لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
امام حسین ؑ، ان کے کنبۂ باصفا اور اصحاب باوفا کی شہادت کو ۱۳۸۶ سال، یعنی تقریباً ۱۴؍ صدیاں گزرگئیں مگر ان کی صدائے مظلومیت کی بازگشت آج بھی مسلمانوں، مومنین اور دنیا کے حریت پسندوں کے کانوں میں جاری ہے:
’’هل من ناصر ينصرني؟‘‘ ’’ہے کوئی مددگار جو ہماری مدد کرے‘‘۔
یہ فریاد کسی شکست خوردہ یا غم زدہ انسان کی مدد کے لیے نہ تھی، بلکہ زمان و مکان سے ماورا ہرانسانی اور اسلامی ضمیر کیلئے پکار تھی، یہ فقرہ ایک عمومی دعوتِ فکر ہے کہ حسین علیہ السلام آج ہم سے کیا چاہتے ہیں؟۔
جواب سوال :
اول: امام حسین علیہ السلام چاہتے تھے کہ ہم ایک ایسی آزاد، باشعور قوم بنیں جو ہرقسم کی ذلت و غلامی کو مسترد کردے۔ یہی وہ نعرہ ہے جومولاؑ نے روز عاشوہ بلند کیا تھا:
’’اے لوگو! اس پسر خواندہ(عبیداللہ) ابن پسرخواندہ(زیادابن ابیہ) نے مجھے تلوار اور ذلت میں سےایک منتخب کرنے کو کہا ہے،اور ذلت کی زندگی حسین ابن علی ؑ کے لئے ناممکن ہے۔‘‘
سب سے پہلی چیز جو امام حسین علیہ السلام امت سے چاہتے تھے وہ حریت تھی: آزادئ ضمیر، آزادئ اظہاراور آزادئ انتخاب۔
حسینؑ کی خواہش تھی کہ آج کے مسلمان ظالموں اور جابروں کے آگے سر تسلیم خم نہ کریں، تحفظ، مفادات یا باطل اتحاد کے نام پر کسی طرح کی ذلت کو قبول نہ کریں۔ حسینؑ چاہتے تھے کہ ہم ناانصافی، جبر اور استبداد کی تمام شکلوں کو ٹھوکر مار دیں۔ اسی لئے مقامِ بیضہ میں امام حسینؑ کی گرجدار آواز گونجی:
’’جو کوئی ایسے ظالم حکمران کو دیکھے جو خدا کےحرام کو حلال سمجھتا ہو، عہدِ الہی کو توڑتا ہو، سنت رسولؐ کی مخالفت کرتا ہو، خدا کے بندوں پر ظلم و ستم کرتا ہو، اور وہ شخص اپنے قول و عمل سے اس حکمران کی مخالفت نہ کرے، تو خدا پر واجب ہے کہ ایسے انسان کو اسی ظالم کے ساتھ جہنم میں پھینک دے۔‘‘
دوم: امام حسین ؑ چاہتے ہیں آج وحدتِ امت اسلامیہ کی بنیاد حق پرستی ہو باطل کی پیروی نہیں۔
حسینؑ بیتِ وحدت و رحمت کے پروردہ تھے۔ ان کا گھر علیؑ و فاطمہ ؐکا گھر تھا، قرآن اور عدل کا مسکن تھا۔ لیکن جب دینِ مبینِ اسلام کو بے جان شکلوں اور نعروں میں تبدیل ہوتے دیکھا، اور خلافت کو ایک بکھری ہوئی ملکیت برائے فروخت پایا تو سر بکف اٹھ کھڑے ہوئے۔
آج، امام حسینؑ اسی امت کو اس حال میں دیکھ رہے ہیں:
• فرقہ وارانہ اور مذہبی تنازعات سے پارہ پارہ ہے۔
• مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کررہی ہے۔
• اتحاد کے نام پرصدائے حق کو خاموش کررہی ہے۔
مرضئ حسینؑ یہ ہے کہ قوم منافقت پر نہیں اصولوں پر متحد ہو۔ اسلام اخوت کا ذریعہ بنےتقسیم کا نہیں۔ قرآن کو بطورِآئین حیات اس کی حقیقی شکل میں بحال کیا جائے، محض دیواروں کی آرائش کا متن بن کر نہ رہے۔
مرضئ حسینؑ یہ ہے کہ ہمارے اتحاد کی بنیاد حقانیت ، عدل، فساد بیزاری، اورمحبتِ اہل بیتؐ پرقائم ہو، نہ کہ ہم اہل بیتؐ کی شان اقدس گھٹاکر متحد ہوں۔
سوم: امام حسین ؑ ایک ایسا اسلام چاہتے ہیں جس کے شب و روزعمل میں بسر ہوں، نعروں میں نہ گزریں۔
امام حسین علیہ السلام کسی دنیاوی طاقت و منفعت کے لیے نہیں اٹھے تھے لہذاصاف کہہ دیا:
’’میں صرف اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے اٹھا ہوں۔ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے نکلا ہوں۔
اما م حسینؑ آج امتِ اسلامیہ سے چاہتے ہیں کہ:
• اس کی نمازیں اسے عادل بنائیں ۔
• اس کےحج کا نتیجہ تقویٰ کی شکل میں نکلے ۔
• اس کا روزہ اسے گناہوں کے مقابلے صبر کرنا سکھائے مظالم کے سامنے نہیں۔
• حسینؑ کی محبت اسے حسینؑ کے طرز عمل تک پہنچائے اور حسینؑ پر بہایا آنسو اسے حسینی بنائے۔
امام حسینؑ آج چاہتے ہیں کہ مسلمان مذہب کو ظاہر تک محدود نہ رکھیں، بلکہ معاشروں کی تعمیر، ظالموں کےاحتساب، کمزوروں کی حمایت اور مسلمانوں کی یکجہتی کو فروغ دینے میں مذہب کا حقیقی کردار سامنے لائیں۔
چہارم: امام حسینؑ ایک ایسی فکری اور اصلاحی نشاۃ ثانیہ چاہتے ہیں جو جہل وجمود کو مٹا کر رکھ دے۔
اما م حسین علیہ السلام کا قیام عام حالات میں نہ تھا، بلکہ جہالت زدہ ماحول میں تھا، جس میں طاقت، ذہنوں کو گمراہ کرنے اور باطل کو دوام بخشنے کا آلہ بن چکی تھی۔
ہمارےاس دور میں بھی جہالت کم خطرناک نہیں ہے۔ بلکہ جدید شکلوں میں دوبارہ سر اٹھا رہی ہے:
• مذہبی جہالت ،بدکاری اور تشدد کو فروغ دیتی ہے۔
• ثقافتی جہالت، لوگوں کو سوشل اور جھوٹے میڈیا کا غلام بنا دیتی ہے۔
• سیاسی جہالت، قوم کو ظالموں کے جرائم پر خاموش کر دیتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام قوم کے اندرایسی فکری بالیدگی چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو حقیقی اسلامی افکار پر استوار کرے، اپنے بچوں کو ایسی تربیت دے کہ وہ باشعور ہوں تابعدار نہیں، سوال کرنے والے ہوںمتشکک نہ بنیں۔
آج مرضئ امام حسینؑ یہ ہے کہ قوم حضرت علیؑ کےمنہج ، امام باقرؑ کی فقہ ،امام صادقؑ کی عقل، اور امام سجادؑ کی تہذیب پر لوٹ کر آئے۔ یہ ائمہؑ کربلا کی عملی توسیع ہیں اور یہی فکرِ انسانی کو ایمان کی جانب لے جانے والے امام ہیں۔
پنجم: امام حسین علیہ السلام چاہتے ہیں کہ ان کا مقصدِقربانی ضمیر انسانی میں اپنی حقیقی شکل میں زندہ رہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:
’’ أحيوا أمرنا، رحم الله من أحيا أمرنا‘‘ ’’ہمارے امور کو زندہ کرو۔ خدا کی رحمت ہو ان پر جو ہمارے مقصد اور امورکو زندہ کرتے ہیں۔‘‘
آج امام حسین علیہ السلام چاہتے ہیں کہ یہ امت اسلامیہ، انہیں محض سال میں ایک مرتبہ یاد کرنے کی عادی نہ ہو بلکہ ان کی یاد کو زندہ و تابندہ رکھے:
• فکر اور ثقافت میں۔
• مواصلات اور تعلیم میں۔
• اپنے روزمرہ کے معمول اور سماجی روابط میں۔
• حق و ظؓلم کے مسائل میں۔
امام حسینؑ چاہتے ہیں کہ شعائر حسینی محض رسومات ِغم واندوہ ہونے کے بجائے، بیداری کی جائےمشق، تربیت کا گہوارہ،اور احیاء کا عملی مرکز ہوں۔
امام حسینؑ چاہتے ہیں کہ عشقِ حسینؑ ، ظالموں سے گریز، مظلوموں کی حمایت اورروشِ انبیاء کوزندہ کرنے کی ترغیب بنے۔
کربلا کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ عالم اسلام اور ہر اس شخص کے لیے ایک کھلا پیغام ہے جو اپنے دل میں ایک زندہ ضمیر رکھتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے دفن ہونے کے لیے نہیں بلکہ امت کو بیدار کرنے کے لیے شہادت قبول کی تھی۔ تاکہ اپنا خون ایسے حق طلب انسانوں کیلئے مشعل راہ بنا دیں جو آبرومندانہ زندگی کے خواہاں ہیں۔
اگر آج امام حسین ؑ اپنا وہی سوال اس امت کے سامنے دہرادیں:
’’هل من ناصر ينصرني؟ ’’ ہے کوئی ناصر جو میری نصرت کرسکے؟
تو اس سوال کا مقصد خون بہانے کا مطالبہ ہرگز نہیں بلکہ مقصد سوال یہ ہے کہ امت کا شعور بیدار ہو، ایک مستحکم موقف اختیار کیا جائے اورپائیدار راستہ چناجائے۔
مرضئ امام حسینؑ یہ ہے کہ آج ملت اسلامیہ اپنی اصل کو پلٹے، اپنی مٹی میں عزت و وقار کی خوشبو تلاش کرے، اپنے نور سے روشن ہو کر زمین پر عدل و انصاف قائم کرے، تاکہ اپنے زمانے میں اس فرمان الہی کی عملی تفسیر بن سکے:
خير أمة أُخرجت للناس ’’بہترین قوم جو بنی نوع انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے۔‘‘
السَّلام عَلَى الحُسَيْن، وَعَلَى عَليِّ بْنِ الحُسَيْنِ، وَعَلَى أوْلادِ الحُسَيْنِ، وَعَلَى أصْحابِ الحُسَين