اور چڑیاں یهاں تک که شترمرغ اور مور بھی حلال هیں۔ لیکن بعض پرندوں جسیے هدهد اور ابابیل کو ذبح کرنا مکروه هے۔ اور جو حیوانات اڑتے هیں مگر پر نهیں رکھتے مثلاً چمگادڑ حرام هیں اور احتیاط لازم کی بنا پر زنبور (بِھڑ، شهدکی مکھی، تتیاً) مچھر اور اڑنے والے دوسرے کیڑے مکوڑوں کا بھی حکم هے۔
2634۔ اگر اس حصے کو جس میں روح هو زنده حیوان سے جدا کر لیا جائے مثلاً زنده بھیڑ کی چکتی یا گوشت کی کچھ مقدار کاٹ لے جائے تو وه نجس اور حرام هے۔
2635۔ حلال گوشت حیوانات کے کچھ اجزاء حرام هیں اور ان کی تعداد چوده هے۔
ص:501
1۔ خون۔
2۔ فضله۔
3۔ عضو تناسل۔
4۔شرمگاه۔
5۔ بچه دانی
6۔ غدود۔
7۔ کپورے۔
8۔ وه چیز جو بھیجے میں هوتی هے اور چنے کے دانی کی شکل کی هوتی هے
9۔ حرام مغز جو ریڑھ کی هڈی میں هوتا هے۔
10۔ بنابر احتیاط لازم وه رگیں جو ریڑھ کی هڈی کے دونوں طرف هوتی هیں۔
11۔ پته
12۔ تلی
13۔ مثانه
14۔ آنکھ کا ڈھیلا۔
یه سب چیزیں پرندوں کے علاوه حلال گوشت حیوانات میں حرام هیں۔ اور پرندوں کا خون اور ان کا فضله بلااشکال حرام هے۔ لیکن ان دو چیزوں (خون اور فضلے) کے علاوه پرندوں میں وه چیزیں هوں جو اوپر بیان هوئی هیں تو ان کا حرام هونا احتیاط کی بنا پر هے۔
2636۔ حرام گوشت حیوانات کا پیشاب پینا حرام هے اور اسی طرح حلال گوشت حیوان ۔ حتی که احتیاط لازم کی بنا پر اونٹ ۔ کے پیشاب کا بھی یهی حکم هے۔ لیکن علاج کے لئے اونٹ، گائے اور بھیڑ کا پیشاب پینے میں اشکال نهیں هے۔
2637۔ چکنی مٹی کھانا حرام هے نیز مٹی اور بجری کھانا احتیاط لازم کی بنا پر یهی حکم رکھتا هے البته (ملتانی مٹی کے مماثل) داغستانی اور آرمینیائی مٹی وغیره علاج کے لئے بحالت مجبوری کھانے میں اشکال نهیں هے۔ اور حصول شفاء کی غرض سے (سید الشهداء امام حسین علیه السلام کے مزار مبارک کی مٹی یعنی) خاک شفاء کی تھوڑی سی مقدار کھانا جائز هے۔ اور
ص:502
بهتر یه هے که خاک شفاء کی کچھ مقدار پانی میں ملا لی جائے تاکه وه (حل هوکر) ختم هوجائے اور بعد میں اس پانی کو پی لیا جائے۔
2638۔ ناک کا پانی اور سینے کا بلغم جو منه میں آجائے اس کا نگلنا حرام نهیں هے نیز اس غذا کے نگلنے میں جو خلال کرتے وقت دانتوں کے ریخوں سے نکلے کوئی اشکال نهیں هے۔
2639۔ کسی ایسی چیز کا کھانا حرام هے جو موت کا سبب بنے یا انسان کے لئے سخت نقصان ده هو۔
2640۔ گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا مکروه هے اور اگر کوئی شخص ان سے بد فعلی کرے تو وه حیوان حرام هوجاتا هے اور جونسل بدفعلی کے بعد پیدا هو احتیاط کی بنا پر وه بھی حرام هو جاتی هے اور ان کا پیشاب اور لید نجس هوجاتی هے اور ضروری هے که انهیں شهر سے باهر لے جاکر دوسری جگه بیچ دیا جائے اور اگر بدفعلی کرنے والا اس حیوان کا مالک نه هو تو اس پر لازم هے که اس حیوان کی قیمت اس کے مالک کو دے۔ اور اگر کوئی شخص حلال گوشت حیوان مثلاً گائے یا بھیڑ سے بدفعلی کرے تو ان کا پیشاب اور گوبر نجس هو جاتا هے اور ان کا گوشت کھانا حرام هے اور احتیاط کی بنا پر ان کا دودھ پینے کا اور ان کی جونسل بدفعلی کے بعد پیدا هو اس کا بھی یهی حکم هے۔ اور ضروری هے که ایسے حیوان کو فوراً ذبح کرکے جلادیا جائے اور جس نے اس حیوان کے ساتھ بدفعلی کی هو اگر وه اس کا مالک نه هو تو اس کی قیمت اس کے مالک کو دے۔
2641۔ اگر بکری کا بچه سورنی کا دودھ اتنی مقدار میں پی لے که اس کا گوشت اور هڈیاں اس سے قوت حاصل کریں تو خود وه اور اس کی نسل حرام هوجاتی هے اور اگر وه اس سے کم مقدار میں دودھ پئے تو احتیاط کی بنا پر لازم هے که اس کا استبراء کیاجائے اور اس کے بعد وه حلال هو جاتا هے۔ اور اس کا استبراء یه هے که سات دن پاک دودھ پئے اور اگر اسے دودھ کی حاجت نه هو تو سات دن گھاس کھائے اور بھیڑ کا شیر خوار بچه اور گائے کا بچه اور دوسرے حلال گوشت حیوانوں کے بچے ۔ احتیاط لازم کی بنا پر ۔ بکری کے بچے کے حکم میں هیں۔ اور نجاست کھانے والے حیوان کاگوشت کھانا بھی حرام هے اور اگر اس کا استبراء کیا جائے تو حلال هوجاتا هے اور اس کے استبراء کی ترکیب مسئله 226 میں بیان هوئی هے۔
2642۔ شراب پینا حرام هے اور بعض احادیث میں اسے گناه کبیره بتایا گیا هے۔ حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے روایت هے که آپ نے فرمایا: " شراب برائیوں کی جڑ اور گناهوں کا منبع هے۔ جو شخص شراب پئے وه اپنی عقل کھو بیٹھتا
ص:503
هے اور اس وقت خداتعالی کو نهیں پهچانتا، کوئی بھی گناه کرنے سے نهیں چوکتا، کسی شخص کا احترام نهیں کرتا، اپنے قریبی رشتے داروں کے حقوق کا پاس نهیں کرتا، کھلم کھلا برائی کرنے سے نهیں شرماتا، پس ایمان اور خدا شناسی کی روح اس کے بدن سے نکل جاتی هے اور ناقص خبیث روح جو خدا کی رحمت سے دور هوتی هے اس کے بدن میں ره جاتی هے۔ خدا اور اس کے فرشتے نیز انبیاء مرسلین اور مومنین اس پر لعنت بھیجتے هیں، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نهیں هوتی، قیامت کے دن اس کا چهره سیاه هوگا اور اس کی زبان (کتے کی طرح) منه سے باهر نکلی هوئی هوگی، اس کی رال سینے پر ٹپکتی هوگی اور وه پیاس کی شدت سے واویلا کرے گا۔"
2643۔ جس دستر خوان پر شراب پی جارهی هو اس پر چینی هوئی کوئی چیز کھانا حرام هے اور اسی طرح اس دستر خوان پر بیٹھا جس پر شراب پی جارهی هو اگر اس پر بیٹھنے سے انسان شراب پینے والوں میں شمار هوتا هو تو احتیاط کی بنا پر، حرام هے۔
2644۔ هر مسلمان پر واجب هے که اس کے اڑوس پڑوس میں جب کوئی دوسرا مسلمان بھوک یا پیاس سے جاں بلب هو تو اسے روٹی اور پانی دے کر مرنے سے بچائے۔