لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
ان کی یہ تقریر نیمہ ماہ مقدس شعبان اور امام زمانہ علیہ السلام کی یوم ولادت کے حوالے سے تھی تقریر حسب ذیل ہے:
ان با برکت ایام میں مومنین نصف شعبان کی رات کا استقبال کرتے ہیں، اس عظیم رات کو امام جعفر صادق علیہ السلام نے بیان کرتے ہوئے فرمایا: "ی لیلۃ القدر کے بعد بہترین رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنا فضل کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کی بخشش کرتا ہے، "یہ اس لیے اس رات میں اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے کی کوشش کرو، وہ رات جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر لازم کر لیا ہے کہ سوائے ناجائز دعاوں کے کسی بھی سائل کو واپس نہیں کرے گا۔
رسول اللہ (ص) یہ ساری رات عبادتوں میں صرف کرتے تھے، کھڑے ہوتے، بیٹھے، رکوع اور سجدہ کرتے، اور جب آپ کی بیویوں میں سے ایک نے آپ سے اس رات میں عبادت میں مشغول رہنے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: کیا تم جانتی ہو یہ کون سی رات ہے؟ نصف شعبان کی رات! اس میں رزق تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس میں عمریں لکھی جاتی ہیں، اس میں حج کے وفد کے ارکان کے نام لکھے جاتے ہیں اور اللہ تعالی اس رات میں قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے، اور اس رات میں اس کے فرشتے آسمان سے ارضِ مکہ پر اترتے ہیں۔
اس بابرکت رات میں مومن کے لیے مستحب ہے کہ دعاؤں کی کتابوں میں مذکور اعمال مثلاً عمل، اور نماز اور دعاؤں کے ساتھ بیدار رہے، خاص طور پر اس رات کی مخصوص دعائیں۔ استغفار کرنا اور کثرت سے تو بہ کرنا بھی مستحسن ہے اور امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
اس بابرکت رات میں امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کی فضیلت میں بہت سی احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے۔ ۱۵ شعبان کی رات ایک لاکھ ۲۰ ہزار انبیاء آپ کام سے مصافحہ کریں گے اور اللہ کی بارگاہ میں اس سے ملاقات کی اجازت طلب کریں گے اور اس کو جنت کی بشارت دیں گے۔
آپ (ع) کے بارے میں ایک اور روایت میں ہے: "جو شخص اس رات قبر حسین (ع) کی زیارت کرے گا، خدا اس کے سابقہ اور آئندہ گناہوں کو بخش دے گا" اور امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص نصف شعبان کی رات کو قبر حسین (ع) کی زیارت کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے دیکھے گا، اس کے چہرے کو منور کرے گا، اور اسے جہنم کی آگ سے پناہ اور نفاق سے دوری عطا فرمائے گا۔