لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

2۔ وقت کی عادت رکھنے والی عورت

493۔ جو عورتیں وقت کی عادت رکھتی ہیں اور ان کی عادت کی پہلی تاریخ معین ہو ان کی دو قسمیں ہیں :۔

1۔ وہ عورت جسے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں معین وقت پر خون آئے اور چند دنوں بعد بند ہو جائے لیکن دونوں مہینوں میں خون آنے کے دنوں کی تعداد مختلف ہو۔ مثلاً اسے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں مہینے کی پہلی تاریخ کو خون آئے لیکن پہلے مہینے میں ساتویں دن اور دوسرے مہینے میں آٹھویں دن بند ہو۔ ایسی عورت کو چاہئے کہ مہینے کی پہلی تاریخ کو اپنی عادت قرار دے۔

2۔ وہ عورت جسے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں معین وقت پر تین یا زیادہ دن آئے اور پھر بند ہو جائے اور پھر دوبارہ خون آئے اور ان تمام دنوں کی تعداد جن میں خون آیا ہے مع ان درمیانی دنوں کے جن میں خون بند رہا ہے دس سے زیادہ ہو لیکن دوسرے مہینے میں دنوں کی تعداد پہلے مہینے سے کم یا زیادہ ہو مثلا پہلے مہینے میں آٹھ دن اور دوسرے مہینے میں نو دن بنتے ہوں تو اس عورت کو بھی چاہئے کہ مہینے کی پہلی تاریخ کو اپنی حیض کی عادت کا پہلا دن قرار دے۔

494۔ وہ عورت جو وقت کی عادت رکھتی ہے اگر اس کو عادت کے دنوں میں یا دادت سے دو تین دن پہلے خون آئے تو ضروری ہے کہ وہ عورت ان کا احکام پر عمل کرے جو حائض کے لئے بیان کئے گئے ہیں اور اس صورت کی تفصیل مسئلہ 486 میں گزر چکی ہے۔ لیکن ان دو صورتوں کے علاوہ مثلاً یہ کہ عادت سے اس قدر پہلے خون آئے کہ یہ نہ کہا جاسکے کہ عادت وقت سے قبل ہو گئی ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ عادت کی مدت کے علاوہ (یعنی دوسرے وقت میں) خون آیا ہے یا یہ کہا جائے کہ عادت کے بعد خون آیا ہے چنانچہ وہ خون حیض کی علامات کے ساتھ آئے تو ضروری ہے کہ ان احکام پر عمل کرے جو حائض کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ اور اگر اس خون میں حیض کی علامات نہ ہوں لیکن وہ عورت یہ جان لے کہ خون تین دن تک جاری رہے گا تب بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر یہ نہ جانتی ہو کہ خون تین دن تک جاری رہے گا یا نہیں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ کام جو مستحاضہ پر واجب ہیں انجام دے اور وہ کام جو حائض پر حرام ہیں ترک کرے۔

ص:103

495۔ جو عورت وقت کی عادت رکھتی ہے اگر اسے عادت کے دنوں میں خون آئے اور اس خون کی مدت دس دن سے زیادہ ہو اور حیض کی نشانیوں کے ذریعے اس کی مدت معین نہ کر سکتی ہو تو اخوط یہ ہے کہ اپنے رشتہ داروں میں سے بعض عورتوں کی عادت کے مطابق حیض قرار دے چاہے وہ رشتہ ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے زندہ ہو یا مردہ لیکن اس کی دو شرطیں ہیں :

1۔ اسے اپنے حیض کی مقدار اور اس رشتہ دار عورت کی عادت کی مقدار میں فرق کا علم نہ ہو مثلاً یہ کہ وہ خود نوجوان ہو اور طاقت کے لحاظ سے قوی اور دوسری عورت عمر کے لحاظ سے یاس کے نزدیک ہو تو ایسی صورت میں معمولاً عادت کی مقدار کم ہوتی ہے اسی طرح وہ خود عمر کے لحاظ سے یاس کے نزدیک ہو اور رشتہ دار عورت نوجوان ہو۔

2۔ اسے اس عورت کی عادت کی مقدار میں اور اس کی دوسری رشتہ دار عورتوں کی عادت کی مقدار میں کہ جن میں پہلی شرط موجود ہے اختلاف کا علم نہ ہو لیکن اگر اختلاف اتنا کم ہو کہ اسے اختلاف شمار نہ کیا جاتا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور اس عورت کے لئے بھی یہی حکم ہے جو وقت کی عادت رکھتی ہے اور عادت کے دنوں میں کوئی خون نہ آئے لیکن عادت کے وقت کے علاوہ کوئی خون آئے جو دس دن سے زیادہ ہو اور حیض کی مقدار کو نشانیوں کے ذریعے معین نہ کر سکے۔

496۔ وقت کی عادت رکھنے والی عورت اپنی عادت کے عالاوہ وقت میں آنے والے خون کو حیض قرار نہیں دے سکتی، لہذا اگر اسے عادت کا ابتدائی وقت معلوم ہو مثلاً ہر مہینے کی پہلی کو خون آتا ہو اور کبھی پانچویں اور کبھی چھٹی کو خون سے پاک ہوتی ہو چنانچہ اسے کسی ایک مہینے میں بارہ دن خون آئے اور وہ حیض کی نشانیوں کے ذریعے اس کی مدت معین نہ کر سکے تو چاہئے کہ مہینے کی پہلی کو حیض کی پہلی تاریخ قرار دے اور اس کی تعدا کے بارے میں جو کچھ پہلے مسئلہ میں بیان کیا گیا ہے اس پر عمل کرے۔ اور اگر اس کی عادت کی درمیانی یا آخری تاریخ معلوم ہو چنانچہ اگر اسے دس دن سے زیادہ خون آئے تو ضروری ہے کہ اس کا حساب اس طرح کرے کہ آخری یا درمیانی تاریخ میں سے ایک اس کی عادت کے دنوں کے مطابق ہو۔

497۔ جو عورت وقت کی عادت رکھتی ہو اور اسے دس دن سے زیادہ خون آئے اور اس خون کو مسئلہ 495 میں بتائے گئے طریقے سے معین نہ کر سکے مثلاً اس خون میں حیض کی علامات نہ ہوں یا پہلے بتائی گئی دو شرطوں میں سے ایک شرط نہ ہو تو اسے اختیار ہے کہ تین دن سے دس دن تک جتنے دن حیض کی مقدار کے مناسب سمجھے حیض قرار دے۔ چھ یا آٹھ دنوں کو اپنے حیض کو مقدار کے مناسب سمجھنے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ ساتھ دنوں کو حیض قرار دے۔ لیکن

ص:104

ضروری ہے کہ جن دنوں کو وہ حیض قرار دے وہ دن اس کی عادت کے وقت کے مطابق ہوں جیسا کہ پہلے مسئلے میں بیان کیا جاچکا ہے۔